ایک اور سانحہ دلخراش

ایک اور سانحہ دلخراش

بلوچستان ابھی پچھلے دو بڑے سانحات سے سنبھل نہیں پایا تھا کہ گزشتہ روز خضدار کے دور افتادہ علاقہ شاہ نورانی میں سید سخی بلاول شاہ نورانی کے مزار کے احاطہ میں خود کش دھماکہ سے دوچار ہوگیا جس کے باعث تقریباً 55افراد جاں بحق اور سو سے زیادہ زائرین زخمی ہوگئے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے بھی زیادہ ہے جن میں کئی شدید زخمی اور تشویشناک حالت میں ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دھماکے کے بعد بھگڈر مچ جانے کی وجہ سے بھی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ دور دراز دشوار گزار علاقہ ہونے اور اندھیرے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آرہی تھیں اس کے باوجود آرمی چیف کی ہدایت پر پاک فوج کی امدادی ٹیمیں روانہ کردی گئی تھیں جن میں سے کچھ نے پہنچ کر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ صدر ممنون حسین' وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ساتھ ساتھ دیگر حکومتی عہدیداروں اور سیاسی قیادت نے اس دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ گزشتہ روز اندھیرا ہو جانے کی وجہ سے اگرچہ امدادی سر گرمیوں میں مشکلات پیش آرہی تھیں تاہم اتوار کو صبح سے دوبارہ کارروائیاں شروع کردی گئیں اور زخمیوں کو منتقل کرنے کا کام جاری رہا۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سیالکوٹ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس دھماکے کے تانے بانے پڑوسی ملک بھارت سے ملنے کا انکشاف کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کراتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا جبکہ تحریک انصاف کے ایک مرکزی رہنما اور مشہور دانشور شفقت محمود نے کہا ہے کہ دہشت گردی کو سی پیک کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ان سطور کے لکھے جانے یعنی اتوار کے روز گوادر بندرگاہ سے پہلے تجارتی بحری جہاز کو جس پر کئی کنٹینرز لادے گئے تھے وزیر اعظم نے رخصت کرنے کے حوالے سے منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کی اور یوں گوادر بندرگاہ سے باقاعدہ تجارتی سر گرمیاں شروع ہوگئیں۔ اس تقریب میں پندرہ ممالک کے سفیروں نے بھی شرکت کی۔ اس حوالے سے تقریب کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتاہے اور یہی وہ خواب ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تابناک مستقبل کی تعبیر بندھی ہوئی ہے۔ اس ضمن میں بھارت کے سینے پر جس طرح سانپ لوٹ رہے ہیں اور وہ تلملاتے ہوئے گوادر بندر گاہ کے ساتھ ساتھ سی پیک منصوبے کو سبو تاژ کرنے کے لئے اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے سازشیں کر رہاہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں کیونکہ بھارتی حکمران بر ملا سی پیک منصوبے کے خلاف اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اس منصوبے کے خلاف عملی اقدامات کے لئے نہ صرف بھارت نے افغانستان میں قائم اپنے کئی قونصل خانوں کو فعال کرکے پاکستان میں تخریبی سر گرمیوں کے لئے دہشت گردوں کے کیمپ قائم کر رکھے ہیں جہاں بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو تخریب کاری کی تربیت دی جاتی ہے۔ انہیں اسلحہ اور فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں۔ ایران میں کلبھوشن یادو کے نیٹ ورک کے ذریعے بھی پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تخریبی کارروائیاں کراتا رہا ہے بلکہ سی پیک اور گوادر بندر گاہ منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے ایران کے چاہ بہار بندر گاہ میں بھاری سرمایہ کاری کرکے متبادل بندر گاہ کے طور پر مغربی ممالک کو سہولتیں فراہم کرنے کے لئے کوششیں کی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق گوادر کے مقابلے میں چاہ بہار مین روٹ پر نہ ہونے کی وجہ سے گوادر کی تعمیر کے بعد اس کی وہ حیثیت نہیں رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف خود ایران بلکہ افغانستان نے بھی سی پیک منصوبے میں شرکت کی خواہش کا اظہار کرکے بھارتی مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے جبکہ سی پیک منصوبے کی کامیابی اور گوادر بندر گاہ کے پوری طرح فعال ہونے کے بعد چین کو بھی مغربی دنیا تک آسان اور با سہولت رسائی کی وجہ سے جو فوائد چین اور پاکستان کو ملیں گے اور پاکستان کے شاندار مستقبل کی جو نوید سنائی دے رہی ہے اس سے امریکہ کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اس لئے امریکی آشیر باد سے بھارت اس منصوبے کو ہر قیمت پر سبو تاژ کرنے کے لئے بلوچستان میں تخریبی کارروائیاں تیز کر رہا ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حالیہ دھماکے کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کرکے اصل حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر وزیر دفاع خواجہ آصف کے دعوے کے مطابق اس سانحے کے پیچھے بھارت کی ایجنسیوں کاہاتھ ملنے کے شواہد سامنے آجائیں تو عالمی سطح پر بھارت کی مکروہ کارروائیوں کو پوری طرح بے نقاب کرنے کے لئے ضروری کارروائیاں کی جائیں۔ جہاں تک درگاہ شاہ نورانی کے متاثرین کا تعلق ہے تو نہ صرف زخمیوں کے علاج معالجے پر بھرپور توجہ دی جائے بلکہ جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کے لواحقین کو بھرپور مالی امداد دی جائے۔ جو اگرچہ کسی بھی انسان کا متبادل تو نہیں ہوسکتا تاہم پیچھے رہ جانے والوں کے دکھی دلوں کا کچھ نہ کچھ مداوا تو ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں