پاکستان میں تعلیم کے مسائل اور ان کا حل

پاکستان میں تعلیم کے مسائل اور ان کا حل

پاکستان میں اس وقت تقریباً دس کروڑ لوگ ناخواندہ ہیں جن میں سے تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ بچے ہیں۔ جہاں تک سکولوں میں داخل بچوں کی بات کی جائے تو اس وقت پاکستان کے سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں کم از کم 2کروڑ80 لاکھ بچے زیرِ تعلیم ہیں ۔سکولوں میں داخل ان بچوں کے پڑھنے اور سیکھنے کی بات کی جائے توغیر معیاری تعلیم کی وجوہات میں حکومت کی جانب سے تعلیم کے لیے مختص کئے جانے والے وسائل کی کمی ، خراب تعلیمی انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی اور سب سے بڑھ کر تعلیم حاصل کرنے کے مقاصدکو سمجھنے کی کمی شامل ہیں۔ یہ وہ عوامل ہیں جو پاکستان میں سکولوں سے باہر بچوں کی بڑی تعداد اوربچوں کی غیر معیاری تعلیم کے فروغ کا باعث بنتے ہیں۔تعلیمی اور نیورولوجیکل تحقیق کے مطابق بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جن میں وہ سیکھنے کے عمل سے گزرتا ہے اور یہ سیکھنے کا عمل بہتر زندگی گزارنے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سالوں میں نہایت احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ وہ بچہ بڑا ہو کر معاشرے کا مفید فرد بن سکے نہ کہ معاشرے پر بوجھ بنے۔ پاکستان میں اساتذہ کی جانب سے بچوں کو پڑھانے کے لئے تحکمانہ اور آمرانہ رویہ بچوں کے سیکھنے خراب نتائج کا سبب بنتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے بچے اپنی تعلیم مکمل کئے بغیر ہی سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اساتذہ کا یہی رویہ بچوں کے سیکھنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے جو انہیں مستقبل میں معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے سے بھی روکتا ہے۔ سرکاری سکولوں کی بات کی جائے تو سرکاری سکولوں میں معیارِ تعلیم کا براہِ راست تعلق انفرادی استاد اور اس کے پڑھانے کے جذبے سے ہوتا ہے۔ سکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری، خصوصاً دیہی علاقوں میں، کے علاوہ غیر معیاری نصاب ، درسی کتب کی چھپائی میں غلطیاں اور درسی کتب میں اِملا کی غلطیوں کے علاوہ تاریخی حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کرناوہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے ہمارا معیارِ تعلیم آج اس مقام پر ہے ۔ جسمانی سزا بچوں کی تعلیم مکمل کئے بغیر سکول چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں اردواور انگلش میڈیم کا دہرا نظامِ تعلیم معیارِ تعلیم میں اضافے کی بجائے کمی کا باعث بن رہا ہے۔ ملک کے بیشتر پرائیویٹ سکولوں میںذریعہِ تدریس انگلش ہے جو معاشرتی تفریق اور معاشی خوشحالی کی علامت بھی ہے۔ یہاں پر بھی بچوں کے سیکھنے میں استاد کا کردار سب سے اہم ہے کیونکہ سرکاری سکولوں میں استاد ہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ بچوں کو کیا پڑھنا ہے اور کس انداز میں پڑھنا ہے اور اس حوالے سے بچوں کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہے۔ ہمارا نظامِ تعلیم تجزیہ کرنے اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی بجائے رٹا لگا کر سیکھنے، اساتذہ کی مکمل پیروی اور اطاعت اور ایک طویل عرصے سے چلنے والے روایتی طریقہ کار کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ سرکاری سکولوں میں داخل زیادہ تر بچوں کے والدین ناخواندہ یا کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں اور وہ 'ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن' کے بارے میں کچھ نہیں جانتے جس کی وجہ سے 'پیرنٹ ٹیچر کونسل' کی میٹنگز بھی وہ نتائج حاصل نہیں کرسکتیں جن کی ان سے توقع کی جاتی ہے اور جس مقصد کے لئے یہ کونسلز بنائی گئی ہیں۔جس نظامِ تعلیم میں بچے کو مرکزی کردار حاصل ہوتا ہے اس میں تدریس کی تھیوری اور عملی تدریس کو انتہائی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ ایسے نظامِ تعلیم میں سیکھنے کے مراحل پر باقاعدہ تحقیق کے ساتھ ساتھ نصاب میں بھی عصری تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ مثالی نظامِ تعلیم کا مقصد بچوں کے سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوتا ہے نہ کہ نصابی کتب کا رٹا لگوانا ۔ ایک اچھا طریقہِ تدریس ہر بچے کے انفرادی طور پر سیکھنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے تاکہ ہر بچہ حاصل ہونے والی معلومات کا ایک الگ نقطہِ نظر بنا سکے۔ برطانیہ میں تدریسی فریم ورک اساتذہ کو اس وقت تک بچوں کی مد د کرنے کی اجازت نہیں دیتا جب تک وہ خود استاد سے معاونت طلب نہ کریں۔ اس طریقہِ کار میں استاد مرحلہ وار بچوں کی رہنمائی کرتا ہے تاکہ وہ ہر قدم پر پڑھنے کے ساتھ ساتھ سیکھتے بھی رہیں۔ جرمنی کا مونیٹسوری طریقہِ تدریس پوری دنیامیں مشہور ہے جس میں کھیل کود کے ذریعے بچے کی انفرادی سیکھنے کی صلاحیت پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ اس طریقہ کار میں نوعمری میں بچوں کو اعدادوشمار سے آگاہ کرنے کے لئے انہیں کلاس روم میں موجود مختلف اشیاء یا کھانے میں موجود اجزاء کو گننے کا کام دیا جاتا ہے۔جاپان میں کئے جانے والے ایک تجربے کے مطابق پری سکول کے بچوں کو باغ میں بٹھا کر پڑھانے سے ان کی ریاضی سیکھنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔پچھلے سال فِن لینڈ نے بچوں کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور کمیونیکشن کے جدید طریقے سیکھنے کے لئے ہاتھ کی لکھائی کو ختم کرتے ہوئے ڈیجیٹل رسم الخط کو رائج کر دیا تھا۔اگرچہ اوپر بیان کئے گئے تمام نئے طریقہِ کار متنازع بھی ہوسکتے ہیں لیکن یہ طریقہ ہائے کار تعلیم دینے کے تخلیقی ذرائع ضرور ہیں۔ہمارے ملک میں بھی معاشرتی، معاشی اور علاقائی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بچوں کو تعلیم دینے کے جدید اور تخلیقی طریقہ ِ کار اپنائے جانے چاہئیں جس کے لئے قانون سازی سب سے پہلا اقدام ہے۔ 

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں