ناقص غذائی اجناس کی بھرمار

ناقص غذائی اجناس کی بھرمار

صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے تمام بڑے شہروں میں ناقص غذائی اجناس کا کاروبارعروج پر ہے۔ مضر صحت دودھ کی سپلائی کی تمام تر کوششوں کے باوجود روک تھام میں ناکامی لمحہ فکریہ ہے۔ انتظامیہ کی تمام تر کارروائی صرف معمول کے چھاپوں' جرمانوں اور اکثر چشم پوشی کی حد تک ہی دکھائی دیتی ہے۔ اس حوالے سے بلا امتیاز اور سخت کاروروائی کا عنصر سرے سے مفقود ہے جس کے باعث ناقص اشیاء فروخت کرنے والے ذدیدہ دلیری سے اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہی سطور میں کئی بار پہلے بھی بتا یا گیا کہ بڑے شہروں میں ہر طرح کی ملاوٹی اشیاء تیار کرنے کے کارخانے' فیکٹریاں جگہ جگہ قائم ہیں۔ محکمہ خوراک کے حکام چھاپوں کے بعد جن دکانداروں کو گرفتار کرتے ہیں حیرت انگیز طور پر دوسرے دن پھر کاروبار سجائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ شہری حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ کیسی تادیب ہے جو ان کا قبلہ درست نہیں کرسکی۔ کیا یہ امر حیران کن نہیں کہ گزشتہ چار سالوں میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد دکانداروں میں سے صرف پندرہ فیصد دکانداروں کو جرمانہ کیا گیا باقی لاکھوں دکاندار ''معصوم'' قرار دئیے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ دیگر محکموں کی طرح محکمہ خوراک کے اہلکار بھی اپنے ادارے کو کمائی کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ہونے والی سیاسی مداخلت بھی ایک ناسور کی شکل اختیار کر گئی ے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ با اثر سیاسی عناصر ہر جائز و ناجائز کاموں میں سفارش کا وتیرہ بنائے ہوئے ہیں۔ناقص اشیاء فروخت کرنے والے دکانداروں کو جرمانہ کرنے کی حکمت عملی بھی بذات خود ناقص ثابت ہو رہی ہے۔ اکثر دکاندار مہینوں تک ناقص و مضر صحت اشیاء فروخت کرتے رہتے ہیں جس سے انہیں لاکھوں روپے کی آمدنی ہو چکی ہوتی ہے۔ ایسے میں چند ماہ بعد انہیں چھاپوں کی صورت میں چند ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا بھی پڑے تو یہ ان کے لئے گھاٹے کا سودا نہیں ہوتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ خوراک اور محکمہ صحت اس حوالے سے قوانین کو سخت بنائیں۔ عوام کی جان ومال سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف سخت اقدامات ہی اس رجحان کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ معمولی جرمانوں سے اس گھنائونے کاروبار کو روکا نہیں جاسکتا۔ دوسری طرف ناقص غذائی اشیاء کی فروخت میں ملوث دکاندار وں کو جرمانہ کے علاوہ قید و بند کی بھی سخت سزا دینی چاہئے۔ دوسری صورت میں جعلی و ملاوٹی اشیاء کی بھرمار اس بات کا ثبوت بنی رہے گی کہ حکومتی رٹ کے نام پر خود سرکاری ادارے حکومت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ صحت مند معاشرے کے قیام کے لئے شہری حلقوں کو بھی اس سلسلے میں اپنا دبائو ڈالنا چاہئے۔ناقص غذائی اجناس کی فروخت صرف ایسی ہمہ جہت کوششوں سے ہی روکی جاسکتی ہے۔
پل کی فوری تعمیر کی ضرورت
چمکنی میں لکڑیوں سے بنے معلق اور جھولدار پل کی شکستگی اور خطرناک ہونے کے باوجود حلقے سے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کی لاپرواہی و غفلت اور تساہل کامظاہرہ عوام کے لئے جس قدر مشکلات کا باعث بن سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یہ ایک ایسا سنجیدہ مسئلہ ہے ۔پل سے روزانہ گزرنے والے درجنوں افراد کی زندگیاں دائو پر لگنے کا ہر وقت خطرہ محسوس ہوتا ہے لیکن دو حلقوں کے مقام اتصال پرواقع اس پل کی تعمیر نو میں حکومتی اراکین اسمبلی کی لاتعلقی عوام سے کئے گئے وعدوںکی تکمیل تو کجا ایک نہایت ضرورت کو پورا کرنے سے بھی منہ موڑنا ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں ان حلقوںکے عوام کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے مدد طلبی حکومتی حلقوں کے منہ پر طمانچہ سے کم نہیں۔ پل کی جو تصویر ہمارے اخبار میں شائع ہوئی ہے اس سے اس امر کا واضح اظہار ہوتا ہے کہ پل تعمیر کرنے والوں نے فنڈز اینٹھ کر پل کے نام پر چند تختے ہی رسوں پر ڈال دئیے ہیں۔ اگر پل کی تعمیر موزوں انداز میں ہوتی تو محض شکستہ تختوں کی مرمت سے کام بن سکتا تھا مگر یہاں پل کے کنارے اور تاروں کاخطرناک جھول اس کے تعمیر نو کا متقاضی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اس بنیادی مسئلے کا نوٹس لیں گے اور جلد ہی مضبوط اور نیا پل تعمیر کیا جائے گا تاکہ حلقے کے لوگوں کو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے دوبارہ اپیل کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ بہتر ہوگا کہ پل کی تعمیر جلد سے جلد شروع کی جائے ایسا نہ ہو کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اس اپیل کا نوٹس لے کر پل کی تعمیر شروع کروانے میں پہل کریں۔

متعلقہ خبریں