ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ ؟

ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ ؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش جونیئر کو بالآ خر بخش دیا۔ اس بات کی وضاحت کیلئے اس کفن چور کا واقعہ یاد دلانے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے جو مردوں کے کفن چوری کے حوالے سے خاصا بد نام تھا اور جس کے خوف سے اکثر لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنے کے بعد دو تین روز تک راتوں کو بھی قبرستا ن میں پہرے دینے پر مجبور تھے ۔ مرتے ہوئے کفن چورنے اپنے بیٹے کو وصیت کی کہ بیٹا میرے مرنے کے بعد نام ضرور روشن کرنا ، بیٹے نے تھوڑے کو بہت جانا اور چونکہ اسے کوئی اور کام آتا ہی نہیں تھا اس لیے اس نے بہت سوچ بچا رکر کے باپ کے چھوڑے ہوئے پیشے ہی میں جدت یہ کی کہ مردوں کے کفن چوری کرنے کے بعد مردے کے بے حرمتی کیلئے ایسا طریقہ اختیار کیا کہ لوگ اصل کفن چور کو دعائیں دیتے ہوئے کہنے لگے ۔ اس نے تو اپنے باپ کو بخشو ادیا ہے ۔

نائن الیون کے سانحے کے بعد وہ جارج ڈبلیو بش نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگل کر اس واقعے کو کروسیڈ یعنی صلیبی جنگ قرار دیا تھا اور بعد میں اسے جذبات میں کہی ہوئی بات قرار دے کر '' میرا یہ مطلب نہیں تھا ''سے معاملے کو ٹھنڈا کر نے کی کوشش کی تھی ۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ ایک بار تیر کمان سے نکل جائے تو واپس نہیں آتا ، یوں جس صلیبی جنگ کا شو شا جارج بش جو نیئرنے چھوڑ دیا تھا ۔ اہل مغرب نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور پوری مغربی دنیا میں مسلمانوں کے خلاف عرصہ حیات تنگ کر دیا گیاتھا ۔ امریکہ نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان ، عراق ، لیبیا اور دیگر ملکوں میں تباہی پھیلا دی دہشت گردی کو فروغ دینے میں امریکہ اور نیٹو ممالک ایک ساتھ ہیں مگر بد نامی مسلمانوں کے ماتھے کا کلنک بنادیا گیا ہے ۔ اب جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ بالا خر انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اس کی لگائی ہوئی آگ ہر طرف بھڑک رہی ہے ، منتخب ہونے سے پہلے ٹرمپ نے امریکی مسلمانوں کے خلاف جو زہر افشانی کی تھی اگر چہ انتخاب کے بعدا س نے سب کو ساتھ لیکر چلنے کی بات کرکے اور اپنی ویب سائٹ سے مسلمانوں کے خلاف نعرے کو ہٹا دیا تھا مگر صرف ایک ہی روز بعد نہ صرف دوبارہ اس کی زبان قابو سے باہر ہوگئی ہے اور ایک با ر پھر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی شروع کر دی ہے ۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر اس وقت تک مکمل پابندی ہونی چاہیئے جب تک امریکی نمائندے ملکی حالات کا پوری طرح جائز ہ نہ لے لیں ، جبکہ صرف ایک روز پہلے ہٹائی گئی پوسٹ دوبارہ اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کردی ہے جبکہ اسے سوشل میڈیا پر بھی شیئر کر دیا ہے ، اس کے بعد امریکہ کے مختلف شہروں ، بازاروں اور تعلیمی اداروں میں با حجاب مسلم لڑکیوں اور خواتین پر حملوں کی رپورٹیں آنا شروع ہوگئی ہیں اس مسئلے میں کیلی فورنیا کی انتظامیہ نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ سان ڈیا گو سٹیٹ میں بھی اسی نوعیت کے واقعات سامنے آئے ہیں ، یوں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی ابتداء جارج ڈبلیو بش کے جس جملے سے ہوئی تھی اگر چہ درمیان میں حالات کچھ قابو میں آگئے تھے مگر ٹرمپ نے مسلمانوں کے خلاف بالخصوص اور دیگر باشندوں کے خلاف بالعموم جس نفرت کے جذبات ایک بار پھر ابھارنے شروع کر دیئے تھے وہ بالا خر رنگ لا رہے ہیں ۔ اس لیے جو لوگ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ صدر کا منصب سنبھا لنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی نعروں سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنی پالیسیاں معتدل بنانے پر مجبور ہوں گے یقینا وہ لوگ اس نئی صورتحال سے تشویش میں مبتلا ہوں گے اور انہیں اپنی سوچ سے رجوع کرنا ہی پڑے گا ۔ ادھر دوسری جانب اگر ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف امریکہ کی مختلف ریاستوں میں مظاہرے شروع ہوگئے ہیں اور جذبات سے مغلوب مظاہرین نے توڑ پھوڑ کے ساتھ خود اپنے ہی ملک کا جھنڈا جلانا وتیرہ بنا لیا ہے ۔ ان مظاہروں کو ڈونلڈ ٹرمپ نے نا انصانی قرار دیتے ہوئے سارا ملبہ میڈیا پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ صدارتی انتخابا ت شفاف تھے جبکہ میڈیا پیشہ ور مظاہرین کو بھڑکا رہا ہے تو دوسری طرف ٹرمپ کے مواخذ ے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں ۔اس کا مطلب تو یہی ہو سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اس صورتحال کا سامنا ہے کہ سرمنڈاتے ہی اولے پڑے ، یعنی بے چارے نے ابھی وائٹ ہائوس میں بطور صدر قدم بھی نہیں رکھا کہ انہیں کرسی صدارت سے محروم رکھنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں ۔ یہ بھی غالباً پہلا موقع ہوگا کہ اگر حلف اٹھانے سے پہلے ٹرمپ کا مواخذہ کامیاب ہو جاتا ہے تو امریکہ کی سیاسی تاریخ ایک نئی صورتحال سے دوچار ہوگی ۔اس سے پہلے جہاں تک مجھے یاد ہے ایک مواخذہ تو سابق صدر نکسن کے خلاف واٹر گیٹ سکینڈل کے حوالے سے ہواتھا جس کے نتیجے میں بالا خر موصوف کو صدارت سے مستعفی ہونا پڑا ۔ دوسرا مواخذہ ہیلری کلنٹن کے شوہر سابق صدر کلنٹن کا ہوا تھا تاہم کلنٹن بہ دقت تمام اس مشکل سے باہر آنے میں کامیاب ہوئے تھے تاہم مواخذے کی یہ دونوں تحاریک دونوں سابقہ صدور یعنی نکسن اور کلنٹن کے قیام وائٹ ہائوس کے دوران شروع کی گئی تھیں ، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تحریک ان کے قصرصدارت میں داخلے سے پہلے ہی سامنے آئی ہے اور اگر یہ تحریک کامیاب ہوتی ہے تو سارا کھیل ایک بار پھر الٹ سکتا ہے ۔
یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

متعلقہ خبریں