کویت سے تعلقات اور تجارت

کویت سے تعلقات اور تجارت

اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات میں وقت کے ساتھ ساتھ بہتری لانااورباہمی تعاون کومزیدوسعت دیناپاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم نکات میں سے ہے۔وزیراعظم نوازشریف کے دورہ کویت کے دوران کویت نے چھ سال سے پاکستانیوں پرلگائی گئی ویزاپابندی ختم کرنے کااعلان کیا۔یہ پاکستانیوں کے لیے خوشخبری ہے کہ چھ سال سے بند کویت کے ویزے بحال ہوگئے ہیں۔جوپاکستانی کویت جاناچاہتے تھے ویزوں کی وجہ سے نہیں جاسکتے تھے تواب وہ کویت جاسکتے ہیں۔وزیراعظم پاکستان اور امیرکویت کے درمیان ملاقات میں پانچ مختلف شعبوں میں تعاون پربھی اتفاق کیاگیاہے۔جبکہ پاکستان اورکویت نے مشرکہ بزنس کونسل بنانے پربھی اتفاق کیاہے۔یہ بات سوفیصددرست ہے کہ جب دونوں ممالک کے پارلیمانی وفودایک دوسرے کے ملکوں کادورہ کریں گے۔دونوں وفودکوایک دوسرے کے پارلیمانی نظام کوسمجھنے کاموقع ملے گا۔تودونوں ممالک کے پارلیمانی وفودایک دوسرے ممالک کی جمہوری اقدار، پارلیمنٹ کے کرداراوردیگرامورسے آگاہی حاصل کرسکیں گے۔جس سے تعلقات میں مضبوطی آئے گی۔ پاکستان دونوں ممالک کی قیادت اورعوام کی امنگوں کی عکاسی کے لیے روابط اورباہمی دوروں کوبڑھانے کے لیے تیارہے۔وزیراعظم نوازشریف کی یہ پیشکش دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کومزیدوسعت دینے اورمضبوط کرنے کے لیے ہے۔پاکستان اورکویت کے چیمبرزآف کامرس کے درمیان مشترکہ بزنس کونسل قائم ہونے سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو وسعت دینے میں مددملے گی۔بزنس کونسل قائم ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کوبھی فروغ ملے گا۔دونوں ملکوں کے بزنس مین ایک دوسرے ملک میں مال تجارت بھجوابھی سکیں گے اورمنگوابھی سکیں گے جس سے دونوں ملکوں کی معیشت کوفروغ ملے گا۔کویت کی معاونت سے خلیج تعاون کونسل اورپاکستان کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدہ ہوجائے تواس سے خلیج تعاون کونسل اورپاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات قائم ہوجائیں گے۔اس معاہدہ سے پاکستان کے تاجروں، صنعت کاروں اوربزنس مینوں کونئی تجارتی منڈیوں تک رسائی مل سکے گی۔یوں پاکستانی تاجروںاورصنعت کاروں کو اپنامال تجارت اورصنعتی پیداوارنئی تجارتی اور علاقائی منڈیوں میں فروخت کرنے کاموقع ملے گا۔ خلیج تعاون کونسل اورپاکستان کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدہ ہوجانے سے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے تاجروں اورصنعت کاروں کوبھی پاکستان میں اپنامال تجارت اورصنعتی پیداوارفروخت کرنے کاموقع ملے گا۔ یوں دونوں کے تجارتی تعلقات قائم ہوجانے سے دونوں کی معیشت ترقی کرسکے گی۔نوازشریف کاکہناتھا کہ پاکستان میں توانائی اورانفراسٹرکچرکی ترقی کے متعددمنصوبے ہیں جن کاغیرملکی سرمایہ کارجائزہ لے سکتے ہیں۔ہم پاکستان کے انفراسٹرکچراورتوانائی کے بڑے منصوبوں میں کویت سے مزیدسرمایہ کاری کاخیرمقدم کریں گے۔وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے اپنے دورہ ء کویت کے دوران غیرملکی سرمایہ کاروں کوپاکستان میں توانائی اورانفراسٹرکچرکے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی۔اس کے ساتھ ساتھ کویت کے سرمایہ کاروں کومذکورہ شعبوں میں مزیدسرمایہ کاری کی بھی دعوت دی۔ملک میں معیشت، صنعت، تجارت اوردیگرشعبوں میں ترقی کے لیے غیرملکی سرمایہ کاری اہم کرداراداکرتی ہے۔ اس تناظرمیں وزیراعظم نوازشریف کاکویت سمیت غیرملکی سرمایہ کاروں کوپاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دینااس بات کاثبوت ہے کہ نوازشریف کی حکومت ملک کی ترقی کے لیے کوشاں ہے۔غیرملکی سرمایہ کاروں کوپاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دینابہت اچھی بات ہے۔غیرملکی سرمایہ کاروں کوملک میں سرمایہ کاری کے لیے صرف دعوت دیناہی کافی نہیں اس کے لیے ماحول بھی سازگارہوناچاہیے۔ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع اورماحول سازگارہوگا، امن وامان کی صورت حال تسلی بخش ہوگی، سرمایہ کاروں کومطلوبہ سہولیات میسرہوں گی تووہ خودبخودہی سرمایہ کاری کرنے پرآمادہ ہوجائیں گے۔ ماحول سازگارنہ ہو، امن وامان کی صورت حال اچھی نہ ہوتوغیرملکی سرمایہ کاروں کوایک بارنہیں درجنوں بارسرمایہ کاری کی دعوت دی جائے وہ سرمایہ کاری کرنے پرآمادہ نہیں ہوں گے۔اس لیے غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کوایساسازگاربنایاجاناچاہیے کہ غیرملکی سرمایہ کاروں کوپاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت نہ دینی پڑے بلکہ وہ خودہی یہ پیشکش کریں کہ وہ فلاں فلاں شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔پاکستان اورکویت طویل عرصہ سے اقتصادی اورتجارتی شراکت داررہے ہیں اورپاکستان کویت کے ساتھ تمام شعبوں میں اپنے تعلقات کومزیدبڑھانے کاخواہش مندہے۔تمام شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات بڑھیں گے تومتعلقہ شعبوں میں بھی بہتری آئے گی۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوجائے گاجس سے متعلقہ شعبے مزیدترقی کرسکیں گے۔پاکستان میں سرمایہ کاروں کے لیے سوفیصدسرمائے یامشترکہ منصوبے شروع کرنے کے مواقع ہیں۔اس وقت ایک ہزارسے زائدصف اول کی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کی معیشت کے مختلف شعبوں میں کامیابی کے ساتھ کام کررہی ہیں۔

متعلقہ خبریں