مشرقیات

مشرقیات

17ہجری میں قیصر روم نے حمص پر دوبارہ قبضہ کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اہل جزیرہ کی تحریک پر ایک بڑی فوج حمص کی طرف روانہ کی۔ اہل جزیرہ بھی تین ہزار جنگجوئوں کے ساتھ حمص کی طرف بڑھے۔ امیر شام حضرت ابو عبیدہ نے ادھر ادھر سے فوجیں جمع کرکے حمص کی حفاظت کی تیاری کی اور ساتھ ہی حضرت عمر فاروق کو رومیوں اور اہل جزیرہ کی ملی بھگت اور ان کے عزائم کی اطلاع دی۔ امیر المومنین نے یہ اطلاع ملتے ہی حضرت قعقاع کو حکم بھیجا کہ فوراً کوفہ سے چار ہزار سوار لے کر حمص پہنچ جائیں۔ ساتھ ہی حضرت سہیل بن عدی' حضرت ابن عتبان اور حضرت ولید بن عقبہ کو اہل جزیرہ سے نمٹنے کے لئے مناسب ہدایات بھیجیں۔
ان تدابیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل جزیرہ کو اپنے گھر کی فکر پڑ گئی اور وہ رومیوں کاساتھ چھوڑ کر واپس آگئے۔ اب حمص کے محاصرے پر صرف رومی اور ان کے مدد گار چند عرب قبائل رہ گئے۔ حضرت ابو عبیدہ ایک دن شہر سے باہر نکل کر ان کے مقابل ہوئے۔ اس وقت حضرت قعقاع منزلوں پر منزلیں مارتے حمص کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ابھی شہر سے چند میل دور تھے کہ انہوں نے مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان لڑائی چھڑ جانے کی خبر سنی۔ ان کے ساتھ اس وقت صرف سو سوار تھے اور فوج کا بڑا حصہ ابھی پیچھے تھا لیکن اس خبر نے حضرت قعقاع کو ایسا بے تاب کردیا کہ وہ باقی فوج کا انتظار کئے بغیر سو سواروں کے ساتھ ہی برق رفتاری سے حضرت ابو عبیدہ کے پاس پہنچ گئے۔ ان کی آمد سے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوگئے اور سب نے مل کر دشمن پر ایسا تند و تیز حملہ کیا کہ اس کے قدم لڑکھڑا گئے۔ پہلے عرب قبائل بھاگے اور پھر رومی بد حواسی کے عالم میں میلوں بھاگتے چلے گئے۔ اس شرمناک شکست کے بعد رومیوں کو پھر کبھی مسلمانوں کے خلاف پیش قدمی کی جرأت نہ ہوئی۔ اس مہم سے فارغ ہو کر حضرت قعقاع واپس کوفہ چلے گئے۔
مسلمانوں کی بہادری اور شجاعت کی یہ ایک مثال تھی۔ ایسی ہزاروں مثالیں تاریخ کی کتابوں میںموجود ہیں جب مسلمان کی دھاک پوری دنیا پر قائم تھی اور ان کی بہادری کا ڈنکا ہر سو بج رہا تھا۔ اس دور کے مسلمان معاشروں کا جائزہ لیں تو وجہ آسانی سے معلوم ہوجاتی ہے کہ اس وقت انصاف کا بول بالا تھا۔ حکمران اور رعایا دونوں قانون کی نظروں میں برابر تھے۔ کسی کو قانون سے استثنیٰ حاصل نہیں تھا۔ اسی انصاف کی بدولت عوام بھی خوشحال تھے۔ان خصوصیات کی بناء پر مسلمان اس دور میں پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے تھے اور آج کے حالات دیکھیں تمام وسائل' اسباب اور دولت ہونے کے باوجود مسلمان اپنے ممالک کے اندر بھی خود مختار نہیں اور ان کے فیصلے طاقتور غیر مسلم ممالک کررہے ہیں وجہ صاف اور واضح ہے کہ اب مسلمان ممالک کے حکمرانوں اور عوام میں واضح خلیج موجود ہے۔ عوام کا اپنے حکمرانوں پر اعتماد بالکل نہیں۔

متعلقہ خبریں