روشن پاکستان کی ضمانت

روشن پاکستان کی ضمانت

تعلیم کسی ملک کی ترقی کا واحدذریعہ ہوتی ہے ۔ جو قوم تعلیم اور اس کے مسائل کو سنجیدہ نہیں لیتی، غلامی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ پاکستان میں تعلیم کی ترقی اوراس سے جڑے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہم اکثر بنیادی (پرائمری)پر ہی زیادہ دھیان دیتے ہیں۔ حالانکہ ثانوی اور اعلی ثانوی تعلیم کسی بھی انسان کی اعلی تعلیم تک رسائی اور روزگار کے حصول کا انتہائی اہم زینہ ہوتی ہے۔ پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں ظاہراً تو تعلیم مفت ہے لیکن آٹھویں جماعت کے بعد ثانوی اور اعلی ثانوی تعلیمی بورڈز مختلف مدوں میں طلبا سے فیس وصول کرتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں کم و بیش ثانوی اور اعلی ثانوی تعلیمی بورڈز کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے دس پنجاب اور وفاق میں، چھ سندھ میں، آٹھ خیبر پختونخوا میں، اور ایک ایک بلوچستان اور کشمیر میں کام کر رہے ہیں۔ جبکہ ان سب بورڈز کی ایک رابطہ تنظیم اسلام آباد میں واقع ہے۔یہ سارے بورڈز نویں سے بارہویں جماعت کی انرولمنٹ، امتحانات اور دوسری خدمات کی مد میں مختلف فیس وصول کرتے ہیں۔ جہاں ہمیں مفت تعلیم کی حکومتی کوششوں کو سراہنا چاہئے وہیں یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ مڈل تک ملنے والی مفت تعلیم کو نویں جماعت کے بعد تعلیمی بورڈز کی فیسوں کی بھینٹ کیوں چڑھایا جاتا ہے؟ ہمارے بہت سارے دوست شاید اپنے یقینِ خودکِفالت کی وجہ سے تعلیمی بورڈز کی ان سالانہ چند ہزاروالی فیس کو بہت معقول سمجھتے ہوں پر اگر ایک غریب مزدور یا چھوٹے ملازمت پیشہ افراد کی بات کریں تو یہ چند ہزار روپے ان کو اپنی گائے بکری بیچنے اور یا پھر قرضہ لینے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اور جب بات آئے ان جماعتوں میں ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ بچے پڑھانے کی تو معاملہ فاقہ کشی سے لیکر ایک بہن طالبہ کا اپنے گھر کے بھائی طالب علم کے لئے دستبرداری تک آ جاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پہلی جماعت میں داخلہ لینے والے 100بچوں میں سے 31بچے پانچویں جماعت میں پہنچنے سے پہلے اسکول چھوڑدیتے ہیں۔ جبکہ باقی 69بچنے والے بچوں میں سے صرف 28ہی میٹرک تک پہنچ پاتے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ ہر 100میں سے 72بچے میٹرک میں داخلے سے پہلے اسکول چھوڑدیتے ہیں اور ان میں سے چالیس فیصد سے زائد بچے چھٹی اور نویں جماعت کے دوران اسکول چھوڑتے ہیں۔ پرائمری اور مڈل کلاس کے بعد بچوں کے اسکول چھوڑنے کی کافی وجوہات ہو سکتی ہیں پر تجربہ بتاتا ہے کہ ان میں سے ایک وجہ ثانوی اور اعلی ثانوی تعلیمی بورڈز کے اخراجات ہیں۔ اکثریت والدین آج کی اس معاشی تنگ دستی کے دور میں اپنے بچوں پر زیادہ دیر سرمایہ کاری نہیں کرسکتے کیونکہ بچوں کو پڑھانے میں سرمایہ کاری کا غیر یقینی نفع کا فی دیر بعد ملتا ہے اس لیے والدین جلد ہمت ہار جاتے ہیں اور معاشی حالت کو بہتر بنانے کیلئے بچوں کودرسگاہوں سے ہٹا کر کوئی ورکشاپس،موٹر مکینک،میڈیکل سٹور، نائیوں اور ہوٹلوں وغیرہ پر لگا دیتے ہیں۔ جس سے بچے کوئی ہنربھی سیکھ جاتے ہیں اوروالدین کو معاشی مدد بھی مل جاتی ہے۔ اگر ایسا نا بھی ہو تو کم از کم ان بچوں کے تعلیمی اخراجات تو ختم ہو ہی جاتے ہیں۔ پاکستان کے آئین کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو مفت تعلیم فراہم کی جائے ۔آخر کیوں والدین گھر کے دیگر اخرا جا ت پورے نہ ہونے کے باوجودبھی ثانوی اور اعلی ثانوی تعلیم دلوانے کا سوچیں۔ حالانکہ ذاتی طور پر میں تعلیم کے حصول کو نوکری تک رسائی والے فلسفے کا حامی نہیں لیکن یہ بات تو حقیقت ہے کہ اچھی سند انسان کو اچھے معاشی مواقع فراہم کرتی ہے۔
مڈل کلاس اور اچھی ڈگری یعنی بیچلر یا ماسٹر کے درمیان نویں سے بارہویں جماعت کے چار اہم سالوں پر محیط تعلیم اگر بالکل مفت ہوتی تو یقینا چھٹی اور دسویں جماعتوں کے درمیاں ڈراپ آئوٹ کی شرح کم ہوتی۔ اور پھر ہم سب یہ تو بخوبی جانتے ہیں کہ بارہویں جماعت پاس کرنے کے بعد بہت سارے ہونہار طلبا اور طالبات اپنی آگے کی تعلیم ٹیوشن پڑھا کر یا چھوٹی موٹی پارٹ ٹائم نوکری کرکے پوری کر ہی لیتے ہیں۔ میں یہاں پر یہ بالکل نہیں کہہ رہا کہ میٹرک اور انٹر کرنے والا ہر شخص کلکٹر لگ جاتا ہے یا بڑا سائنسدان بن جاتا ہے پر نویں سے بارہویں تک کے اس سفر میں پیدا کردہ آسانی شاید ایک ڈرائیور کی آئندہ نسلوں کو ڈرائیور اور فیکٹری مزدور کی آئندہ نسلوں کو مزدور والی گردان سے نکال کر ہر شہری اور اس کے بچوں کو بلاتفریق یونیورسٹیوں تک رسائی دے جہاں وہ اسکالرشپ یا پارٹ ٹائم کام کی مدد سے اعلی تعلیم حاصل کرکے اچھی زندگی کیلئے ایک بہتر کوشش تو کر سکتے ہیں۔ اس لئے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ثانوی اور اعلی ثانوی بورڈز کی مختلف فیسوں کا جائزہ لیں اور یہ دیکھیں کہ انکے بالواسطہ تعلیمی اخراجات کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے تمام مخیر حضرات کوبھی چاہئے کے وہ غریب اور ہونہار بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے نویں سے بارہویں جماعت کے طالب علموں کیلئے تعلیمی وظائف کے طور پر ان کی بورڈ فیس کے اخراجات میں معاونت اور مدد فراہم کریں۔ صرف اسی صورت میں ہی ہم بنا پائیں گے ایک روشن پاکستان۔

متعلقہ خبریں