مشرقیات

مشرقیات

ا ما م غزا لی ر حمتہ اللہ علیہ کو اللہ تعا لیٰ نے د ین کی ا تنی بڑی شخصیت بنا یا ا نکی ز ند گی کو آپ د یکھیئے ان کے پیچھے ان کی ما ں کا کردار نظر آ ئے گا۔ محمد غزا لی اور ا حمد غزا لی دو بھا ئی تھے یہ ا پنے لڑ کپن کے ز ما نے میں یتیم ہو گئے تھے ان دو نو ں کی تر بیت ا نکی وا لدہ نے کی ان کے با رے میں ایک عجیب با ت لکھی ہے کہ ما ں ا نکی ا تنی ا چھی تر بیت کر نے وا لی تھیں کہ وہ ان کو نیکی پر لا ئیں حتیٰ کہ وہ عا لم بن گئے ـ ا یک مر تبہ ا ما م غزا لی ر حمتہ اللہ علیہ نے ا پنی وا لدہ سے کہا ا می لو گ مجھ پر ا عترا ض کر تے ہیں کہ تو ا تنا بڑا خطیب ہے اور وا عظ بھی ہے اور مسجد کا امام ہے ،مگر تیرا بھا ئی تیرے پیچھے نما ز نہیں پڑھتا ا می آ پ بھا ئی سے کہیئے کہ وہ میر ے پیچھے نما ز پڑ ھا کرے ۔ما ں نے بلا کر نصیحت کی چنا نچہ ا گلی نما ز کا وقت آ یا امام غزا لی ر حمتہ اللہ علیہ نما ز پڑھا نے لگے اور انکے بھا ئی نے پیچھے نیت با ند ھ لی ۔لیکن عجیب با ت ہے کہ جب ایک ر کعت پڑھنے کے بعد دو سری ر کعت شرو ع ہو ئی تو انکے بھا ئی نے نما ز تو ڑ دی۔ اور جما عت سے با ہر نکل آئے ۔اب جب امام غزا لی ر حمتہ اللہ علیہ نے نماز مکمل کی ،ا نکو بڑی سبکی محسوس ہو ئی وہ بہت ز یا دہ پر یشان ہو ئے لہٰذامغموم دل کیسا تھ گھر وا پس لو ٹے ما ں نے پو چھا ! بیٹا بڑ ے پر یشا ن نظر آ تے ہو ۔کہنے لگے ا می بھا ئی نہ جا تا تو ز یا دہ بہتر ہو تا ۔یہ گیا اور ایک ر کعت پڑ ھنے کے بعد دو سر ی ر کعت میں وا پس آ گیا اور ا سنے آ کر ا لگ نماز پڑھی تو ما ں نے اسکو بلا یا اور کہا ،بیٹا تم نے ا یسا کیو ں کیا ؟چھو ٹا بھا ئی کہنے لگا امی!میں ان کے پیچھے نما ز پڑ ھنے لگا پہلی ر کعت تو انہو ں نے ٹھیک پڑ ھا ئی مگر دو سری ر کعت میں اللہ کیطر ف د ھیا ن کیبجا ئے انکا د ھیا ن کسی اور جگہ تھا اس لیئے میں نے انکے پیچھے نما ز چھو ڑ دی اور آ کر الگ پڑ ھ لی ـ ما ں نے پو چھا ا مام غزا لی سے کہ کیا با ت ہے ؟ کہنے لگے کہ ا می ! با لکل ٹھیک با ت ہے ۔میں نما ز سے پہلے فقہ کی ایک کتا ب پڑ ھ ر ہا تھا اور نفا س کے کچھ مسا ئل تھے جن پر غورو خو ض کر ر ہا تھا۔ جب نما ز شرو ع ہو ئی پہلی ر کعت میر ی تو جہ ا لی اللہ میں گزر ی لیکن دو سر ی ر کعت میں و ہی مسا ئل میر ے ذ ہن میں آ نے لگے ۔ ان میں تھو ڑ ی د یر کے لیے ذ ہن ملتفت ہو گیا۔اس لیے مجھ سے یہ غلطی ہو ئی۔ تو ما ں نے اس و قت ا یک ٹھنڈی سا نس لی اور کہا کہ ا فسوس تم دو نو ں میں سے کو ئی بھی میر ے کا م کا نہ بنا اس جواب کو جب سنا تو دو نو ں بھا ئی پر یشا ن ہو ئے اما م غزا لی ر حمتہ اللہ علیہ نے تو معا فی ما نگ لی ،ا می ! مجھ سے غلطی ہو ئی مجھے ا یسا نہیں کر نا چا ہیئے تھا ،مگر دو سرا بھا ئی پو چھنے لگا۔ا می مجھے تو کشف ہوا تھا اس کشف کی و جہ سے میں نے نما ز تو ڑی تو میں آپ کے کا م کا کیو ں نہ بنا ؟تو ما ں نے جو ا ب د یا کہ ''تم میں سے ایک تو مسا ئل کھڑا سو چ ر ہا تھا اور دو سرا پیچھے کھڑا اس کے دل کو د یکھ ر ہا تھا تم دو نو ں میں سے اللہ کیطر ف تو ایک بھی متو جہ نہ تھا لہٰذا تم دو نو ں میر ے کا م کے نہ بنے ۔سو چنے کی با ت ہے کہ جب ما ں ا یسی ہو تصو ف کے ا تنے با ر یک مسا ئل بچو ں کو بتا نے وا لی ہو تو پھر بچے بڑ ے ہو کر امام غزا لی کیو ں نہ بنیں گے۔۔۔؟

متعلقہ خبریں