شرف انسانیت کی تذلیل کا باعث واقعہ

شرف انسانیت کی تذلیل کا باعث واقعہ

چترال میں ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے عملے کی طرف سے ایمبولینس میں لے جاکر طبی فضلہ صاف و شفاف دریائے چترال میں بہانے کے کارنامے کے بعد باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں انسانی اعضاء کے کچرے میں پھینکنے کی ویڈیو کا آنا محکمہ صحت کے حکام کے منہ پر طمانچہ مارنے سے سخت اقدام ہے کیونکہ محکمہ صحت نے چترال کے واقعہ کے بعد اس امر کی سختی سے ہدایت کی تھی کہ طبی فضلہ اس طرح سے ٹھکانے لگایا جائے کہ آلودگی نہ ہو یہاں آلودگی ایک طرف حرمت انسان کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ ایک نومولود مردہ بچے کوکچرے کے ڈھیر میں پھینکنے کا الزام اگر ہسپتال انتظامیہ قبول نہ بھی کر ے لیکن علاوہ ازیں جو طبی فضلہ کچرے میں پھینک دیا گیا ہے اس کی کوئی توجیہہ پیش کرنے کی گنجائش ہی نہیں ۔ ہمارے تئیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اس طرح کی شکایت سامنے آنے پر محکمہ صحت کے حکام روایتی طور پر حرکت میں آجاتے ہیں اور دکھاوے کیلئے انکوائری ٹیم مقرر کی جاتی ہے۔ پھر اس ٹیم کی رپورٹ اور ذمہ دارعناصر کے خلاف کارروائی اس لئے سامنے نہیں آتی کہ یہ سارا ڈرامہ ہی معاملے کو دبانے کیلئے رچایا جاتا ہے عملی طور پر نہ تو حکومت اس کا سختی سے نوٹس لیتی ہے اور نہ ہی انکوائری کرنے والے ہم کاروں کے خلاف سخت اور حقیقت پر مبنی رپورٹ لکھنے پر تیار ہوتے ہیں اور نہ ہی متعلقہ حکام اس پر ایکشن لیتے ہیں۔ اس سارے معاملے میں میڈیا بھی واچ ڈاگ کا کردار ادا کرنے کی بجائے محولہ نظام ہی کو تحفظ دیتا ہے یوں معاملہ بھلا دیا جاتا ہے ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے چترال کے ایم ایس کو کام سے روکنے اور محکمہ صحت نے ڈی ایم ایس کو معطل کر کے سینئر ڈاکٹر کوا نکوائری کیلئے بھیجا تھا اس کے بعد کیا ہوا کیا متذکرہ حلقوں میں سے کسی ایک نے بھی اس سلسلے میں زحمت کی یقینا نہیں یہاں تک کہ خبر کے متلاشی ہمارے ہم پیشہ افراد نے بھی نجانے کن مصلحتوں کے باعث خاموشی کی ردا اوڑ ھ لی ۔ ہمارے تئیں اگر کسی ایک واقعہ میں کسی سرکاری افسر کسی ڈاکٹر اور کسی پروفیسر یا کسی ذمہ دار شخص کو قرارواقعی سزا ملے تو اس سے عبرت حاصل کرکے دوسرے بھی اس سے باز آجائیں گے مگر اس کی ابتداکون کرے۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت میں بھی ایسا نہ ہو سکے تو آئندہ کی کسی حکومت سے بھی اس کی توقع ممکن نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر معاملے کو دبانے اور ’’مٹی پائو‘‘ والا یہ رویہ کب تک رہے گا ۔ آخر کب وزیراعلیٰ احکامات کے اجراء کے بعد بھولنے کی بجائے اس حکم کی تکمیل کی ذمہ داری بھی یاد رکھیں گے ۔ چیف سیکرٹری کب اپنے ماتحت محکموں کے سیکرٹری صاحبان سے ان کے محکموں میں ہونے والی کوتاہیوں سے ان کو سخت سست کہیں گے ۔ ایک ماہ کے اندر باعث شرم دوسرا واقعہ اسی لئے پیش آیا کہ چترال والے واقعے کو دبا لیا گیا۔ خدشہ ہے کہ اس واقعے کا بھی یہی حشر ہوگا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا ۔ اچھی حکمرانی کیا ہوتی ہے اور عمال حکومت کی ذمہ داریاں اور اخلاقیات کا تقاضا کیا ہوتا ہے کوئی نہ جانے اگر کسی کو معلوم ہوتا تو یوں انسانیت کی کھلے عام تذلیل کے واقعے سے ہم شرمسار نہ ہوتے ۔
قبائلی علاقوں میں گھر گھر چراغ جلانے کا عمل
کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن کے امتحانات میں نمایاں کارکردگی کے حامل طالبہ کو اسناد و انعامات دینے کی حالیہ تقریب اس بناء پر معمول سے ہٹ کر ایک تقریب قرار پاتی ہے کہ اس تقریب میں آرمی پبلک سکول شمالی اور جنوبی وزیرستان کے طلبہ اور ان کے اساتذہ کرام بھی شامل تھے ۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں تین چار سال قبل جو حالات تھے اس تکلیف دہ صورتحال کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ آج ان علاقوں میں آرمی پبلک سکولز میں مقامی قبائلی بچوں کو معیاری تعلیم مل رہی ہے اور وہ اعزازات پانے کی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں۔ کیڈٹ کالج رزمک میںشمالی وزیرستان کے طلبہ کی نشستیں دس سے بڑھا کر پچاس کردی گئی ہیں جبکہ خیبر ایجنسی کی سرحد طور خم کے سرحد ی علاقے میں نہ صرف مقامی قبائلیوں کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ افغانستان کے سرحدی علاقوں کے بچوں کو بھی حصول علم کا موقع دیا جارہا ہے لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو سرحد کے اس پار ان علاقوں سے متصل علاقوں میں اب بھی ڈرون حملے ہورہے ہیں۔ وہاں سے اکثر دہشت گرد ہمارے سرحد ی علاقوں میں گھسنے کی ناکام کوشش میں مارے جارہے ہیں سرحد کے اس پار کی صورتحال کیا ہے اس سے قطع نظر پوری قوم کیلئے اطمینان کا لمحہ یہ ہے کہ ہمارے قبائلی علاقوں میںامن لوٹ آیا ہے۔ سب سے حوصلہ افزاء بات یہ کہ ہمارے نونہالوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ دفاع وطن کی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے تیار کیا جارہا ہے۔ قوم بجا طور پر توقع رکھتی ہے کہ ان احسن اقدامات کے باعث قبائلی علاقہ جات میں علم کے چراغ جلیں گے اور گھر گھر روشنی آئے گی اور ماضی قریب کی ظلمت قصہ پارینہ بن جائے گی ۔

متعلقہ خبریں