ٹرمپ کامیابی سے پہلے اور بعد

ٹرمپ کامیابی سے پہلے اور بعد

امریکہ کی سیاسی اور جمہوری تا ریخ 227 سال پُرانی ہے۔ امریکہ میں دو سیا سی پا رٹیاں الیکشن لڑ تی ہیں۔ ان میں ایک ڈیمو کریٹک اور دوسری پا رٹی ری پبلکن ہے ۔امریکہ کے نو منتخب صدرٹرمپ جنہوں نے ری پبلکن کی طرف سے الیکشن لڑا اور الیکشن میں کامیابی حاصل وہ بنیادی طور پر ایک تاجر ، اسٹیٹ ڈیلر، ٹیلی وژن پروڈیوسر ہیں۔ امریکی صدور کی تا ریخ میں 3.6بلین ڈالر وسائل کے ساتھ ٹرمپ سب سے مالدار صدر ہیں۔ ٹرمپ نے الیکشن کے دوران جوسیاسی نعرے لگائے ۔ اُنکے مطابق وہ امریکہ کو ایک عظیم امریکہ بنائیں گے۔ اُنہوں نے مسلمانوںکے خلاف نفرت انگیز لہجہ استعمال کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں مسلمانوں کے آنے پر پابندی بھی لگائیں گے ۔ وہ غیر قانونی تارکین وطن کو امریکہ سے باہر پھینکیں گے اور اقتصادیاتی شرح ڈبل کریں گے ۔ ایران کے ساتھ امریکہ نے جو نیوکلیئر معاہدہ کیا ہے وہ دستایز پھاڑ دیں گے۔مگر الیکشن جیتنے کے بعد گر گٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ لوگ الیکشن والی میری تقاریر بھول جائیں۔امریکہ میں صدارتی مدت چار سال ہوتی ہے اور امریکی صدر فوج کا سربراہ ہوتا ہے۔ہیلری کلنٹن نے انتخابی مہم کے دوران کہا کہ ٹرمپ جیسے مخبوط الحواس انسان امریکی فوج کی کمان اور صدارت کیسے سنبھال لیں گے ۔ٹرمپ کے جیتنے کے بعد پوری دنیا میں سٹاک ایکسچینج میں انتہائی منفی رُجحان آیا۔لوگوں نے اپنے ایل ای ڈی اور ٹی وی سیٹ توڑ دئیے۔جبکہ لوگوں کے ا مریکہ سے بھاگنے اور کینیڈاامیگریشن کے لئے اپلائی کرنے کی وجہ سے کینیڈا کا امیگریشن ویب سائٹس کریش ہوگئی۔ ایسا لگا جیسا ٹرمپ پو ری دنیا کے لئے ایک خطرہ بن کر الیکشن جیت گیا۔کئی مقتدر حلقوں کی طرح نیٹو اور جی 7 ممالک نے ٹرمپ کی حالیہ الیکشن تقریروں کی مذمت کی۔ٹرمپ کو زیادہ تر سفید فام امریکیوں نے جو امریکہ کی آبادی کا تقریباً 65 فی صد حصہ ہے ووٹ دئیے اور امریکہ میں مسلمانوں اور سیاہ فام امریکیوں نے ہیلری کلنٹن کو ووٹ دئیے۔ اگر دیکھاجائے تو امریکہ میں Haveاورhave notکے درمیان تفاوت 65:35 ہے اور جو Have notہے اُنہوں نے اُنہوں اسٹیبلشمنٹ اور سٹیٹس کو کے خلاف ووٹ دیئے ۔ اُنکا خیال ہے کہ سٹیٹس کو کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ غیر ترقی یافتہ امریکی ریاستوں کو تر قی نہیں دیتے۔ماضی قریب میں بھارت میں عام آدمی پا رٹی اور پاکستان میں تحریک انصاف سٹیٹس کو کے خلاف الیکشن جیتیں۔ اسی طرح امریکہ میں ٹرمپ کو بھی امریکی عوام نے سٹیٹس کو کے خلاف ووٹ دئیے۔عام خیال ہے کہ دنیا ایک گلوبل ویلج ہے مگر ٹرمپ کی کامیابی اور امریکی عوام کی طرف سے تا رکین وطن کی مخالفت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دنیا کے گلوبل ویلج کا جو تصور ہے اُسکی کوئی حیثیت نہیں۔