وطن کی مٹی گواہ رہنا

وطن کی مٹی گواہ رہنا

تاریخ میں ایسا کئی بار ہوا کہ ایک باطل نظرئیے کی بنیاد پردنیا کو آگ اور خون کے جہنم میں دھکیل دیا گیا۔فتنہ گری کبھی دانستہ ہوتی ہے اور کبھی ایک ایسے حلقے کی منہ زوری کا نتیجہ جو اپنے تئیں یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اس کا کہا ہوا اور اس کا کیا دھرا ہی درست ہے اور جو اس سے ہٹ کر ہے وہ سب غلط ہے۔جرمنوں کا بیڑہ غرق کرنے والا ایڈولف ہٹلر ہو یا مسلمانوں کے لئے مشکلات پیدا کرنے والا اسامہ بن لادن،انہوں نے اپنے سوا باقی دنیا کو جس نظر اور زاویئے سے دیکھا وہ نظر بھی غلط تھی اور زاویہ بھی ۔ ایک نے جرمنی کو پاتال میں پہنچا دیا اور دوسرے نے مسلمانوں کے ساتھ مسلمانوں کی میراث بھی تباہ کر دی۔ایک پر امن اور معتدل انداز میں آگے بڑھنے والی قوم پر دہشت گر د ہونے کا ٹھپہ لگوا دیااور دنیا میں ایسا اسلام مخالف گروہ پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جو آج کھلم کھلا اسلام اور مسلمانوں کی تضحیک کر رہا ہے۔ شعائر اسلام کا مذاق اڑا رہا ہے اور بزرگ ہستیوں کی تو ہین کر رہا ہے ۔ اور یہ جو عالم اسلام میں ایسے ناسور نظر آ رہے ہیں جو سوشل میڈیا پر بزرگ ہستیوں کی توہین کی جسارت کر رہے ہیں ان کے بارے میں سب سے موزوں اور درست تاثر یہ ہے کہ یہ رہ تو مسلمانوں کے درمیان رہے ہیں۔ان کے نام اور حلئے بھی مسلمانوں جیسے ہیں۔لیکن یہ اسلام دشمن ہیں،آستین کے سانپ ہیں۔

