ایک اورغیر مئوثر قانون

ایک اورغیر مئوثر قانون

حال ہی میں میڈیا اور سیاسی رہنمائوں کی جانب سے کرمنل لاء میں شامل کی جانے والی نئی ترامیم کو خوش آمدید کہاگیا اور ان ترامیم کو غیرت کے نام پر قتل اور ریپ جیسے مکروہ جرائم کی روک تھام کے لئے ایک مئوثر اقدام کے طور دیکھا گیا۔ لیکن ان ترامیم کے باوجود کرمنل لاء اس وقت مضحکہ خیز محسوس ہواجب لاہور کی ایک عدالت میں ایک باپ کو اپنی بیٹی کے قتل کا اعتراف کرنے کے باوجود بھی رہائی مل گئی کیونکہ مقتولہ کے قانونی وارث ہونے کے ناطے اس شخص نے خود کو معاف کردیا۔ اس واقعے کے بعد ہم سب پر جہاں مذکورہ ترامیم کی افادیت کی قلعی کھل گئی وہیں ہمیں اب یہ موقع بھی مل گیا ہے کہ ہم ان ترامیم کی افادیت کا تکنیکی پہلو سے از سرِ نو جائزہ لیں ۔ ہمیں اس بات کا تجزیہ کرنا ہوگا کہ کیا کرمنل لاء میں کی جانے والی یہ ترامیم غیرت کے نام پر قتل اور ریپ جیسے جرائم کے خلاف ڈھال کا کام کرسکتی ہیںیا یہ صرف عجلت میں اُٹھایا جانے والے ایک اور اقدام ہے جس سے پاکستان میں پہلے سے پا مال حقوقِ نسواں میں مزید ابتری آئے گی۔ ان ترامیم کو پیش کرتے وقت جس بات پر سب سے زیادہ زور دیا گیا تھا اور جس پر سب سے زیادہ عوامی حمایت بھی حاصل کی گئی تھی وہ غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں مقتول یا مقتولہ کے سرپرست سے معافی کا حق واپس لینا تھا۔ اس کے علاوہ غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میںمجرم کی سزا میںاضافہ بھی کیا گیا تھا۔ اگرچہ کاغذات کی حد تک یہ ترامیم بہت مئو ثر دکھائی دیتی ہیں لیکن ان میں موجود خامیوں کی وجہ سے ان پر عمل درآمد بہت مشکل ہے۔ معنوی اعتبار سے دیکھا جائے تو ان تمام جرائم اور سزائوں کی بنیاد صرف ایک اصطلاح 'غیرت کے نام پر قتل ' ہے جس کی ابھی تک کسی بھی قانون میں تعریف نہیں کی گئی۔ اس بات کا تعین کرنا ملزم پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ آیا وہ قتل کے عام مقدمے میں ٹرائل ہونا پسند کرے گا یا غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں۔ ان ترامیم کی حمایت کرنے والوں کا ماننا ہے کہ مقدمے کی تفتیش اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ مذکورہ قتل کوئی عام قتل ہے یا غیرت کے نام پر کیا جانے والا قتل۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی قانونی پیمانے کی غیر موجودگی میں پولیس اس بات کا تعین کیسے کرے گی کہ کسی شخص کا قتل عام قتل ہے یا کہ غیرت کے نام پر کیا جانے والا قتل؟۔'غیرت کے نام پر قتل' کی اصطلاح کی قانونی تعریف کی غیر موجودگی میں مذکورہ ترامیم اس وقت غیر مئو ثر ہوجائیں گی جب کوئی ملزم اپنی بہن یا بیٹی کو قتل کرنے کی وجوہات میں 'غیرت' کو شامل نہیں کرے گا۔ ایسی صورت میں مذکورہ مقدمہ 'قتلِ عمد' کا ایک عام مقدمہ بن جائے گا جس میں مقتولہ کے ورثا کے پاس قاتل کو معاف کرنے کا اختیار ہوگا۔ اس کے علاوہ ملزم کو قتل ِ عمد میں ملنے والی دیگر رعایتیں بھی حاصل ہو جائیں گی۔