مشرقیات

مشرقیات

علامہ دمیری فرماتے ہیں کہ مجھے میرے شیخ نے واقعہ سنایا کہ شاہ اسکندر نے بلاد مشرق کے ایک بادشاہ کے پاس ایک قاصد روانہ کیا ۔ یہ قاصد واپسی میں ایک خط لے کر آیا ، جس کے ایک لفظ کے بارے میں اسکندر کو شک ہوگیا تو اسکندر نے اس سے کہا تیر ا نا س ہو ، بادشاہ پر کوئی خوف نہیں ہوتا ، مگر اس وقت جب ان کے راز افشا ء ہو جائیں تو میرے پاس ایک صحیح اور واضح خط لا یا ہے ، مگر ایک حرف نے اس خط کو ناقص بنا دیا ہے ؟ کیا یہ حرف مشکوک ہے یا یہ لفظ یقینا بادشاہ ہی کا رقم کردہ ہے ۔ قاصد نے جواب دیا کہ یقینی طور پر بادشاہ کا رقم کردہ خط ہے ۔ اسکندر نے محرر کو حکم دیا کہ اس خط کے مضمون کو دوسرے کاغذ پر حرف بحرف لکھ کر دوسرے قاصد کے ذریعے بادشاہ کے پاس واپس بھیج دیا جائے اور اس کے سامنے پڑھ کر اس کا ترجمہ کیا جائے ۔چنانچہ جب وہ خط شاہ مشرق کے حضور میں پڑھا گیا تو اس نے اس لفظ کو غلط قرار دیا اور مترجم سے کہا کہ اس کو کاٹ دیا جائے ۔ چنانچہ وہ لفظ خط سے کاٹ دیا گیا اور اسکندر کو لکھا کہ میں نے خط سے اس حصہ کو حذف کر دیا جو میرا کلا م نہیں تھا ۔ اس لئے کہ آپ کے قاصد کی زبان کاٹنے کا مجھے کوئی اختیار نہیں تھا ۔ چنانچہ جب قاصد اسکندر کے پاس یہ خط لے کر آیا تو اس نے پہلے والے قاصد کو طلب کر کے اس سے دریافت کیا کہ تونے کس وجہ سے یہ کلمہ اپنی طرف سے لکھا جو دو بادشاہوں کے درمیان فسا د کا سبب بن سکتا تھا ؟ میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ سعی تو نے کی ، وہ اپنے مفاد کے لئے کی ، ہماری خیر خواہی کے لئے نہیں ۔ چنانچہ جب تیری امید پوری نہ ہو سکی تو تو نے معزز اور بلند نفوس کے درمیان اس کو بدلے کے طور پر استعمال کیا ۔ اس کے بعد اسکند ر نے اس کی زبان گدی سے کٹوادی ۔
(حیات المحیوان ، جلد دوم )
شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ ایک دانشور نے اپنے والد سے عرض کیا : ابا جان ! ان وعظوں اور علماء کا رنگین و دلچسپ کلام مجھ پر کچھ اثر نہیں کرتا ، اس لیے کہ ان حضرات کے عمل کو ان کے اقوال کے مطابق نہیں پاتا ہوں ، یعنی یہ جو کہتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے دوسروں کو دنیا چھوڑنے کی تعلیم دیتے ہیں اور اور خود سونا چاندی ، غلہ اکٹھا کرتے ہیں ۔ باپ نے فرمایا : اے بیٹے!محض اس غلط خیالی کی وجہ سے نصیحت کرنے والوں کی نصیحت سے منہ پھیرنا ، علما کو گمراہ جاننا اور معصوم عالم کی طلب میں علم کے فائدوں سے محروم رہنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک اندھا ایک رات کیچڑ میں پھنس گیا تھا اور کہہ رہا تھا آخر کسی مسلمان کوتوفیق نہیں کہ ایک چراغ میرے راستہ میں رکھ دے ۔ ایک خوش مزاج عورت نے سنا اور کہا جب تو چراغ دیکھ ہی نہیں سکتا تو چراغ سے کیا خاک دیکھ لے گا ؟ اس طرح وعظ و نصیحت کی مجلس بازار کی دکان کی مانند ہے ، جب تک نقد نہ دے گا ، سامان نہ لے سکے گا ، سوا س جگہ جب تک عقید ت نہ لے جائے گا ، سعادت نہ حاصل کرے گا ۔ (گلستاں)

متعلقہ خبریں