محاذ آرائی سے گریز کا احسن فیصلہ

محاذ آرائی سے گریز کا احسن فیصلہ

اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن)نے ایک پالیسی وضع کی ہے جس میں ریاستی اداروں جیسے فوج اور عدلیہ سے محاذ آرائی سے گریز کرنے اور اپنی ساری توجہ 2018ء کے عام انتخابات کی مہم پر لگانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف رواں ماہ سے رابطہ مہم کا آغاز کریں گے جس میں وہ آئندہ انتخابات کے لیے کارکنوں کو متحرک کریں گے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کی ڈیل کے حوالے سے اس وقت افواہوں نے دم توڑ دیا تھا جب لندن میں پارٹی کی اعلیٰ ترین سطح پر مشاورت کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے وطن واپسی کے بعد تند و تیز بیانات دئیے تاہم بیانات کی تمازت میں کمی اور لہجے میں دھیما پن ضرور آیا تھا۔ مریم نواز کی ٹویٹس اور بیانات پر بات توہین عدالت کے مقدمے تک جا پہنچی تھی۔ مسلم لیگ(ن) کی جانب سے اچانک پی پی پی کی قیادت کو شدت کے ساتھ تنقید کا نشانہ بنانے اور پی پی پی کی جانب سے مسلم لیگ(ن) پر لفظی گولہ باری میں تیزی سے بھی درون خانہ معاملات سے توجہ ہٹانے کی بو محسوس کی جا رہی تھی لیکن اس معاملے کی حقیقت اور مصنوعی پن میں کوشش بسیار کے باوجود امتیاز مشکل تھا ۔سیاسی منظر نامے میں ایم کیو ایم اور پی ایس پی ایم ایم اے کی بحالی اور تئیس جماعتی اتحاد میں سے ایم ایم اے کی بحالی کی توجیہہ کا ادراک مشکل نہ تھا مگر باقی ماندہ امور کی حقیقت و توجیہہ کو سمجھنا مشکل رہا سوائے اس کے کہ ایک پریشر گروپ یا ہوا کھڑا کیا جائے سیاسی دنیا میں جب بساط بچھ جاتی ہے تو فرزیں سے بھی شاطر کے ارادوں کو چھپانا ہی نہیں بلکہ ان کا دھیان بھی دوسری طرف کرنے کی روایت ہے ۔ اگر اس تناظر میں محولہ تبدیل شدہ حالات کو دیکھا جائے تو آخری دم تک دل کی بھڑاس نکالنے کے بعد بالآخر مسلم لیگ(ن) نے وہ راستہ اختیار کرلیا ہے جس کے سوا شاید اس کے پاس کوئی اور راستہ باقی نہیں بچتا تھا۔ محولہ فیصلے سے جہاں مسلم لیگ(ن) کو کچھ رعایتیں ملنے کا امکان ہے۔اگر ایسا نہ بھی ہو یا اس کی وجہ کچھ بھی نہ ہو وہاں دوسری جانب اگر مسلم لیگ(ن) یکسوئی کے ساتھ اگر انتخابات لڑتی ہے اور ایسا کرنے کے لئے وہ اپنا راستہ ہموار کرنے یا رکھنے کی حکمت عملی اختیار کرتی ہے تو اسے مسلم لیگ(ن) کی مشکلات سے نکلنے کی پالیسی قرار دینا غلط نہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمام تر مدوجزر کے باوجود سیاسی منظر نامے پر فی الوقت مسلم لیگ(ن) ہی مضبوط اور موثر جماعت کے طور پر موجود ہے۔ اسے ماضی کی طرح پیپلز پارٹی جیسی مضبوط ترین حریف کا سامنا نہیں۔ تحریک انصاف مقبولیت کے باوجود مسلم لیگ(ن) کی اس طرح کی حریف کا کردار ادا نہیں کرسکتی جیسا پیپلز پارٹی سے اس کا واسطہ رہتا تھا۔ جہاں تک نو تشکیل شدہ اتحادوں اور جماعتوں کا تعلق ہے عام انتخابات کے عمل کا آغاز ہونے میں ابھی کافی وقت باقی ہے فی الوقت مسلم لیگ(ن) کو سیاسی مشکلات سے موافق فضا میں نمٹنے کے لئے ساز گار ماحول کی ضرورت ہے جو ان کے اس فیصلے کے بعد عین متوقع ہے۔ کوئی بھی سیاسی فیصلہ کسی بھی سیاسی جماعت کا بنیادی حق ہے۔ بہر حال وجوہات اور مصلحتیں جو بھی ہوں مسلم لیگ(ن) نے آبیل مجھے مار کی پالیسی ترک کرکے 2018ء کے انتخابات پر ساری توجہ مرکوز کرنے اور رابطہ عوام مہم کا آغاز کرنے کا فیصلہ کرکے احسن فیصلہ کیا ہے۔ قبل ازیں ہم انہی کالموں میں تحریک انصاف کی قیادت کو بھی یہی مشورہ دیتے آئے ہیں کہ ان کو دیگر معاملات سے زیادہ 2018ء کے انتخابات کے لئے تیاری اور زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیابی کی جدوجہد پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سڑکوں پر ایک دوسرے کو کوسنے میڈیا پر الزام تراشی کی سیاست اور خاص طور پر مسلم لیگ(ن) کے ایک حصے کی جانب سے عدلیہ اور اداروں کو نشانے پر رکھنے کے باعث کشیدگی انتشار اور عدم اعتماد کا جو ماحول پیدا ہوا تھا اس سے ملک کے عوام کا سیاستدانوں اور اہل سیاست پر سے اعتبار اٹھتا جا رہا تھا۔ عوام سیاست و اہل سیاست کو ملک و قوم کے مسائل و مشکلات کا سبب سمجھنے لگے تھے جبکہ جاری حالات میں ان کا جمہوری طرز سیاست اور نظام پر سے اعتبار اٹھ جانا فطری امر تھا۔ اگر اسی فضا میں عوام کا سامنا ہوتا تو عوام سے شدید بے زاری کے سوا کچھ نہ پاتے عوام کبھی ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے قیام اور کبھی قبل از وقت انتخابات جیسے غیر یقینی حالات کی بازگشت کے باعث بھی غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار دکھائی دیتے ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ مسلم لیگ(ن) کی طرف سے محاذ آرائی کی بجائے اپنی جماعتی کامیابی پر توجہ اور بلا جواز اور خواہ مخواہ کی کشیدگی میں اضافے کا باعث بننے والے بیانات سے اجتناب کے بعد سیاسی کشیدگی میں کمی آئے گی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اس امر کا موقع ملے گا کہ وہ بھی الجھائو کی سیاست سے نکل کر راست سیاست اپنانے کا فیصلہ کریں گی۔

متعلقہ خبریں