عام آدمی کی اوقات

عام آدمی کی اوقات

کامن مین از دی سن آف نومین۔ عام آدمی کسی آدمی کا بیٹا نہیں ہوتا۔ یہ ہم نہیں کہتے کم و بیش پانچ ہزار سال پہلے ارسطو فرما چکے ہیں۔ لگتا ہے زمانہ قبل از مسیح میں ہی ہم جیسے چپڑقناتیوں کو مقتدر لوگوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار کرنے کی روایت قائم ہوچکی تھی جو اب تک قائم و دائم ہے۔ یقین نہ آئے تو قومی خدمات کے کسی ادارے میں جا کر اپنی اوقات کا اندازہ لگا لیں۔ عام آدمی ان اداروں میں سرخ قالینی پروٹوکول نہیں مانگتا' اسے اکیس توپوں کی سلامی کی خواہش بھی نہیں ہوتی۔ نہیں چاہتا کہ اسے پھولوں کے ہار پہنا کر کاندھے پر اٹھا لیا جائے۔ وہ تو صرف انسانوں جیسے سلوک کی توقع رکھتا ہے جو اس کا حق بنتا ہے۔ کیونکہ یہ تمام قومی خدمات کے ادارے اس کی خون کی کمائی سے چلائے جاتے ہیں۔ ایسا مگر نہیں ہوتا۔ قومی خدمات کے اداروں میں بیٹھے فرعونوں سے آپ کا واسطہ پڑ جائے ' تھانہ کچہری جانا پڑے' بجلی اور گیس کے بلوں کی درستگی کی ضرورت پیش آئے' پاسپورٹ یا شناختی کارڈ کی تجدید درکار ہو' تب آپ کو اپنی اوقات کا اندازہ ہو جائے گا۔ گزشتہ ہفتے جب ہم اپنے بھانجے کے نو خرید مکان کے لئے گیس لگوانے کے لئے مقامی دفتر گئے تو یقین کریں پورے دو گھنٹے تک ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک فٹ بال کی طرح اچھالے جانے کے بعد صرف یہ پتہ لگانے میں کامیاب ہوسکے کہ جی ہاں! آپ کی گلی میں گیس کی پائپ بچھانے کی منظوری ہوچکی ہے تو پھر؟ پھر یہ کہ بس آپ کو ذرا اپنے بھانجیا کا نام گیس کے کنکشن کے لئے رجسٹر کرانا پڑا۔ رجسٹریشن ہمیں بہ ظاہر ایک سادہ سا لفظ لگا مگر اس کے لئے ہمیں جو ہفت خواں طے کرنے کے مراحل سے گزرنا پڑا حاتم طائی کو بھی سات سوالوں کے جواب ڈھونڈنے میں کیا پیش آئے ہوں گے۔ یوں سمجھئے ہمیں اژدھا کے منہ پڑے دھاگے کی ضرورت پڑ گئی تھی۔ اصل اژدھے کو تو آپ پھر بھی رام کر لیں گے' اژدھے کی طرح پھنکارتے ہوئے انسان کو قابو میں لانا نہایت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ فائل کے لئے ضروری دستاویزات فراہم کیں اور متعلقہ سیکشن کے کارندے کی خدمت میں دست بستہ حاضر ہوئے۔ شرف باریابی کی اس شبھ گھڑی میں اسی دفتر کے ایک دیرینہ شاگرد کی راہنمائی بھی حاصل تھی۔ آدھا گھنٹہ بعد انہوں نے بادل نخواستہ فائل کی طرف دست شفقت بڑھایا' کاغذات کا جائزہ لیا اور فائل ہماری جانب اچھالتے ہوئے ارشاد فرمایا' نا ممکن' ہم نے منمناتے ہوئے عرض کیا اس گلی میں کچھ لوگوں کی رجسٹریشن آپ کرچکے ہیں۔ ہمیں پہلی بار اس مرد خود پرست کی قوت اور دائرہ اختیار کا اندازہ ہوا۔ انہوں نے بڑی شان استغناء سے فرمایا وہ سب درخواستیں ہم منسوخ کر چکے ہیں۔ انہوں نے ہماری درخواست پر نظر ثانی کی اپیل موقع پر ہی مسترد کردی۔ اب ان سے مزید بحث و جرح کی گنجائش باقی نہ رہی تھی۔ اب ہم اپنے نا کردہ گناہوں کا بوجھ کاندھے پر لادے ایک دوسرے سیکشن کے انچارج کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ شریف آدمی تھے' ہماری کبرسنی پر رحم کرتے ہوئے درخواست کو قبول کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ اس طرح دو گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد ہمارے بھانجے کے گھر کے لئے گیس کنکشن کی رجسٹریشن ممکن ہوسکی۔ ڈرتے ڈرتے ایک اہلکار سے پوچھا' یہ کنکشن کب تک ممکن ہوسکے گا۔ انہوں نے پہلے تو ہمیں میرٹ کی پاسداری پر ایک طویل لیکچر دیا' محکمے کی دیانت و امانت سے آگاہی بخشی اور پھر ارشاد فرمایا کہ جیسے زندگی کے خاتمے کی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی اسی طرح یہ پوشیدہ راز آپ کو بھی نہیں بتایا جاسکتا۔ آپ وقت مقررہ و موعودہ سے پہلے کسی سفارشی حربے کے ذریعے کنکشن حاصل کرنے کا خیال تک بھی دل میں نہ لائیں۔ اس وقت مقررہ کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں گے۔ آسمان کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے فرمایا۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔ اللہ کے کاموں میں ہم جیسے مجبور و مقہور انسانوں کا کیا دخل ہوسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے گیس کنکشن کے لئے ہمیں قیامت کے تیسرے دن تک انتظار کرنا پڑے۔ ظاہر ہے غسل میت کے لئے بھی گرم پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس روز تک کنکشن مل جائے تو بھی غنیمت ہے۔ ان خدشات کا اظہار ہم نے اس اہلکار سے بھی کیا۔ بولے خدا آپ کو عمر خضر عطا فرمائے۔ بہر حال یہ میرٹ کا معاملہ ہے اور اس میں صدر مملکت کی سفارش بھی نہیں مانی جاتی۔ اب دیکھتے ہیں قضا و قدر کے دفتر سے ہمارے بھانجے کے مکان کو گیس کی فراہمی کے احکامات کب صادر ہوتے ہیں البتہ ہم اتنا ضرور کریں گے ہم جیسے لوگ قومی خدمات کے اداروں میں نہ ریڈ کارپٹ استقبالیہ چاہتے ہیں' نہ اکیس توپوں کی سلامی کی خواہش ہوتی ہے' بس ایک سائل قومی خدمات کے اداروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے سیدھے منہ بات کرنے کی توقع ضرور رکھتا ہے۔ اللہ انہیں سائل سے انسانوں جیسا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

متعلقہ خبریں