بلوچستان کا مسئلہ(2)

بلوچستان کا مسئلہ(2)

بات اگر پرویز مشرف اور ان کی پالیسیوں تک ہی محدود رہتی اور اسکے بعد حالات میں بہتری جنم لینے لگتی کہ ملک میں جمہوریت تھی تو شاید معاملات تب بھی سنبھالے جا سکتے تھے ۔ ہم نہایت آرام و سکون سے ، سارا ملبہ اپنی فوج کی گو د میں ڈالتے ۔ آمریت کو برا بھلا کہتے اور بات ختم ہو جاتی ۔ ہم بحیثیت قوم ہنسی خوشی رہنے لگتے ۔ لیکن نہ بات یہاں تک رہی اور نہ ہی ہم نے اپنے گزشتہ تجربات سے کوئی سبق سیکھا ۔ یہ اس لیے بھی مشکل تھا کیونکہ ملک کے فیصلے ، اسکے مستقبل کی پالیسیاں حکمران طے کرتے ہیں ۔ اور ہمارے حکمر انو ں کا عالم تو یہ ہے کہ یہ مجرم ثابت ہو جانے کے بعد بھی بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ وہ مستعفی نہ ہونگے کیونکہ وہ چلے گئے تو انکے ساتھ جمہوریت چلی جائیگی جیسے جمہوریت ان کی لے پالک بچی کانام ہے ۔ یہ جہاں جائینگے ، وہ بابا ، بابا کہتی انکے پیچھے ہو لے گی اور انہیں بچانے والے بھی اس قوم کو یہی جھانسا دیتے رہے ہیں لیکن کیا یہ اس ملک و قوم سے انصاف ہے جو اس ملک میں بار بار دہرایا جاتا ہے ۔ ہم مسائل جنم دیتے ہیں اورپھر ان مسائل کا حل نہیں چاہتے ۔ بلوچستان کا حصہ یقینا این ایف سی ایوارڈ میں بڑھا یا جا چکا ہے لیکن کیاحصہ بڑھا دینے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی بیوروکریسی بلوچستان کے سیاست دانوں کو یہ سمجھانے ، انکی استعد اد بڑھانے کی کوشش کی گئی کہ وہ اس رقم کا بہتر استعمال کیسے کر سکتے ہیں ۔ کیسے صوبے کے وسائل کو صوبے کی ترقی کے لئے بہتر طور استعمال کیا جانا چاہیئے ۔ ہم نے کبھی یہ بھی نہیں سوچا کہ وہ لوگ جنہیں ہم مسلسل ناراض کرتے رہے ہیں وہ ہمارے اپنے ہی لوگ تھے ۔ انہیں ہم نے ہی ناراض کیا ۔ اگر وہ روٹھ گئے تھے تو ہمیں انہیں منا لینا چاہیئے تھا ۔ہمارے حکمرانوں کا روز اول سے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کہ خود فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ کچھ چیزوں پر بیرونی دبائو میں فیصلہ کرتے ہیں اور بقیہ ماندہ باتوں میں ہمیشہ اس ذہنی عمر میں رہتے ہیں جس میں انسان محض اثرات قبول کرتا ہے ۔ جسے عام فہم میں impressimable ageکہا جاتا ہے ۔ میں کئی بار سوچتی ہوں کہ یہ بات تو درست ہے کہ ہماری قوم ابھی دیگر قوموں کی عمر کے حساب سے ایک نوجوان قوم ہے لیکن ہمارے حکمران تو بیچارے سارے ہی بڑی نا پختہ عمر کے رہے ہیں ۔ جس نے چاکلیٹ دکھائی اُسی کے پیچھے ہو لیتے ہیں ۔ اور قوم مسلسل مسائل کا شکار رہتی ہے ۔ اگر ایک بار ضیاء الحق نے بلوچستان کے سرداروں کو ساتھ چلانے کی کوشش کی، اقتدار میں آتے ہی حیدر آباد ٹریبونل کو توڑ دیا ، جو اس وقت بلوچ سرداروں کے خلاف مقدمات سن رہاتھا جس سے یہ لوگ کئی سالوں تک خوش بھی رہے ، تو بھی اس کو شش کو کبھی بلوچ سرداروں سے آگے بڑھانے کی کوشش نہ کی گئی ۔ بلوچستان کا اپنا ایک مزاج ہے ۔ اپنی روایات ، اپنے طور طریقے ہیں لیکن بلو چستان سے بحیثیت مجموعی رویہ بدلا جا سکتا تھا ۔ بلو چستان کو اس ذہنی اور معاشرتی عمر سے آزاد کرنے کی کوشش کی جا سکتی تھی جس نے آج تک اس معاشرے کو یوں باندھ کر رکھا ہو اہے ۔ معاشرے نظام کو چلتا دیکھیں تو رک نہیں جایا کرتے کہ اس نظام کے پاس سے تو وہ ذرا پائو ں مار کر بھی نہ گزریں گے کہ کہیں نظام درہم برہم نہ ہو جائے معاشرے ترقی کیا کرتے ہیں اور اس ترقی میں اپنے نظام کو حصہ بنا لیتے ہیں ۔ بلوچستان میں سرداری نظام اچھا کام کر رہا تھا تو اسے ترقی کا حصہ بنا لیتے ۔ ہم ہمیشہ پہلا لکھا مٹانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے معاملات بگڑ جاتے ہیں ۔ اور پھر پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت سے تو منکر ہو نہیں سکتا چنانچہ ارد گرد کے ملکوں کی نظریں ہمیشہ اس ننھے سے ملک پر جمی رہتی ہیں کہ کب کوئی جنبش ہو اور وہ اس کا فائدہ اٹھا سکیں ۔ بلوچ سرداری نظام یوں بھی چلا یا جا سکتا تھا کہ بلوچستان میں ترقیاتی سکیمیں چلتی رہتیں اور بلوچ سرداربھی قائم رہتے ۔ ایک عمومی ترقی ، سہولیات کی فراہمی ، دکھائی دیتی ۔ کئی سردار آج ایسے بھی ہیں جو اپنے لوگوں کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں ۔ انہیں تلاش بھی کیا جا سکتا تھا ۔ برطانیہ میں بادشاہت آج بھی قائم ہے اور اس بادشاہت کے سائے تلے جمہوریت اپنا کام پوری دلجمعی اور آزادی سے سر انجام دیتی رہتی ہے ۔ ایسا ہی کوئی معاملہ یہاں بھی ہو سکتا تھا ۔ لیکن یہ سب اسی صورت میں ممکن تھا جب حکمرانوں میں کچھ بہتری جنم دینے کی چاہ ہوتی ۔ انہوں نے اپنی آسانی کے لیے معاملات صرف بلوچ سرداروں تک محدود رکھے اس سے آگے کیا ہو رہا ہے اسکی جانب کبھی دیکھنے کی کوشش ہی نہ کی ۔ ہماری غلطیوں کا فائدہ بھارت نے بھی اٹھایا اور ان ملکوں نے بھی جو بظاہر ہمارے دوست دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ پاکستان سے انہیں فائدہ زیادہ ہے یا نقصان۔ سی پیک کے نتیجے میں یہ پریشانی اور بھی بڑھ گئی ہے ۔ پاکستان میں کتنی ترقی ہو رہی ہے اس سے زیادہ ان کی نظر اس بات پر ہے کہ اس سب کا انہیں کیا نقصان ہو سکتا ہے ۔ پاکستان ان کے مخالفین کو کتنا فائدہ پہنچا سکتا ہے اور پاکستان نے کبھی ان کا کتنا ساتھ دینے کی کوشش کی ہے ۔ ان کے ذہنوں کے سوالات ہمیں بھی سمجھ لینے چاہئیں تاکہ ہماری پالیسی صاف صاف وضع کی جاسکے ۔ اور یہ تبھی ہوگا جب ہمارے حکمران بدلیں گے ۔ اور جب لیٹروں کو سزا ئیںہوںگی ۔جب ہمارے معاشرے میں یہ ہمت پیدا ہوگی کہ وہ اپنی اپنی بدعملی ، نا انصافی اور بزدلی چھوڑ کر کسی بڑے آدمی کو قرار واقعی سزادے سکے ۔ تب یہ معاشرہ بھی درست ہوگا اور ہمارے مسائل بھی حل ہونے لگیں گے ۔

متعلقہ خبریں