امریکہ کسی ملک کے ساتھ اُس کی بہتری کے لئے تعلقات نہیں رکھتا بلکہ اپنے مفا دات کی خاطر تعلق رکھتا ہے اور بڑے مفادات لیکر معمولی مدد کرتاہے۔امریکہ ایک رُجعت پسند ملک ہے اور دنیا کے کئی ممالک کو زیر کرنے اور اپنے مفادات اور دوسرے ممالک کو نُقصان پہنچانے کے لئے کئی جنگیں لڑیں۔جس میں 18ویں صدی میں 5 جنگیں، 19 ویں صدی میں 62 جنگیں ، 20ویں صدی میں 29 اور اکیسویں صدی میں6جنگیں لڑیں، حال ہی میں افغانستان ، لیبیائ، عراق ، شام، داعش کے خلاف جنگ اور پاکستان میں بلا اجازت ڈرون حملے اس کی کڑیاں ہیں۔ امریکہ کا جی ڈی پی 19 ٹریلن ڈالر ہے جو 57اسلامی ممالک سے زیادہ اور یو رپی یونین کے برابر ہے مگر اسکے باوجود امریکہ اپنے بجٹ کی ایک خطیر رقم دوسرے ممالک کو زیر کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ امریکہ نے پاکستان بننے کے بعد اب تک پاکستان کو فوجی، سول امداد کے طور پر 65 ارب ڈالر دئیے ہیں جبکہ اسکے بر عکس 9/11کے بعد پاکستان کوامریکہ کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی جنگ لڑنے کی وجہ سے 70 ارب ڈالر کا نُقصان ہوا۔ اسکے علاوہ پاکستان کے 12لاکھ پاکستانی امریکہ میں مقیم ہیں اور وہاں سے 3ارب ڈالر بھیجتے ہیں جو پاکستان کی معیشت میں اہم کردار اداکرتے ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ ہمیشہ پاکستان کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرتا ہے اور جب وقت آتا ہے توآنکھیں پھیر لیتا ہے ۔امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا کہنا ہے کہ امریکہ کی دشمنی خطر ناک اور دوستی مہلک ہے۔جیساکہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی تقاریر میں مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور دہشت گر دی کو مسلمانوں کے ساتھ جو ڑ دیا۔ ایسے میں پاکستان کو چاہئے کہ وہ امریکہ کا آلہ کار نہ بنے۔چین بنگلہ دیش، ایران، روس، وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات اُستوار کرے۔ اور امریکہ ہمیں جو امداد دے رہا ہے اُنکی کمی پوری کرنے کے لئے اپنی خارجہ پالیسی ٹھیک کرکے اپنی افرادی قوت کو دوسرے ممالک بھیجے۔پاکستان امریکہ کے لئے وسطی ایشیا ئی ریاستوں ، جنوبی ایشیاء اور سنٹرل ایشیاء تک رسائی کے بہترین راستے فراہم کرتا ہے اور امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑے گی مگر پاکستان کو اپنے مفادات مقدم رکھنے چاہئیں۔ جہاں تک امریکہ کی خارجہ پالیسی کا تعلق ہے اُسمیں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئے گی اور اندرونی پالیسی میں زیادہ تبدیلی کا خدشہ ہے۔بہر حال امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اور عوام کا خیال ہے کہ ہم ٹرمپ جیسے شخص کو امریکہ کا صدر تسلیم نہیں کرتے۔ 

متعلقہ خبریں