خیبر پختونخوا گیس کمپنی کا قیام ؟

خیبر پختونخوا گیس کمپنی کا قیام ؟

اخباری اطلاعات کے مطابق سوئی ناردرن گیس خیبرپختونخوا کے لئے علیحدہ کمپنی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جس کے اختیارات مکمل طور پر صوبے کو دیئے جائیں گے ۔ تاہم صوبائی حکومت نے اس حوالے سے بعض شرائط عائد کی ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا نے اس حوالے سے کن شرائط کو لاگو کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم چونکہ آئین کے آرٹیکل 157 اور آرٹیکل 158کے تحت بجلی اور گیس کے معاملات کو واضح کیا گیا ہے اور آرٹیکل 158کے مطابق قدرتی گیس کا چشمہ یا منبع جس صوبے میں ہو اس صوبے کو اس چشمے سے ضروریات پوری کرنے کے سلسلہ میں ان پابندیوں اور ذمہ داریوں کے تابع جو یوم آغاز پر نافذ ہوں پاکستان کے دیگر حصوں پر ترجیح ہوگی ۔ اسی طرح گیس کی آمدنی بھی انہی صوبوں کو دیئے جانے کی ضمانت دی گئی ہے ۔اس کی وضاحت آئین کی شق 161میں یوں موجود ہے ، آرٹیکل 78کے احکام کے باوجود قدرتی گیس کے (منبع )چشمہ پر عائد کردہ اور وفاقی حکومت کی طرف سے وصول کردہ وفاق محصول آبکاری کی اور وفاقی حکومت کی طرف سے وصول کردہ رائیلٹی کی اصل آمدنی ، وفاقی مجموعی فنڈ کا حصہ نہیں بنے گی اور وہ اس صوبہ کو جس میں قدرتی گیس کا چشمہ واقع ہو ادا کردی جائے گی ۔ آئین پاکستان میں درج ان وضا حتوں کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیئے کہ وفاق ایک طویل عرصے تک بلوچستان میں سوئی گیس فیلڈ سے حاصل کی جانے والی گیس سندھ ، پنجاب اور صوبہ سرحد (کے پی کے ) کو تو مہیا کرتی رہی ہے مگر بد قسمتی سے بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ بھی اس سے محروم رہا ہے ، اور جب بعد میں آئین کی شقوں میں تبدیلی کی گئی تو اس حوالے سے اگرچہ صورتحال قدرے تبدیل ضرور ہوئی مگر جہاں تک خیبر پختونخوا سے حاصل ہونے والی گیس کا تعلق ہے تو ان علاقوںکو جو کوہاٹ اور لکی مروت کے قریب گیس فیلڈ کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور اصولی طو ر پر گیس فیلڈ کے ارد گرد پانچ کلومیڑ کے علاقوں کو مفت گیس کی فراہمی لازمی اور آئین کے مطابق ہے ، انہیں اس حق سے محروم کیا جا رہا ہے ، دوسرے یہ کہ صوبہ خیبر پختونخوا سے ملنے والی گیس کی تقسیم کا سارا نظام اب تک صوبے کو تفویض کرنے کی راہ میں روڑے اٹکا ئے جارہے ہیں ۔ اور ٹرانسمیشن سسٹم ملحقہ علاقے میاں والی میں قائم کیا گیا ہے جہاں سے اس کی تقسیم کو کنٹرول کیا جا تا ہے ، جو آئین کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ۔ حالانکہ جتنی گیس کے پی کے سے مل رہی ہے اس کا بہت کم حصہ خیبر پختونخوا میں استعمال ہوتا ہے ، اس کے باوجود یہاں گیس کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے ان دنوں بھی یہی صورتحال ہے یہاں تک کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ان دنوں بھی جبکہ سردی کا آغاز ہی ہوا ہے بہت زیادہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے اور صبح سے رات تک کئی مرتبہ گیس کی سپلائی انتہائی کم ہو جاتی ہے اور عوام کو کھانا پکانے تک کے لالے پڑجاتے ہیں ۔ اس صورت میں آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ زیادہ شدت کی سردی میں یعنی دسمبر سے مارچ کے مہینوں میں گیس کی فراہمی کی کیا صورتحال ہوتی ہوگی یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں ہے ۔اور اگر پشاور میں یہ حال ہے تو چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں کیا حال ہوگا ۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ تقریباً چار روز پہلے یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ اگلے مہینے سے سی این جی سٹیشنوں پر دو دن کیلئے گیس سپلائی منقطع کرنے کا پروگرام بنایا گیاہے جو یقینا خلاف آئین ہے ایسی صورت میں صوبائی حکومت نے کسی قسم کے شرائط کا تذکرہ کیا ہوگا یقینا وہ محولہ بالا حقائق کے تناظر میںآسانی سے سمجھے جاسکتے ہیں ۔ اس لیے سوئی ناردران کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سے پہلے ان مسائل کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہئے اور جب تک گیس کی تقسیم پر صوبے کو اختیار نہ دیا جائے اس منصوبے کو تسلیم کرنے پر بار بار سو چا جائے ، بصورت دیگر صوبائی حکومت مشکلا ت سے دو چار ہو جائے گی ۔
گران فروشوں کے خلاف کریک ڈائون
ضلعی انتظامیہ نے صوبائی دارالحکومت پشاور کے مختلف علاقوں میں گزشتہ روز رات گئے گران فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے یو نیورسٹی روڈ پر کئی ریسٹورنٹس میں کم وزن کی روٹی مہنگے داموں فروخت کرنے پر کئی افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ناقص صفائی پر کچھ فاسٹ فوڈز کی دکانوں اور ریسٹورنٹس کو سیل بھی کر دیا گیا ۔ اس ضمن میں صرف ریسٹورنٹس اور فاسٹ فوڈز کی دکانوں کے مالکان کا رویہ ہی قابل اعتراض نہیں ہے کیونکہ ان ہوٹلوں میں قریبی نانبائیوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے کم وزن کی روٹیاں پکوائی جاتی ہیں جو عام نرخ سے زیادہ قیمت پر گاہکو ں کو دی جاتی ہیں بلکہ شہر کے اکثر علاقوں میں کچھ عرصہ سے بیکر یوں پر بھی ڈبل روٹی کا وزن کم کر دیا گیا ہے اور یہ کم وزن ڈبل روٹی چالیس روپے پر فروخت کی جاتی ہے ، حالانکہ نہ تو میدے نہ ہی آٹے کی قیمت میں کوئی اضافہ ہوا ہے اسی طرح ان بیکریوں پر بسکٹ بھی اب مہنگے داموں فروخت کئے جاتے ہیں ۔ اس لیے ضلعی انتظامیہ کو ان بیکریوں پر کم وزن کی ڈبل روٹی کا بھی نوٹس لیکر عوام کو اس استحصال سے نجات دلانی چاہیے ۔

متعلقہ خبریں