انصاف کا ہوتے ہوئے نظر آنا…(3)

انصاف کا ہوتے ہوئے نظر آنا…(3)

پاناما کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی رپورٹ آ چکی ہے۔ سپریم کورٹ میں پیش ہو چکی ہے۔ اس بیان بازی کے ذریعے مقدمے کی کارروائی سے عوام کو بدظن کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے تھی جو جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران تقریباً روزانہ ہوتی رہی۔ عدالت سے باہر عدالت لگانے کا رویہ صرف مسلم لیگ ن نے ہی نہیں اپنایا اپوزیشن پارٹیاں بھی اس حوالے سے پیش پیش رہیں۔ بار بار کہا گیا کہ وزیر اعظم نواز شریف مستعفی ہو جائیں۔ یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ پر الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ حالانکہ ابھی مقدمے کی سماعت جاری ہے۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات کا مرحلہ مکمل ہوا ہے۔مسلم لیگ ن کے ایک اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس رپورٹ میں جو الزامات لگے ہیں ان کو غلط ثابت کرنے کے لیے عدالت میں قانونی لڑائی لڑی جائے گی۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف کے اس مؤقف کے عین مطابق ہے جس کے تحت انہوں نے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے عدالت میں پیش ہونے کی پیش کش کی تھی تاکہ ان پر لگے ہوئے الزامات غلط ثابت ہوں اور انہیں سرخروئی حاصل ہو جائے۔ لیکن اپوزیشن کی طرف سے اس مطالبے میں تیزی آگئی ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف مستعفی ہو جائیں ۔ ابھی فیصلہ نہیں آیا اس سے پہلے ہی ان سے استعفیٰ کا مطالبہ یہ تاثر دیتا ہے کہ اپوزیشن کے اندازے کے مطابق ان پر جرم ثابت ہو جائے گا۔ یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو پہلے سے جاننے کا تاثر دینے کی کوشش ہے جو نامناسب ہے۔ فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے جس پر فریقین مکمل اعتماد کااظہار کر چکے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف جمہوریت کے لیے یا پارلیمنٹ کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ خطرے کی ہوائیں کہاں سے آ رہی ہیں؟ کیا سپریم کورٹ کی کارروائی سے؟ سپریم کورٹ نے فیصلہ ابھی کرنا ہے۔ فیصلے سے پہلے ایسی باتیں انتہائی نازیبا ہیں ان سے احتراز کیا جانا چاہیے۔کابینہ کا اجلاس طلب کیا جا چکا ہے امید ہے کہ اس میں بھی قانونی وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کی بجائے عدالتی کارروائی کو فیصلہ تک پہنچانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مستعفی ہونے کے فیصلے سے یہ تاثر قائم ہوگا کہ مقدمہ کا الزام اورجے آئی ٹی کی رپورٹ کو تسلیم کر لیا گیا ہے حالانکہ یہ محض رپورٹ ہے فیصلہ نہیں ہے۔ فیصلہ تو ابھی سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔ وزیر اعظم کے استعفیٰ نہ دینے کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دینے والے یہ وضاحت نہیں کرتے کہ خطرہ کس سے ہے تاہم اس سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ انہیں جمہوریت کے ساتھ اپنے مستقبل کی وابستگی کی بھی فکر ہے۔ مسلم لیگ ن کے لیڈر بالعموم کہتے ہیں کہ یہ مقدمہ ان کی پارٹی کے خلاف سازش ہے۔ وہ بھی یہ نہیں بتاتے کہ سازش کون کر رہا ہے۔ البتہ مسلم لیگ ن کے اتحادی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاناما دستاویزات کے حوالے سے تحقیقات کا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس کا انحصار بھی کہ یہ سازش ہے یا نہیں اور اس مقدمہ کا مقصد سی پیک کو منفی طور پر متاثر کرنا ہے یا نہیں یہ بھی مقدمے کے فیصل ہونے پر ہی واضح ہو گا۔ فرض کیجئے آج مقدمہ بغیر کسی فیصلے کے ختم ہو جاتا ہے تو عوام کے ذہنوں میں سازش اور سی پیک کو متاثر کرنے کی کوشش کے الزامات قائم رہیں گے اور یہ پاکستان کے جسد سیاسی کے تقویت کے حق میںنہیں ہوگا۔ ایک سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ احتساب صرف سیاستدانوں ہی کاکیوں ہوتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ جج اور جرنیل بھی صالح اور امین نہیں ہیں ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ احتساب اور انتقام کا نشانہ ہمیشہ سیاستدان بنے۔ ججوںاور جرنیلوںنے جرم کیا تو ان سے پوچھنے کی کسی کو جرأت نہ ہوئی۔ ان کی بات سے اتفاق ہی کیا جا سکتا ہے ۔ زیر ِ نظر مقدمہ میں وزیر اعظم سے پوچھنے کی جرأت بھی پاکستان میں کسی نے نہیں کی۔ نہ کسی جج یا جرنیل سے پوچھنے کی جرأت کسی نے کی۔ وزیر اعظم نواز شریف کے اہل خانہ پر الزام پاکستان میں کسی نے نہیں لگایا یہ الزام پاناما پیپرز کے انکشافات کے باعث لگا۔ اور ان کے علاوہ چار سو مزید پاکستانیوں پر پاناما پیپرز میں الزام لگا ہے۔ جہاں تک صرف سیاستدانوں پر الزام لگانے کی بات ہے ، سیاستدان اس لیے عوام کی نظروں میں ہوتے ہیں کہ عوام سے براہِ راست رابطہ کے مکلف سمجھے جاتے ہیں۔ عوام کے ووٹ لے کر عوام کی خدمت کے وعدے کرنے کے بعد اقتدار میں آتے ہیں۔ اپنے وعدوںپر پورا اترنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ہمہ وقت عوام کی نظروں میں ہوتے ہیں ۔ یہ عوام کے ووٹ سے ملک پر حکمرانی کرتے ہیں اور ان کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ یہ حکومت کے کاروبار کو دیانت کے تقاضوں کے مطابق چلائیں۔ ان کے دورِ حکومت میں جہاں کہیں خرابی ہو اس کا احتساب کریں ۔ اس طرح ان کے دور اقتدار میں جو جج یا جرنیل جرم کریں ان کا احتساب بھی حکمران سیاستدانوںکی اولین ذمہ داری سمجھی جائے گی۔ جو اہل سیاست حکومت میں ہوں ، اسمبلیوں میں ہوں ۔یا محض سیاست میں ہوں پہلے ان کی ذمہ اری ہو گی کہ وہ معاشرے میں بے انصافی کے خلاف میدان عمل میں آئیں ۔ اس کے بعد عوام کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ انہیں ان کی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔ جن حکمرانوں کے دور حکومت یانیابت میں جرم ہوا اس کا احتساب ان سب کی ذمہ داری تصور کی جانی چاہیے۔ اور اس ذمہ داری سے چشم پوشی اگر اعانت جرم نہیں تو غفلت مجرمانہ ضرور شمار کی جانی چاہیے۔اس قسم کی باتوں سے کہ فلاں کا احتساب پہلے کیا جائے فلاں کا بعد میں یا فلاں کا احتساب کیوں کیا جا رہا ہے فلاں کا کیوں نہیں، عدم احتساب کی صورت حال کے برقرار رہنے کی حمایت کا تاثر ابھرتا ہے۔ عدل کی حمایت کا نہیں ۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ افلاس میں معاشرے قائم رہ سکتے ہیں لیکن عدل کے بغیر معاشرے قائم نہیں رہتے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں