گو ہاتھ میں جنبش نہیں۔۔۔۔

گو ہاتھ میں جنبش نہیں۔۔۔۔

آج کل میڈیا پر سندھ کے نئے گورنر کی عمر پر بڑے زور و شور سے بحث جاری ہے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں عمر رسیدہ افراد کی یہ قدر و منزلت ساری دنیا کے لئے ایک مثال ہے اور اس کی سب کو تقلید کرنی چاہئے۔ صدر مملکت کی صحیح عمر کا تو ہمیں علم نہیں لیکن سرکار نے بزرگ شہری کے لئے عمر کی جو حد مقرر کر رکھی ہے وہ اس سے گزر چکے ہیں۔ پنجاب کے گورنر کی عمر 67سال بیان کی جاتی ہے۔ بلوچستان والے بھی بفضل تعالیٰ 78 سال کے پیٹے میں ہیں۔ ہمارے صوبے خیبر پختونخوا کے گورنر صاحب زندگی کی 69 بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مشیر 87سال کے ہیں اور سندھ کے نئے گورنر جن کی اس منصب پر تقرری گزشتہ روز ہوئی 79 سال کے ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب بزرگوں کو اچھی صحت کے ساتھ طویل زندگی عطا فرمائے کہ وہ اسی جوش و جذبے کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کرتے رہیں۔ انگریزی میں ایک مقولہ ہے کہ زندگی تو 60سال کے بعد شروع ہوتی ہے۔ یہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ 60سال کے بعد انسان شب و روز کے ہنگامہ خیز معمولات سے عملاً فارغ ہو جاتا ہے۔ نہ رزق کمانے کی دوڑ دھوپ میں روزانہ بوٹ چمکانے پڑتے ہیں ' نہ کپڑوں پراستری کرنے کی ضرورت رہتی ہے۔ صبح سکون سے تادیر پائوں پنسارے چار پائی پر پڑے رہو۔ اخبار پڑھو' ٹیلی وژن کے پروگراموں سے لطف اٹھائو' گھر والوں سے بات بے بات پر بحث و مباحثہ کرکے خود کو مشغول رکھو' پوتے پوتیوں کو دن میں دو تین بار محلے کی دکان سے ٹافیاں وغیرہ خریدنے کے لئے لاتے لے جاتے رہو۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں جب خدا مہربان ہو جائے تو پردہ غیب سے اس کے لئے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے۔ ہماری طرح تو نہیں' چند سال پہلے کی بات ہے۔ ہماری ملازمت ختم ہونے پر ایک بہت بڑے تعلیمی ادارے کی جانب سے ہمیں ایک منصب کی پیشکش ہوئی۔ ہمیں کچھ معلوم نہ تھا کہ ہماری تعلیمی اسناد کا پلندہ گھر کے کس کونے میں پڑا ہے۔ موجود بھی ہیں یا پھر چوہوں کی خوراک بن چکے ہیں۔ گھر کے کونوں کھدروں میں پڑے پرانے بکس تلاش کرنے لگے' گھر والوں نے لاکھ سمجھایا کہ ''پہ دے عمر کے زان مہ شرموہ'' بچوں کی طرف سے وارننگ ملی۔ یہ تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ہم پھر بھی باز نہ آئے دو ایک اسناد جو دستیاب ہوئیں ان کی سلوٹیں مٹا کر بغل میں داب انتخابی منڈل کے سامنے پیش ہوگئے۔ سب بورڈ والوں نے بڑی عزت کی۔ دو ایک نے ہم سے کوئی سوال و جواب کرنے کی بجائے ہم سے تازہ کلام سننے کی فرمائش کی۔ حالات حاضرہ اور غیر حاضرہ پر ہمارے زرین خیالات سے آگاہی حاصل کی۔ لیکن اپنی ہی پیشکش کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ ٫آپ کچھ وقت سے پہلے دنیا میں وارد ہوچکے ہیں۔ ہم آپ کی قابلیت کا احترام ضرور کرتے ہیں لیکن آپ کو ملازمت نہیں دے سکتے۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ ملک کی بڑی عدالت نے عمر طبعی گزارنے کے بعد بزرگوں سے کام لینے کی ممانعت کردی ہے۔ ہم خوش ہوئے کہ چلو ملک کی بڑی عدالت نے ہماری لاج رکھ لی ورنہ اس منصب پر فائز ہونے کے بعد بڑھاپے کی وجہ سے ہم سے کیا کچھ غلطیاں سرد ہوتی رہتیں۔ ہم سوچ رہے تھے کہ ملک کی صدارت اور گورنر شپ کے عہدوں پر تقرری کے لئے عمر میں ضرور کوئی چھوٹ اور رعایت دی گئی ہوگی ورنہ تو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر ایک 85 سالہ بزرگ شخصیت کو کیوں مقرر کیا جاتا۔ شنید ہے کہ ایک بار ایک بہت بڑے منصب پر فائز شخص دروغ برگر دن راوی ان سے ملاقات کے لئے آئے ان سے پندرہ بیس منٹ تک گفتگو ہوتی رہی۔ جب وہ رخصت ہونے لگے تو موصوف نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے انہیں ہی سلام پہنچانے کے لئے کہا۔ جانے وہ 20منٹ تک اپنے خیال میں کس سے بات چیت کرتے رہے۔ ہم سوچ سکتے ہیں کہ اس نہایت ہی دیانتدار شخصیت کا الیکشن کے پیچیدہ عمل پر کیا گرفت رہی ہوگی۔ معاشی ضروریات اپنی جگہ لیکن یہ ہم جیسے لوگوں کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا ہر گز نہیں جو اعلیٰ مناصب پر فائز رہتے ہوئے ایک نہایت ہی با وقار زندگی گزار چکے ہوں ایسے لوگوں کے لئے بعداز ریٹائرمنٹ۔ ہم سمجھتے ہیں ایسی کوئی مالی پریشانی لاحق نہیں ہوتی ہوگی جو انہیں 80اور 85سال کی عمرمیںانتہائی مصروف' مشکل اور پیچیدہ کاموں کے عہدے قبول کرنے پر مجبور کردے۔ 60سال کے بعد تو اللہ کو یاد کرنے کے دن ہوتے ہیں چہ جائیکہ بڑھاپے میں' ایسا اہم منصب قبول کرلیا جائے جس کا ہر فیصلہ دور رس نتائج کا حامل ہوتا ہے۔ جب کوئی اپنے مخاطب کو ایک گھنٹے کی ملاقات میں بھی شناخت نہ کرسکے ان لوگوں کو فائل پر پورے سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنے کے بعد کوئی مشکل فیصلہ لینے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اعلیٰ مناصب پر فائز رہنے والے لوگوں کو قناعت اور عزت و وقار کا دامن تھامتے ہوئے پر سکون زندگی گزارنے کو ترجیح دینا ضروری بن جاتا ہے کیونکہ آخری عمر میں اہم مناصب پر کام کرتے ہوئے عزت سادات بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے لیکن اب کیا کیا جائے بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے

گو ہاتھ میں جنبش نہیں ہاتھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینامرے آگے

متعلقہ خبریں