وکاس ،نراس اور اماوس

وکاس ،نراس اور اماوس

یہ حقیقت ہے کہ موجودہ دو ر میں ترقی کا پہیہ بہت عر صہ بعد چل پڑا تھا ، مگر پاکستان کو کسی کی نظر لگ گئی ہے کہ جب بھی تر قی اور شادمانی کا دور شروع ہوتا ہے تو اس کو اماوس کا عفریت نگل لیتا ہے۔ اس پر تبصرے کی ضرورت نہیں ہے کہ سیا سی استحکا م ہی ملک کی خوشحالی کا ضامن ہوتا ہے اور کچھ قوتیں پاکستان میں سیاسی عدم استحکا م پیدا کردیتی ہیں۔چنا نچہ جب سے پاکستان ایٹمی قوت بنا ہے ،تب سے پا کستان دشمن قوتیں یہ جان گئی ہیں کہ پاکستان کو حربی شکست تو نہیں دی جاسکتی چنا نچہ اس کے لیے اب یہ راستہ اختیا ر کیا گیا ہے کہ پاکستان کا گھیر اؤ کر کے افراتفری بپا کی جا ئے تاکہ پاکستان ہر شعبے میں عد م استحکا م کا شکار ہوکر رہ جائے ۔ چنانچہ یہ دیکھنے میںآیا ہے کہ 2013ء کے انتخابات سے پہلے بھی اور خا ص طورپر اس کے بعد سے پاکستان میں سیاسی ہنگا مو ں کی ہا ہا کا رمچی ہوئی ہے جس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاہے ۔ پہلے دھاندلی کی تر پ چالیں چلی جا تی رہیں اور اب پا نا ما کے نا م پر جو کر لگا کر بریج لگا ئے گئے ، جے آئی ٹی کی رپورٹ کیا ہے یہ کھیل ہے نہ سمجھ آنے کا مگر سمجھ میں آبھی رہا ہے مگر اس کی تشریح ہر کوئی اپنے طورپر کر رہا ہے ایک نہیں کئی مبصر کہہ رہے ہیں کہ آئند ہ چند گھنٹے اہم ہیں کسی کی بھنت(طرز ، طریقہ ) یہ ہے کہ میا ں صاحب گئے ، ساتھ ہی یہ کہہ کر ڈرا رہے ہیں کہ جس دن جے آئی ٹی نے رپو رٹ پیش کی اسی روز کو ر کما نڈر کانفر نس بھی ہوئی ہے جس میں مختلف امو ر کے علا وہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج ملک میں انتشار سے نمٹنے کو تیا ر ہے ۔ بھئی انتشار نہ پھیلا ؤ ، سید ھی سی بات ہے بات کا بتنگڑبنا نے کی ضرورت کیا ہے ، سب جا نتے ہیں کہ دہشت گردی کی صورت میں ملک میں دہشت و انتشار ہے جس سے فوج ہی نمٹ پا رہی ہے اوریہ صلا حیت کسی اور ادارے میں نہیںہے ۔ کر اچی کا انتشار کس نے کنٹرول کیا اس پر بحث کی ضرورت ہے کیا ْ؟ ۔ اب جو وقت رہ گیا ہے اس میں عام انتخابات ایک سال کی دوری پر کھڑے ہیںاور یہ بھی آشنائی ہے کہ اب الیکشن سے قبل کسی کے وزیر اعظم بننے کے امکا نا ت نہیں رہے ہیں اب بنے گا بھی تو چھ ما ہ کے لیے ہو گادر اصل بے چینی یہ ہے کہ اپو زیشن کو ایک کا میا بی یہ مل گئی ہے کہ جے آئی ٹی نے رپورٹ چاہے متنا زعہ سہی پیش کر کے میا ں نو از شریف کے خاندان کے خلا ف اپو زیشن کے منہ میں زبان ڈال دی ہے اور مسلم لیگ ن کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا ہے ، سیا ست کا کھیل ہو یا کرکٹ کا کھیل یا پھر میدان جنگ کا کھیل ہو جو فریق دفاعی پوزیشن میں چلا جا تا ہے وہ یقینی طو رپر شکست سے دوچارہوتا ہے ، چنا نچہ جے آئی ٹی رپورٹ سے میڈیا وار میں مسلم لیگ ن دفاعی پو زیشن پر جا پہنچی ہے جب تک عوام اس امرسے آگا ہ نہ ہو ں گے کہ رپو رٹ کیا ہے تو اس وقت تک مسلم لیگ (ن) بحرانی کیفیت سے نہیں نکل سکے گی ۔ جب سے جا وید ہا شمی نے تحریک انصاف سے خلع لیا ہے تب سے وہ دل ہلا دینے والے انکشافا ت کر رہے ہیں یہ تو ان کے شدید ترین سیا سی مخالف بھی تسلیم کر تے ہیںکہ جا وید ہاشمی طالب علمی کی سیاست سے اب تک اپنے کو رے دامن شفاف سیاست کے ساتھ کھڑ ے ہیں انہو ں نے جو کہا وہ سچ تسلیم کیا گیا ہے اب وہ پھر نا طق ہو ئے ہیں کہ سپر یم کورٹ کا بینچ پانا ما کیس کی سماعت کا حق کھو چکا ہے ، اس لیے ان کو سما عت نہیں کر نا چاہیے ، یہ کیس سننے کا حق نہیں رکھتے ۔ دنیا کی کسی عدالت نے کبھی جے آئی ٹی نہیں بنائی ، انہو ں نے یہ بھی اکتشاف کیا کہ ملک کے خلا ف سازشیں عروج پر ہیں ساتھ ہی یہ خدشہ ظاہر کر دیا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ پر یس کا نفر نس ان کے سیا سی کیر ئیر کی آخر ی پر یس کا نفر نس ہو،یہ خدشہ نہ جا نے ہا شمی صاحب کو کیو ں ہوا ہے ، جا وید ہا شمی تحریک سے قطع تعلق ہو کر دلچسپ انکشافات کرنے لگے ہیں ۔ فرما تے ہیںکہ پرویز مشرف چوری چھپے فوج سے بھا گ گیا تھا پھر اس کو پکڑ لائے اور اب وہ بادشاہ بن کر باتیں کرتا ہے ، ایسے انکشافات ہا شمی صاحب کر رہے ہیں تو صحیح ہو ں گے کیوں کہ کہا جا تا ہے کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ۔ جے آئی ٹی رپو رٹ پر اس وقت تبصروں ماہر انہ بلکہ غیر ماہرانہ رائے اوررویو ں کا جمعہ بازار لگا ہو اہے ۔( تاہم جن افر ادکو ملک میں سنجید ہ سمجھا جا تا ہے) ان کی رائے کو اہمیت حاصل ہے انہی میں سے ایک صاحب رائے کا کہنا ہے کہ ٹھنڈے دماغ سے جا ئزہ لیا جائے۔ تو جے آئی ٹی نے وزیر اعظم نو ا ز شریف کو نا اہلی اور برطرفی سے بچالیا ہے ۔ اندر خانہ یہ رپو رٹ شریف خاندان کے حق میں ہے تبھی اپو زیشن جماعتیں جا رحانہ ردعمل دے رہی ہیں ۔مو صوف کو کسی حدتک درست اندازہ ہے کہ اپو زیشن جما عتیں اس لیے گردے چھیل رہی ہیں کہ آئندہ چند ما ہ میں انتخابی مہم کا آغاز ہوا چاہتا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کے پاس میدان میں اتر نے کے لیے کوئی مثبت لائحہ عمل تو ہے نہیں اسی کو انتخابی اسسٹنٹ کے طورپر اپنا یا جا ئے ، رپو رٹ میںجو الزامات لگا ئے گئے ہیں وہ مفر وضوں کی بنیا د پر ہیںکہ سورس سے معلو م ہو ا ہے اور قانو نی شہادت میں سورس کی کوئی حیثیت نہیں ہوا کرتی ، خیر الزاما ت سے ہٹ کر رپو رٹ کا سب سے اہم حصہ اس کی تجا ویز کا ہے جو عدلیہ کو اس کیس سے نمٹنے کے لیے دیا گیا ہے ۔ رپو رٹ میں کسی مقام پر یہ نہیں کہا گیا ہے کہ دستیا ب شہادتوں کی بنیا د پر وزیراعظم کو نااہل کیا جا ئے یا ان کو بر طرف کر دیا جا ئے یا پھر سیا سی یا عوامی عہد ے کے لیے نا اہل قرا ردید یا جائے اور نہ ہی ان کے صاحبزادوں اورصاحبزادی کے لیے ایسی کوئی تجو یز پیش کی گئی ہے، نہ آئین کے آرٹیکلز 62. 63کو روبہ عمل لا نے کو کہا گیا ہے ۔ رپورٹ کا جائزہ یہ کہتا ہے کہ کمیٹی نے رحما ن ملک کے بیانا ت پر انحصار کیا ہے اور نیب کے مقدما ت کے حوالو ں سے مدد لی ہے چنا نچہ مزید گہر ائی میںجا کر دیکھنے اور اسے تفصیلاً ًدیکھنے کے لیے نیب کے حوالے کر دینے کی تجو یز دی ہے ۔ البتہ سیا سی گرما گرمی کے لیے فی الحال ماحول بن گیا ہے جس سے نمٹنا مسلم لیگ ن کی ذمہ داری ہے وہ اس سے کس طرح نبرد وآزما ہو تی ہے یہ اس کی سیا سی زندگی سے متعلق ضرور ہے ۔

متعلقہ خبریں