امریکہ کی افغان پالیسی میں تبدیلی اور پاکستان

امریکہ کی افغان پالیسی میں تبدیلی اور پاکستان

افغانستان کی طرف سے یہ جواز پیش کیاجانا کہ افغان سرحد کے اندر جس علاقے میں انتہا پسند پاکستان پرخود کش حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں ، ان منصوبوں پر عمل درآمد کرتے ہیں اور پاکستان میں موجود اپنے سلیپنگ سیلز کے ذریعے دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں اس پرافغان حکومت کا کنٹرول نہیں پاکستانیوں کے لیے باعث حیرت ہے۔ اگر افغانستان کی حکومت کا یہ دعویٰ صحیح ہے تو بھی افغانستان ، پاکستان میں اس دہشت گردی کا ذمہ دار ہے۔ یہ جواز اس لیے باعث حیرت ہے کہ کرزئی حکومت کے دوران امریکہ نے اربوں ڈالر کے خرچ سے اور بھارت کی ٹیکنیکل امداد اور تربیت کے ذریعے افغان فوج قائم کی۔ اس فوج نے افغان طالبان کے خلاف دو ایک اضلاع میں کارروائی کی اور شکست کھائی۔ اس کے علاوہ اس فوج کی کارکردگی کہیں نظر نہیں آئی۔ افغانستان کی اندرونی سیکورٹی کے حوالے سے بھی یہ فوج ناکام نظرآتی ہے کیونکہ یہ فوج افغان طالبان کے حملوں سے کابل کو محفوظ نہیں رکھ سکی۔ اور افغانستان کے حکمران فوج کی ہر ناکامی کا الزام پاکستان پرلگا دیتے ہیں۔ ہر بار کہا جاتا ہے کہ پاکستان سے آنے والے دہشت گردوں نے افغانستان میں دہشت گرد حملے کیے۔ اس لیے یا تو یہ واقعی افغان فوج کی عدم صلاحیت ہے یا پھر افغان فوج کی یہ کم کوشی بھارت کی تربیت یافتہ اور زیر اثر کمان کی پالیسی ہے کہ افغان حکومت پاکستان کو بدنام کرتی رہے جس سے بھارت کی پاکستان کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دینے کی کوشش کو تقویت ملتی رہے۔ جب کرزئی حکومت سے پہلے افغانستان میں جنگ ہو رہی تھی ان دنوں افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے کچھ کم معروف جرنیل بھی ایسے ہی الزامات عائد کرتے تھے۔ لیکن اب غیر ملکی افواج جنگ میں حصہ نہیں رہیں بلکہ بعض کابل اور دیگر اہم مقامات پر تعینات ہیں۔ امریکہ نے گزشتہ دو سال کے دوران افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کر دی ہے۔ اور اب افغانستان میں امن قائم کرنے کی امریکی کوشش تعطل کا شکار ہے۔ اس لیے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا صدر ٹرمپ کا امریکہ افغانستان سے فوج نکالنے کی پالیسی پر گامزن رہے گا یا افغانستان کے مسئلے کو کسی انجام تک پہنچانے پر آمادہ ہوگا۔ اس سوال پرامریکہ میں بھی غور ہو رہا ہے ۔ امریکی سنٹرل کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹیل نے گزشتہ ہفتہ سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج ایسی حکمت عملی تیار کر رہی ہے جس کے تحت افغانستان میں مزید امریکی فوج کی ضرورت ہو گی۔ اس سے پہلے افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے سربراہ جنرل جان نکلسن یہ کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ کی جنگ تعطل کا شکار ہے اور اس وجہ سے افغانستان میں داعش کااثرو نفوذ بڑھ رہا ہے۔ جنرل نکلسن نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوج 2015ء میں نفری کم ہو جانے کی وجہ سے افغانستان میں سیکورٹی کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ 

پاکستان کے زیرِ اہتمام افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کو خود بھارت کے زیر اثر افغان انٹیلی جنس ایجنسی نے سبوتاژ کر دیا ۔ اس کے باجود کہ پاک افغان سرحد کے جس علاقے میں پاکستان سے فرار ہو کر جانے والے شدت پسندوں نے اپنی کمین گاہیں اور تربیتی کیمپ قائم کیے ہیں وہاں بھارت کے سولہ قونصل خانے ہیںجن کی سیکورٹی پر ظاہر ہے افغان فوج مامور ہے۔ یہ جواز پیش کیا ہے کہ اس علاقے پر افغانستان کا کنٹرول نہیں ہے۔ یہ بات امریکی جرنیلوں کے علم میں بھی ہو گی۔ جنرل نکلسن کا علاقے کی صورت حال میں بھارت کے کردار پر منفی تبصرہ بھی اسی صورت حال کا غماز ہے۔ لہٰذا بھارت کے پاکستان مخالف پراپیگنڈے اور افغانستان کے اس میں کردار کے باوجود یہ برسرزمین حقیقت امریکہ پر واضح ہے کہ امریکی فوج کے انخلاء کے بعد افغان حکومت اور حزب اسلامی کی صلح کے باوجود افغانستان کی سیکورٹی صورت حال خراب ہی ہو ئی ہے۔ داعش کا اثر ورسوخ بڑھ گیا ہے اور تحریک طالبان پاکستان کے بہت سے جنگ جو داعش میں شامل ہو چکے ہیں۔ افغانستان کی صورت حال کے بارے میں امریکہ کی یہ تفہیم سینیٹ میں جنرل ودٹیل کے بیان سے ظاہر ہے۔ امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داعش کے خلاف سخت گیر رویے کے باعث جس کے تحت انہوں نے ایک بیان میں یہ کہا ہے کہ وہ داعش کے خلاف ساٹھ ملکوں کا اتحاد قائم کریں گے، یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں مزید امریکی اور اگر ساٹھ ملکی اتحاد بن جاتا ہے تو اتحادی فوج افغانستان میں اتارے گی۔
افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی کلیدی حیثیت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ افغانستان میں مزید امریکی فوج بھیجنے کا اگر فیصلہ کیا گیا جس پر لگتا ہے فعالیت کے ساتھ غور کیا جا رہا ہے تو اس کلیدی حیثیت کی اہمیت اور بھی ابھر کر سامنے آئے گی۔ اس لیے پاکستان کو اس صورت حال کے لیے تیار رہنا ہو گا ۔ ممکن ہے فوج اور سازوسامان کے لیے راستے مانگے جائیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ افغانستان میں کسی ممکنہ امریکی کارروائی کے نتیجے میں مزید افغان مہاجر پاکستان نہ آئیں۔ اس کے لیے ایک طرف پاک افغان سرحد پر باڑھ لگانا بہت ضروری ہے ، اس کی تکمیل کے لیے امریکہ سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی ایسی کارروائی کے نتیجے میں افغانستان میں مقیم شدت پسند تنظیمیں پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کارروائیاں تیز کریں گی۔ اس لیے آپریشن ردالفساد کو مؤثر بنانے کے لیے شدت پسندوں کے سلیپنگ سیلز کا سراغ لگانے کی کارروائی پر زیادہ توجہ دی جائے۔ آپریشن رد الفساد میں روز گرفتاریاں ہو رہی ہیں لیکن کوئی ایسے سراغ سامنے نہیں آ رہے جن کے ذریعے سلیپنگ سیلز کے مالی معاونوں اور رابطہ کاروں اور سرپرستوں تک رسائی حاصل کی جا رہی ہو۔

متعلقہ خبریں