ہے کوئی جو باغی کو جواب دے

ہے کوئی جو باغی کو جواب دے

سینئرسیاستدان جاوید ہاشمی نے اپنی پریس کانفرنس میں ملک میں احتساب کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے ہیں ان کی راست بازی اور قوت گفتار کا جواب جب تک نہ آئے تب تک ملک میں احتساب کے عمل پر قوم کا اعتماد نہیں ہوگا ۔ جاوید ہاشمی خود ابتلا کے دور سے گزرے ہوئے ایک ایسے بزرگ سیاستدان ہیں جن کی سیاست سے تو اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر کسی عہدے سے ان کی جانب سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوئی بات کبھی سامنے نہ آئی کرپشن اور بد عنوانی کا الزام تو ان کے مخالفین بھی نہیں لگاتے ایک بزرگ سیاستدان کی حیثیت سے انہوں نے جوسوال اٹھا یا ہے کہ وطن عزیز میں سوائے سیاستدانوں کے کبھی کسی اور کا احتساب کیوں نہیں ہوتا ۔ پانامہ پیپر ز میں جن جن کے نام آئے ہیں ان کا نام کیوں نہیں لیا جاتا واقعی لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے جن کے سامنے یہ سوالات رکھے ہیں وہ ان سوالوں کو صرف جاوید ہاشمی کے سوالات کے طور پر نہ لیں بلکہ انہوں نے پوری قوم کی نمائندگی کی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کا ہر آدمی ہر مرد و عورت جوان بوڑھا اور بچہ بچہ صاف اور شفاف احتساب چاہتا ہے اگر اس کا آغا ز وزیرا عظم سے کردیا گیا ہے تو عوام اس کا خیر مقدم ضرور کریں گے اگر احتساب کا یہ عمل وزیراعظم اور ان کے خاندان تک محدود رکھا گیا تو یہ احتساب نہیں کہلا ئے گا اور عوام کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہوں گی اور اگر قوم کو یہ اعتماد ہو اور وہ دیکھے کہ موجودہ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ سابق حکمرانوں ، ججوں ، جرنیلوں جرنلسٹوں ، بیور و کریٹس صنعت کاروں اور سرمایہ داروں سے لیکر معاشرے کے پست طبقے تک یہاں تک کہ ہر درجے کے سرکاری ملازمین سے بھی اگر یہ سوال پوچھا جائے کہ انکی آمدنی اور اخراجات میں توازن نہیں وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر زندگی کیسے گزار رہے ہیں ان کے پاس یہ دولت اور پیسہ کہاں سے آیا کن ذرائع سے انہوں نے پیسہ حاصل کیا کتنا ٹیکس دیا ۔ یہ سوالات اگر نواز شریف سے پوچھے جانے چاہئیں تو آصف زرداری اور عمران خان سے بھی اس کا استفسارہو نا چاہیئے خود جاوید ہاشمی کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چاہیئے ۔ ججوں اور جرنیلوں صحافیوں اور کاروباری حضرات سبھی سے بالائی سطح سے شروع کرکے آخری شخص تک کا احتساب کیا جائے ۔ احتساب کے عمل کو جب تک ایک شفاف اور قومی عمل نہیں بنایا جائے گا اور احتساب چنائو اور مقاصد کیلئے ہوتو اس کی کوئی وقعت نہیں ہوگی اگر اس ملک وقوم کو اپنے پائو ں پر کھڑا کرنا ہے تو اس کیلئے سی پیک سے زیادہ ضروری اہم اور سادہ عمل ملک سے بد عنوانی، رشوت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا خاتمہ ہے ۔ اس ملک کے عام آدمی کی حالت اس وقت ہی بہتر ہوگی جب با اثر بالا دست طبقہ ان کے حصے کی آمدنی پر ہاتھ صاف نہ کر سکے ۔ معاشرے کے جس طبقے میں بھی جائیں معاشی نا انصافی ہی نظر آئے گی کوئی ایسا طبقہ نہیں جو اپنے سے زیریں طبقے کو متاثر نہیں کرتا ۔ وطن عزیز کو قدرت نے ہر قسم کی دولت سے مالا مال کیاہے مگر یہاں عام آدمی ناں جو یں کا محتاج اس لئے بنکر رہ گیا ہے کہ یہاں معاشی انصاف نام کی کوئی چیز نہیں جب تک استحصالی اور بالادست طبقہ موجود ہے خواہ وہ جس عہدے پر ہواور اس کو جو بھی نام دیا جائے ملک کے غریب عوام کی حالت میں بہتری نہیں آسکتی ۔ اب جبکہ وزیراعظم کے خاندان کے احتساب کا عمل عدالتوں میں ہے ، عمران خان سے بھی سوال جواب کا مرحلہ آنے کو ہے تو کیا یہ بہتر موقع نہیں کہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی اس عمل سے گزر اجائے خواہ ان پر کوئی الزام ہو یا نہ ہو تاکہ عوام کو یہ تو معلوم ہو کہ کس صوبے کا وزیراعلیٰ کیسا ہے ۔ اس کے بعد وفاقی وزراء اور ججوں و جرنیلوں بیوروکریٹس خواہ وہ حاضر سروس ہوں یا ریٹائرڈ ان کو اس عمل سے گزارا جائے صحافیوں اور وکلاء سمیت تمام با اثر سمجھے جانے والے طبقات اور اشخاص کو اگر ایک مرتبہ احتساب کی چھلنی سے گزارا جائے اور ملک میں عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق صحیح معنوں میں احتساب ہو تبھی پانا مہ پیپرز سوئس بنکو ں اور دوبئی کے محلات کی حقیقت بھی سامنے آئے گی اور آئندہ کیلئے ملک میں کرپشن و بدعنوانی کا راستہ رک جائے گا ۔

متعلقہ خبریں