ایک اورچشم کشا انکشاف

ایک اورچشم کشا انکشاف

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی جانب سے متنازعہ میمو اور کتاب میں انکشافات کے بعد اب ایک ایسا انکشاف سامنے لایا گیاہے جس سے ملک کی ایک بڑی اور جمہوری سیاسی جماعت کے لئے مشکلات پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ یہ انکشاف کہ انہوں نے پاکستان کی اس وقت کی سویلین قیادت یعنی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اور قیادت کی اجازت سے اسامہ کو تلاش کرنے کے لئے سی آئی اے اہلکار پاکستان بھجوائے ایک حساس معاملے کا احیاء ہے جس سے نئی بحث چھڑ جانا فطری امر ہوگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر شیری رحمن نے حسین حقانی کے انکشافات پر پیپلز پارٹی کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن میں پیپلز پارٹی کا کوئی کردار نہ تھا ممکن ہے حسین حقانی امریکہ میں بیٹھ کر کسی مغالطہ کا شکار ہوئے ہوں یا ان پر یہ سب لکھنے کے لئے دبائوہو۔ حسین حقانی کے دور سفارت میں مشکوک امریکیوں کو ویزوں کا اجراء اور ویزوں کے اجراء سے انکار کے بعد ان امریکیوں کا دبئی' یوکرائن اور دیگر ممالک سے ویزے لے کر پاکستان آمد کے واقعات سامنے آنے اور ان عناصر کا ایوان صدر کا پتہ استعمال کرنے کا معاملہ خاصی سنگین صورتحال کاباعث معاملہ رہا ہے۔ اگرچہ قبل ازیں حسین حقانی اس صورتحال میں اس وقت کی حکومتی شخصیات کو ملوث کرنے سے گریزاں رہے لیکن منصور اعجاز نامی بزنس مین نے اس موقف کا اظہار کیا تھا جو اب حسین حقانی کا موقف ہے۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپائونڈ پر امریکی فوج کے چھاپے کے چھ ماہ بعد میموگیٹ سکینڈل منظر عام پر آیا تھا جو اس وقت کی پی پی پی کی حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان سخت کشیدگی کا باعث بنا۔یہ معاملات موجودہ وزیر اعظم نواز شریف عدالت لے گئے تھے۔ اب ایک مرتبہ پھر حسین حقانی نے دعوی کیا ہے کہ اوباما انتظامیہ سے ان کے ''روابط''کی وجہ سے ہی امریکا القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کو نشانہ بنانے اور ہلاک کرنے میں کامیاب ہوا۔انہوں نے لکھاہے ''ان روابط کی بنا پر ان کی بحیثیت سفیر ساڑھے 3 سالہ تعیناتی کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور امریکا کے درمیان قریبی تعاون ہوا اور آخرکار امریکا کو پاکستان کی انٹیلی جنس سروس یا فوج پر انحصار کیے بغیر اسامہ بن لادن کے خاتمے میں مدد ملی''۔حسین حقانی نے لکھا ہے کہ اوباما کی صدارتی مہم کے دوران بننے والے دوستوں نے، '3 سال بعد ان سے پاکستان میں امریکی اسپیشل آپریشنز اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو تعینات کرنے کے حوالے سے مدد مانگی۔سابق سفیر کے مطابق انہوں نے یہ درخواست براہ راست پاکستان کی سیاسی قیادت کے سامنے رکھی، جسے منظور کرلیا گیا، اگرچہ امریکا نے آپریشن کے حوالے سے ہمیں باقاعدہ طور پر پلان سے باہر رکھا، تاہم مقامی طور پر تعینات امریکیوں کی ناکامی کے بعد سابق صدر اوباما نے پاکستان کو اطلاع دیئے بغیر نیوی سیل ٹیم 6 بھیجنے کا فیصلہ کیا۔اپنے مضمون میں حسین حقانی نے نومبر 2011ء کو یاد کیا، جب انہیں بحیثیت سفیر مستعفی ہونے کے لیے مجبور کیا گیا۔انہوں نے لکھاہے کہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو مجھ سے ایک مسئلہ یہ تھا کہ میں نے بڑی تعداد میں سی آئی اے اہلکاروں کی پاکستان میں موجودگی میں سہولت فراہم کی، جنہوں نے پاکستانی فوج کے علم میں لائے بغیر اسامہ بن لادن کا پتہ چلایا'، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ میں نے یہ سب کچھ پاکستان کی منتخب سویلین قیادت کے علم میں لاکر کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی عہدیداران سے ان کے تعلقات کا مقصد دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں فتح کو یقینی بنانا تھا۔حسین حقانی نے لکھاہے کہ بدقسمتی سے امریکا افغانستان میں فتح حاصل نہیں کرپایا اور اسلامی عسکریت پسندوں کے حوالے سے پاکستانی حکومت کا رویہ بھی مستقل بنیادوں پر تبدیل نہ ہوسکا، تاہم جب تک وہ امریکا میں سفیر میں رہے، دونوں ملکوں نے اپنے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کیا۔امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت کبھی بھی اعتماد کے نہیں رہے۔ پاکستان میں امریکہ سے قربت کو ملکی سیاست میں کچھ عرصہ قبل تک غداری نہیں تو ملک سے عدم وفاداری کے معنوں میں ضرور لیا جاتا رہا۔ اگرچہ اب اس کا تذکرہ اس طرح کھلے الفاظ میں نہیں کیاجاتا لیکن بہر حال یہ اب بھی ہماری سیاست کا ایک عنصر ضرور ہے۔ عوام میں ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کے اہم شعبوں میں امریکہ کے ہمدردوں کی کمی نہیں۔ بہر حال تازہ صورتحال سیاسی طور پر پیپلز پارٹی کے لئے دو طرح سے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ اولاً یہ کہ فوج اور پیپلز پارٹی کے درمیان صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں میمو گیٹ سکینڈل کے باعث جو دوریاں پیدا ہوئیں وہ زخم پھر سے تازہ ہوں گے۔ دوم یہ کہ ملکی سیاست میں ایک مرتبہ پھر امریکہ سے منافرت اور تنقید کا وہ باب پھر سے کھل سکتا ہے جس سے آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ پی پی پی کے دور حکومت میں اہم عہدے پر براجمان رہنے کے باوجود سابق سفیر کو اس موقع پر یہ انکشاف کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اس سوال کا جواب اہم ہے۔ اس وقت کی سویلین قیادت کے اس اقدام کو قومی مفاد کے برعکس ہی سمجھا جائے گا اور ملکی حساس اداروں کو لا علم رکھ کر جس طرح اغیار سے تعاون کرکے بین الاقوامی طور پر مطلوب شخص کی گرفتاری و ہلاکت کا جو پر اسرار اقدام عمل میں لانے کے لئے سہولت کاری کی گئی اس میں شریک ایک اہم عنصر کے از خود اعتراف کے بعد ایک ایسا باب کھل گیا ہے جس کے بند ہونے میں عرصہ لگے گا۔

متعلقہ خبریں