بھارتی کشیدگی کے بڑھتے ہوئے سائے

بھارتی کشیدگی کے بڑھتے ہوئے سائے

بھارتی فوج نے گزشتہ چند ماہ سے کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔گزشتہ دو ماہ میں کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ سے چھبیس افراد شہید جبکہ ایک سو سات افرادزخمی ہو چکے ہیں۔جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔مختلف سیکٹروں میں گھر اور دکانیں تباہ اور مال مویشی بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔کوٹلی سیکٹر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ماں بیٹی کی شہادت واقع ہوئی ۔کئی علاقوں میں نقل مکانی کرکے عوام محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ مختلف مقامات پرفائرنگ کا سلسلہ جاری رہا ۔ پاک فوج کے ادارے آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی فوج پہلی بار آبادیوں پر مارٹر گولے داغ رہی ہے ۔وادی نیلم میں سموک بم پھینک کر جنگلوں کو آگ لگانے کا سلسلہ جاری ہے ۔پاکستان متعدد بار بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کو دفتر خارجہ میں بلا کر بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج کرچکا ہے ۔دفتر خارجہ کے ترجمان بھی کئی بار بلااشتعال فائرنگ پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں ۔بھارت جس طرح سری نگر کی گلیوں میں عام کشمیری کے ہاتھوں زچ ہورہا ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ خفت مٹانے کے لئے بھارت کوئی بھی خطرناک کھیل کھیل سکتا ہے ۔ان حالات کی گونج صرف پاکستان اور بھارت کے میڈیا میں ہی سنائی نہیں دے رہی بلکہ بی بی سی ،سی این این ،الجزیرہ جیسے عالمی ادارے بھی مسلسل سری نگر کے حالات کو رپورٹ کر رہے ہیں۔امریکہ اور اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل تک میں کشمیر کے حالات پر آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔بھارت اس صورت حال سے زچ ہوکر رہ گیا ہے اسی لئے اب بھارتی قیادت کبھی آزاد کشمیر اور گلگت حتیٰ کہ بلوچستان کے بارے میں بہکی بہکی باتیں کرنے لگی ہے بلکہ اب کنٹرول لائن پر فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے ۔بھارتی حکومت نے چینی وزیر خارجہ سے بھی یہ کہہ کر احتجاج کیاتھا کہ سی پیک منصوبہ ختم کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ آزادکشمیر کے علاقے سے گزرتا ہے۔بھارتی حکمرانوں کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ یہ ہے کہ بھارت آگے بڑھ کر آزادکشمیر کوپاکستان سے چھین لے ۔بھارتی حکمرانوں کے ان بیانات کے بعد آزادکشمیر کے لئے خطرات بڑھ رہے ہیں ۔بھارت آزادکشمیر میں نظریاتی اور عملی نقب لگانے کی کوشش کر سکتا ہے ۔اس لئے عوام کو خطرات کے لئے تیار کیا جانا چاہئے ۔ دشمن کے عزائم اور ارادوں سے کسی طور غافل نہیں ہونا چاہیئے۔2004 ء میں ایک طرف پاکستان اور بھارت کی بین الاقوامی سرحد پر ملٹری بلڈ اپ عروج پر تھا وہیں کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ زوروں پر تھا جس کے نتیجے میں روزانہ بے گناہ اور معصوم شہری شہید اور زخمی ہو رہے تھے ۔اس دوران پاکستان کے وزیر اعظم میرظفر اللہ جمالی نے اچانک ٹی وی پر نمودار ہو کر یک طرفہ سیز فائر کا اعلان کر دیا تھا۔بظاہر تو یہ اعلان یک طرفہ تھا مگر اس کے پیچھے امریکہ اور عالمی طاقتوں کا دبائو اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے کئی ادوار تھے۔پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی بھارت نے بھی اپنی فوجیں سرحدوں سے ہٹانا شروع کی تھیں اور سول آبادی پر فائرنگ کا سلسلہ رک گیا تھا۔قریباََ تیرہ برس بعد بھارتی فوج نے ایک بار پھر کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری کے قریب سول آبادی کو وحشیانہ گولہ باری کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان خوفناک کشیدگی کا پتا دے رہا ہے۔ان تیرہ برسوں میں دونوں افواج کے مابین پوسٹ ٹوپوسٹ فائرنگ تو چلتی رہی مگر سول آباد ی پر فائرنگ اور نشانہ بنا کر گولے برسانے کا سلسلہ پہلی بار شروع ہوا ہے ۔سماہنی سے کیل تک آزادکشمیر کی کنٹرول لائن پر بھارتی فوج بے رحمی سے گولہ باری کر رہی ہے۔سیالکوٹ ورکنگ بائونڈری پر بھی سول آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ چنددن سے بھارتی فوج نے وادی نیلم میں عام آدمی کو گولہ باری کانشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔بھارتی فائرنگ سے کئی سیاح اور مقامی افراد بھی زخمی ہوئے ہیں ۔ حالات معمول پر آنے تک سیاحوں کو وادی کا رخ نہ کرنے کی ہدایات جا ری کر دی گئی ہیں ۔عوام نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے ۔تعلیمی ادارے اور بازار بند ہیں اور ماحول پر دہشت کا راج ہے۔بڑی مدت اور جاں جوکھوں کے بعد حاصل ہونے والی موبائل سروس معطل ہو گئی ہے ۔بھارت نے وادی نیلم میں پاک فوج کی چوکی کو اُڑانے کا دعویٰ کیا تھا جسے پاک فوج نے مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان بھارتی توپوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے جوابی کارروائی کر رہا ہے مگر ایک بڑی مشکل مقبوضہ کشمیر کی سویلین آبادی ہے ۔پاکستان کے لئے اس سویلین آبادی کا نقصان ایک تکلیف دہ معاملہ ہے ۔مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن انجینئررشید نے بھی کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کا ہمدرد رہا ہے اور پاکستانی فوج کو گولہ باری کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا ہوگا۔انجینئر رشید کی بات بڑی حد تک درست ہے مگر جنگ کی کیفیت میں ایک حد تک ہی معاملات پر کنٹرول رکھا جا سکتا ہے ۔بھارتی فوج تو جان بوجھ کر مقبوضہ علاقے کی آبادی کو ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہے ۔ان کے لئے مقبوضہ کشمیر کے ایک عام شہری کی شہادت ایک باغی کی ہی موت ہے کیونکہ اس وقت پوری کشمیری قوم بھارت کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی ہے۔اس طرح تیرہ برس بعد عملی طور پاکستان اور بھارت کی افواج کے مابین ہونے والی جنگ بندی ٹوٹ چکی ہے۔

متعلقہ خبریں