مشرقیات

مشرقیات

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت حجاج بن علاط بہزی سلمی رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کی صورت یہ ہوئی کہ وہ اپنی قوم کے کچھ سواروں کے ساتھ مکہ کے ارادے سے نکلے رات کو یہ لوگ ایک وحشت ناک اور خوفناک وادی میں پہنچے تو گھبرا گئے ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا اے ابو کلاب! (یہ حضرت حجاج کی کنیت ہے) اٹھو اور اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے ( اس وادی کے سردار جن سے) امن مانگو۔ حضرت حجاج نے کھڑے ہو کر یہ اشعار پڑھے۔(ترجمہ) '' میں اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو ہر اس جن سے پناہ دیتا ہوں جو اس پہاڑی راستے میں موجود ہے تاکہ میں اور میرے سوار ساتھی صحیح سالم اپنے گھر واپس پہنچ جائیں''۔اس کے بعد حضرت حجاج نے کسی نظر نہ آنے والے کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا (ترجمہ)'' اے گروہ جن اور انسان کے! اگر تم کو یہ قدرت ہے کہ آسمان اور زمین کی حدود سے کہیں باہر نکل جائو تو (ہم بھی دیکھیں) نکلو مگر بدون زور کے نہیں نکل سکتے (اور زور ہے نہیں پس نکلنے کا وقوع بھی محتمل نہیں)'' (سورة رحمان آیت 33)۔ جب یہ لوگ مکہ پہنچے تو انہوں نے قریش کی ایک مجلس میں یہ بات بتائی قریش نے کہا اے ابو کلاب! آپ ٹھیک کہہ رہے ہو اللہ کی قسم! یہ کلام بھی اسی کلام میں سے ہے جس کے بارے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعویٰ کرتے ہیں کہ ان پر یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ حضرت حجاج نے کہا اللہ کی قسم! خود میں نے بھی سنا ہے اور میرے ساتھ ان لوگوں نے بھی سنا ہے۔ یہ باتیں ہور ہی تھیں کہ اتنے میں عاصی بن وائل آیا۔ لوگوں نے اس سے کہا اے ابو ہشام! ابو کلاب جو کہہ رہا ہے کیا آپ نے وہ نہیں سنا؟ اس نے پوچھا ابو کلاب کیا کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے اسے ساری بات بتائی اس نے کہا آپ لوگ اس پر تعجب کیوں کر رہے ہیں؟ جس جن نے ان کو وہاں یہ کلام سنایا ہے وہی جن یہ کلام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان پر جاری کرتا ہے۔ حضرت حجاج کہتے ہیں عاصی کی اس بات کی وجہ سے میرے ساتھی میری رائے سے یعنی اسلام لانے سے رک گئے لیکن اس سب سے میری بصیرت میں اضافہ ہوا (پھر ہم لوگ اپنے علاقہ میں واپس آگئے)۔ ایک عرصہ کے بعد میں نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں پوچھا تو مجھے بتایاگیا کہ وہ مکہ سے مدینہ تشریف لے جا چکے ہیں میں اونٹنی پر سوار ہو کر چل دیا اور حضورۖ کی خدمت میں پہنچ گیا اور میں نے وادی میں جو سنا تھا وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا ۔حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! تم نے حق بات سنی ہے اللہ کی قسم! یہ اسی کلام میں سے ہے جو میرے رب نے مجھ پر نازل کیا ہے۔ اے ابو کلاب! تم نے حق بات سنی ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اسلام سکھادیں۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے کلمہ اخلاص کی گواہی طلب فرمائی اور فرمایا اب تم اپنی قوم کے پاس واپس جائو اور انہیں ان تمام باتوں کی دعوت دو جن کی میں نے تمہیں دعوت دی ہے کیونکہ یہ حق ہیں۔'' (حیاة الصحابہ جلد سوم)

متعلقہ خبریں