نئی ترامیم میں لائی جانے والی اصلاحات میںریپ کے مقدمے کو تین مہینوں میں نمٹانا بھی شامل ہے جبکہ ایسے مقدمات میں اپیل کا فیصلہ بھی چھ مہینوں میں سنایا جانا ضروری ہے۔ ہمارے قوانین کی کتابیں ایسے بہت سے ٹائم فریمز سے بھری پڑی ہیں لیکن حقیقت میں اس سے بھی دوگنا وقت میں کسی مقدمے کا فیصلہ ہونا بھی کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا۔نیب آرڈیننس 1999ئ، جوینائل جسٹس سسٹم آرڈیننس 2000ء اور فیملی کورٹ ایکٹ 1964ء کے تحت چلنے والے مقدمات میں دیئے گئے ٹائم فریم پر عمل درآمد کی مسلسل ناکامی کو دیکھتے ہوئے کرمنل لاء میں کی جانے والی مذکورہ ترامیم میں دیئے جانے والے ٹائم فریم کے مستقبل کا اندازہ لگایا جانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔مقدمات کی سماعت میں تاخیر کے مسئلے پر اس وقت تک قابو نہیں پایا جاسکتا جب تک کرمنل جسٹس سسٹم میں موجود دیرینہ مسائل کو حل نہیں کیا جاتا۔ عدالتوں میں مقدمات کی بھر مار، جھوٹے مقدمے کی صورت میں انضباطی کارروائیوں کا فقدان، آئے دن وکلاء کی ہڑتالیں، وکلاء کی جانب سے مقدمات کی سماعت کو التواء میں ڈالنا اور پولیس افسران کا عدالت میں پیش ہونے کی بجائے دیگر فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہونے کی وجہ سے کئی مقدمات ایسے ہیں جن کی سماعت کئی دہائیو ںتک چلتی رہتی ہے۔ بروقت انصاف کی فراہمی کے لئے نئے قوانین کے تحت ٹائم فریم وضع کرنے کی بجائے کرمنل جسٹس سسٹم کی ڈیلیوری کے نظام کو بہتر بنانا زیادہ ضروری ہے۔اسی طرح کسی تھانے میں پولیس اہلکاروں کی طرف سے کئے جانے والے ریپ کا ذمہ دار اس پولیس اسٹیشن کے انچارج کو ٹھہرایا جانا بھی ایک ایسا اقدام ہے جس سے کسی مثبت تبدیلی کی توقع کیا جانا عبث ہے۔ مذکورہ ترامیم کے تحت بنائے جانے والے قوانین آئین کی کتابوں میں اچھے ضرور لگتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟ ایسے پولیس اہلکار جو پولیس اسٹیشن کے احاطے میں اپنے افسر کو ریپ کرنے سے روک نہیں سکتے وہ اس افسر پر لگے ریپ کے الزامات کی شفافیت اور غیر جانبدارانہ تفتیش کیسے کریں گے ؟اگر مقامی پولیس اتنی فرض شناس ہوتی توکیا ان کے سامنے ریپ جیسے جرائم ہو سکتے تھے ؟ ایسے قوانین کو مئو ثر بنانے کے لئے پولیس کی کسٹڈی میں کئے جانے والے ریپ کی تفتیش جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے ذریعے کی جانی چاہیے جس میں دیگر سیکورٹی اداروں کے افسران بھی شامل ہوں تاکہ پولیس افسران اپنے پیٹی بھائیوں کے جرائم پر پردہ نہ ڈال سکیں۔ جب تک اوپر بیان کئے گئے مسائل پر قابو نہیں پایا جاتا ہمارے ملک میں خواتین کے حقوق کی پامالی کو روکا نہیں جاسکتا۔ قوانین کی تشریح اور ان کے نفاذ میں خامیوں کی وجہ سے خواتین اسی طرح زیادتی کا نشانہ بنتی رہیں گی اور ایسے مکروہ جرائم کے مرتکب مجرمان ایسے ہی قانون کے شکنجے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوتے رہیں گے۔ 

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیونترجمہ:اکرام الاحد )

متعلقہ خبریں