نائن الیون سے پہلے دنیا با العموم ہمیں اعتدال پسند تسلیم کرتی تھی۔یہی قرآن تھا اور یہی شریعت لیکن کسی میں یہ جرا ت نہ تھی کہ وہ ہمیں دہشت گرد کہتا لیکن اسامہ جیسے لوگوں نے ہمارے مذہب کے ساتھ وہ کھلواڑ کیا کہ آج مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب ہم اپنی صفائیاں پیش کر رہے ہیں کہ ہم دہشت گرد نہیں ہیں لیکن کوئی ہماری بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے۔اسامہ بن لادن جیسے لوگوں کی طرف سے جس غلط نظریئے کا پرچار کر کے مسلمانوں کو ورغلایا گیا،ہمارے علماء کرام کی طرف سے بروقت اس نظریئے پر گرفت کی گئی ہوتی تو اتنا نقصان نہ ہوا ہوتا لیکن ہمارے کچھ علماء اس گمراہ کن نظریئے کی درپردہ حمایت کرتے رہے۔ کچھ نے اس کے خلاف فتویٰ دینے سے انکار کیا۔، کچھ نے تماشا دیکھنے پر اکتفا کیا اور کچھ اپنی دکانداری چمکاتے رہے۔کچھ اس لئے خاموش رہے کہ جان نہ چلی جائے۔اسی مجرمانہ چشم پوشی کا نتیجہ تھا کہ اس آگ نے عراق،شام ،یمن اور سعودی عرب کا رخ کیا تو اٹھتے شعلے ایک دنیا نے دیکھے۔عراق میں صحابہ کے مزار تک اس آگ کی لپیٹ میں آئے۔ شام پورے کا پورا جل کر خاکستر ہو گیا اور یمن نے بھی اس کی حدت کو محسوس کیا۔یہ وہ شام اور یمن ہیں جن کے بارے میں اللہ کے نبیۖ نے فرمایا تھا کہ انہیں شام اور یمن سے ٹھنڈی ہوائیں محسوس ہوتی ہیں۔سعودی عرب کی وہ مشکبار مٹی کہ جس پر نبیۖ رحمت کے قدم ہائے مبارک پڑتے تھے،بارود کی بو اس میں رچی، وہ عراق کہ جس کو ولیوں کی سرزمین کہا جاتا ہے ،اس پر اتنا لہو گرا کہ اگر اسے اکھٹا کر لیا جاتا تودجلہ جیسی ایک اور نہر جاری ہو سکتی تھی۔افغانستان تباہ ہوا، پاکستان پر بربادی اتری لیکن علماء مصلحت کی چادر اوڑھے لمبی تان کر سوئے رہے۔نائن الیون سے پہلے سعودی عرب میں پاکستانی ہنر مندوں اور مزدوروں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا اب ریکروٹنگ ایجنسیوں والے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔دوسری طرف سعودی عرب سے پاکستانی دھڑا دھڑ پیک ہو کر واپس آ رہے ہیں۔یورپ پاکستانیوں سے متنفر ہے۔ امریکہ میں جو پاکستانی عشروں سے رہ رہے ہیں وہ بھی تذلیل کا شکار ہیں۔سو یہ سوچنا کہ وہ سب ہی غلط ہیں اور ہم ٹھیک سوچ کا درست زاویہ ہرگز نہیں ہو سکتا،ہمارے لوگوں نے پاکستان سے باہر اسلام کو بھی بدنام کیا اور پاکستان کو بھی لیکن المیہ تو یہ بھی ہے کہ آج بھی ہمارے ہاں یہ سوچ موجود ہے کہ باہر والے خوامخواہ ہمارے پیچھے پڑے ہیں۔پاکستانی قوم کو سمجھنے کے لئے یہی بات کافی ہونی چاہئے کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران ہماری فوج فاٹا کے مختلف اور انتہائی خطرناک محاذوں پر فسادیوں کے خلاف لڑتی رہی لیکن قومی سطح پر وہ منظرنامہ نہ ابھرا جس سے یہ ظاہر ہوتا کہ واقعی ہم حالت جنگ میں ہیں۔ہمارے وہ فوجی شیر جوان جو اپنے گھروں ،اپنی بیرکوں کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں بھارتی فوج سے زیادہ خطرناک دشمنوں سے لڑ رہے ہیں کوئی روبوٹ تو نہیں جیتے جاگتے انسان ہیں۔کیا یہ صرف آرمی چیف ہی کا فرض ہے کہ وہ اگلے مورچوں پر جا کر افسروں اور جوانوں کا حوصلہ بڑھائیں؟ کیا وہ صرف آرمی چیف اور ان کے بیوی بچوں کے مستقبل کے لئے لڑ رہے ہیں؟ وزیر اعظم ،وزیر دفاع جیسے لوگ ان سے اظہار یکجہتی کرنے کیوں نہیں جا سکتے۔جب فسادیوں کا نظریہ باطل قرار دیا جا چکا تو پھر نظریہ حق پر کھڑے لوگوں کو کیا مسئلہ ہے کہ وہ اس جنگ کو سرے سے جنگ ہی نہیں سمجھ رہے جو افغانستان اور ہماری سرحدوں سے باہر جا کر شام اور عراق کو بھی برباد کر چکی ہے۔ افسوس کا مقام ہے حکومت اورعوام کیلئے جو فوج کی قربانی کی وجہ سے کھا، کما اور چین کی نیند سو رہے ہیں لیکن جو راتوں کو جاگ جاگ کر ان کی بقا کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ان کے حوصلے بڑھانے میں بخل سے کام لے رہے ہیں۔
مورخ لکھے گا کہ اگر پاکستانی فوج ملک اور قوم کی بقا کی جنگ نہ لڑتی تو پاکستان کا حال شام سے بھی بدتر ہوجاتا اور شائد یہ بھی کہ اس سارے عرصے میں قوم سوتی رہی اور فوج اس لئے جاگتی رہی کہ اس نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی تھی، وطن پر نثار ہونے کا حلف اٹھایا تھا۔

متعلقہ خبریں