پختونخوا کی جامعات اور وائس چانسلرز کی تعیناتی

پختونخوا کی جامعات اور وائس چانسلرز کی تعیناتی

پختونخوا کی جامعات کے لئے 2016ء میں یونیورسٹیز ماڈل ایکٹ عمل میں لایا گیا۔ اس ایکٹ میں یونیورسٹیوں کے لئے منظور شدہ پرانے ایکٹ کے بعض نکات کو اذکار رفتہ سمجھتے ہوئے تبدیل کرایاگیا جو یقینا ضروری تھے۔ لیکن بعض نکات اس میں ایسے بھی سامنے آئے جس پر اس وقت سے آج تک جامعہ پشاور کے منتخب نمائندوں (پیوٹا) کے تحفظات تھے اور ہیں جس کا ابھی حل ہونا باقی ہے۔ لیکن جامعات میں آج کل تازہ مسئلہ وائس چانسلرز کی تعیناتی کاہے۔ ماڈل ایکٹ میں وائس چانسلر شپ کی اہلیت کے لئے تقریباً آٹھ نکات پر مشتمل کوائف ڈالے گئے ہیں۔ ان میں تعلیم' تجربہ' تحقیقی مضامین جیسے بنیادی کوائف کے علاوہ ایک آخری ضرورت اور شرط یہ بھی رکھی گئی ہے کہ امیدوار نے میجر ریسرچ پراجیکٹ (Major Research project) کیا ہو۔اب ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ اگر ایک آدمی نے وطن عزیز میں تیس پینتیس برس خلوص دل و نیت کے ساتھ یونیورسٹی میں ملازمت کی ہو' کئی برسوں کا انتظامی تجربہ ہو' اس پر کہیں سکینڈل' داغ اور تہمت بھی نہ لگی ہو جو اگرچہ پاکستان میں بہت عام ہے تحقیقی مضامین بھی ہوں۔ لیکن اگر ریسرچ پراجیکٹ سر توڑ کوششوں کے بعد بھی HEC وغیرہ سے حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا تو یہی ایک نقطہ اسے محرم سے مجرم بنا دیتا ہے اور بیک جنبش قلم وہ اس اہم عہدے کے لئے ابتدائی مرحلے ہی میں نا اہل قرار دے دیا جاتا ہے۔ ایک نشست میں متعلقہ افسران سے دست بستہ عرض کیا گیا کہ یہ میجر ریسرچ پراجیکٹ ہوتا کیاہے؟ جواب دیا کہ ہم نے چار ماہرین قانون و زبان کے پاس اس ''اصطلاح'' کو تعریف کے لئے بھیجا ہے لیکن ابھی تک کوئی واضح جواب نہیں ملا ہے۔ ماڈل ایکٹ میں وی سی کے عہدے کے لئے جن کوائف پر زور دیاگیاہے وہ تحقیقی مضامین اور ریسرچ پراجیکٹ ہیں جبکہ انتظامی' تجربہ' تنازعات و مشکلات کے حل اور زمینی حقائق کو سمجھنے میں مہارت و صلاحیت کو کوئی خاص وزن نہیں دیا گیا۔ پختونخوا کی بد قسمتی دیکھئے کہ اس ایکٹ کے مطابق ریسرچ کمیٹی کے دو ارکان لازمی طور پر پختونخوا سے باہر کے کسی علاقے سے ہوں گے۔ اٹھارہویں ترمیم میں صوبائی خود مختاری کا تقاضا تو کچھ اور تھا لیکن کیا کریں کہ نت نئے تجربات کے لئے ہمارا ہی صوبہ رہ گیا کہ ہم خود اپنے آپ کے دشمن ہیں۔ اس وقت جامعات میں تعلیمی اور انتظامی حوالے سے شدید کشمکش ہے اور مالی اور دیگر مفادات کے تصادم کی وجہ سے اساتذہ اور انتظامی عملہ اپنے اپنے مابین بر سر پیکار ہے۔ یہی حالت پورے ملک کی جامعات کی ہے لیکن خیبر پختونخوا اپنی ترکیب میں بالکل خاص ہے۔ سابق چیئر مین کے شروع کردہ منصوبے یقینا ان کے اخلاص پر مبنی تھے لیکن اب ان کے جو نتائج سامنے آرہے ہیں وہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ان کا بھرپور ناقدانہ جائزہ لیا جائے۔ مثلاً بی ایس چار سالہ پروگرام' ٹی ٹی ایس پر اساتذہ کی تعیناتی' غیر ملکی پروفیسروں کی درآمد' اورک (OREC) اور کوالٹی انہانسمنٹ سیل وغیرہ ' اسی طرح ہائر ایجوکیشن کمیشن کے منظور کردہ مقالہ جات اور جرائد کی جس طرح اس وقت درگت بنی ہوئی ہے وہ بھرپور اور بے لاگ جانچ کا تقاضا کرتی ہے۔ دو دو صفحوںکے ریسرچ آرٹیکلز میں چار چار اور بعض میں اس سے بھی زیادہ مصنفین مستفید ہو کر ہائر گریڈوں پر ترقی پاتے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت بدقسمتی سے یونیورسٹیوں میں مقالہ جات کے مصنفین کے چیمبرز وجود میں آگئے ہیں جو شریک آرٹیکلز کو دھڑا دھڑا HEC کے منظور کردہ جرائد میں شامل کرتے ہیں۔ اربوں روپوں کی سرمایہ کاری کے باوجود ابھی تک کوئی پاکستانی جامعہ عالمی معیار کی درجہ بندی میں جگہ پانے میں کامیاب نہ ہوسکا ہے۔ سی ایس ایس کے امتحانات میں اس سال تقریباً ساڑھے بارہ ہزار امیدواروں میں سے بمشکل 250 امیدوار پاس ہوسکے ہیں۔ یہ ہمارے نئے بعد از عالمگیریت اعلیٰ تعلیم کی کھلی ناکامی کا بین ثبوت ہے۔اس کے علاوہ اس ایکٹ کا ایک اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں انتظامی آسامیوں پر پی ایچ ڈی ہولڈرز حضرات اور بالخصوص ٹیچنگ فیکلٹی کے افراد کی گنجائش ختم کی گئی ہے جبکہ وائس چانسلر ایک خالص اور بڑا انتظامی عہدہ ہے اور اس کے لئے فارن پی ایچ ڈی اور وہ بھی عموماً نیچرل سائنسز کے مضامین کے حامل افراد کو منظور نظر سمجھا جاتا ہے اور معاشرتی علوم (سوشل سائنسز) اور بشریات کے ماہرین کو کوئی خاص وزن نہیں دیا جاتا۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ نیچرل سائنسز کے ماہرین ہماری جامعات کی لیبارٹریوں کو آباد کریں اور شب و روز تحقیقی کاموں میں لگے رہیں کہ پاکستان ترقی یافتہ ملکوں کے ہم پلہ ہوسکے نہ کہ انتظامی کرسی پر بیٹھ کر بیورو کریٹوں کی طرز کی زندگی گزارتے ہوئے اساتذہ' انتظامی عملہ اور طلبہ کے مسائل اور تنازعات و مشکلات کے حل میں وقت ضائع کرتے ہوئے اپنے فارن کے تجربہ و علم کو زنگ آلود کرے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ پختونخوا کی تاریخی یونیورسٹی آف پشاور میں کامیاب ترین وائس چانسلرز کا تعلق سوشل سائنسز کے ماہرین سے تھا۔

انہوں نے نہ تو بیسیوں تحقیقی مقالے لکھے تھے اور نہ ہی ریسرچ پراجیکٹ کئے تھے لیکن جامعہ پشاور کو ان کے ادوار میں ایک با وقار مقام حاصل رہا ہے۔

متعلقہ خبریں