ان مسائل کا حل کیا ہے ؟؟

ان مسائل کا حل کیا ہے ؟؟

یہ بات سمجھنا بہت مشکل ہے کہ ہمارے ملک میں ہر بات ایک مسئلہ کیسے بن جاتی ہے ۔ چھوٹی سے چھوٹی بات اور بڑی سے بڑی بات مسئلہ ہے ۔ اس مسئلے کا حل تلاش کرنا اس سے بڑا مسئلہ ہے ۔ مجھے یاد ہے بچپن میں اکثر میری دادی بار بار یہ بات دہرایا کرتی تھیں کہ مسئلے تو زندگی کا حصہ ہیں ان کا حل تلاش کرنا انسان کا کام ہے ۔ لیکن اب جب میں ملکی حالات اور رویوں کو دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ مسئلہ ہی اصل چیز ہے ۔ کوئی حل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمیں حل نہیں چاہیئے ہوتے ہمیں مسئلوں کی تلاش ہوتی ہے ۔ اس لیے تو ہم نے کبھی معاملات کے حل تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی اور کبھی غلطی سے کوئی حل نکل آیا تو اس کی جانب بہت توجہ نہیں دی کیونکہ وہ ہماری ترجیحات میں ہی شامل نہیں ۔
مردم شماری کا معاملہ فضامیں موجود ہے ۔ اسے ہم مسئلہ بنانا چاہتے ہیں ۔ اس لیے تو کبھی کسی طریقے سے ، کبھی کسی طور اسے مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ابھی تک مردم شماری کے نتائج سامنے نہیں آئے ۔ بہت سی سرگوشیاں فضا میں گردش کررہی ہیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ آباد ی میں اضافہ کچھ اس طور ہوا ہے کہ اگر اصل نتائج سامنے آتے جائینگے تو ایک نیا معاملہ جنم لے لے گا ۔ صوبوں کے درمیان وسائل ، معاملات ، ایوانوں کی سیٹوں کی تقسیم اور کئی قسم کے مسائل جنم لیں گے ۔ یوں بھی انتخابات سے بالکل پہلے اس قسم کے مسائل کو ہوا دینا ، ملک کے لیے مناسب نہیں ۔ وہ درست کہتے ہونگے اور یہ بھی درست ہے کہ یہ ساری باتیں اگر ایسی ہی ہوں تو یقینا لوگوں میں ایک بے چینی جنم لے گی ۔ انتخابات پر ان کی اثرپذیری بھی ہوگی اور لوگ یقینا ناخوش ہونگے لیکن کیا اس ساری بات کی وجہ سے ہم اس معاملے کو یوں ہی رہنے دینگے ۔ کیا معاملات کو اتنا طول دیا جانا درست ہے جس کے نتیجے میں صورتحال ایک نیا رخ اختیار کر لے ہم بس چاہتے ہیں کہ انتخابات کسی بھی قسم کے تعطل کا شکار ہوں ۔ ہم نہیں چاہتے کہ عین وقت پر کوئی ایسا معاملہ جنم لے جس سے ایسی کسی تشویش کو تقویت ملے کہ شاید ملک کسی ٹیکنو کریٹ حکومت کی طرف دھکیلا جارہا ہے ۔ ایک کمزور نظام والے ملک میں جب ایک ہی محکمہ طاقتور اور منظم ہو تو بلاوجہ ہی ہر بات کا الزام بھی اس محکمے پر لگا دیا جاتا ہے ۔ اور اس وقت یقینا اس بات پر بھی غور کیا جارہا ہوگا کہ ایسی کوئی صورتحال درپیش نہ ہو ۔ ساری باتیں اپنی جگہ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے ؟ اور اس حل کے حوالے سے کس حد تک سوچ بچار کی جارہی ہے ۔ مردم شماری کے نتائج کے نتیجے میں ایوان ہائے بالا اور زیریں میں چھوٹے صوبوں کی نمائندگی میں اضافہ ہونا ہے تو اس میں ہچکچا ہٹ کس بات کی ۔ فوری طور پر یہ اضافہ کرکے معاملات کو آگے بڑھانا چاہیئے ۔ اور ایسی کسی تشویش کو ہوا دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے جس کے نتیجے میں پریشانی جنم لے ۔ لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو کہ شاید ان کی مرضی کے بر خلاف ایسی کوئی قوتیں اس ملک میں کام کررہی ہیں جو اپنی ہی مرضی کے فیصلے کروانا چاہتی ہیں جن کے لیے اس ملک میں ان سے زیادہ عقلمند بھی کوئی نہیں ۔ ان لوگوں کے حوالے سے ایک عمومی کیفیت عوام میں موجود ہے کہ شاید یہ لوگ اس ملک پر ہر صورت حکمران رہنا چاہتے ہیں ۔ مردم شماری کے نتائج سامنے نہ لائے جانے میں بھی یہی لوگ ذمہ دارٹھہرائے جانے ضروری ہیں کیونکہ یہ فیصلہ بھی انہی کا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خیال کو آنے والے حالات تقویت دیں گے یا دھول صاف ہو کر کوئی نیا منظر سامنے آئے گا ، اتنی پریشانی کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ کیا ضروری ہے کہ مسئلہ ہی بنا رہے اور اس مسئلے کا کوئی حل سامنے نہ آسکے ۔ کیا ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ ہی معاملات میں اُلجھے رہیں اور کسی جانب سے کوئی راہ سجھائی نہ دے ۔ کیا ضروری ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنے ارد گرد اپنے سایوں میں دشمن دکھائی دیں اور ان کا کوئی سدباب دکھائی نہ دے ۔ جب بھی مردم شماری کی بات ہوئی ہے میں ہر بار اس مخمصے کا شکار رہتی ہوں کہ آخر ہم معاملات کے سُلجھا ئو کی طرف کیوں نہیں جاتے ۔ یہ درست ہے کہ مردم شماری ، اسکے نتیجے میں ہونے والی انتخابی اصلاحات اور پھر غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کے آپس میں تعلق ہوا کرتے ہیں ۔ لیکن سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب متوقع انتخابات سے پہلے مکمل ہو سکتا ہے جبکہ یہ معاملہ نئی حلقہ بندیوں سے بھی نسبت رکھتا ہے اور الیکشن کمیشن کے وسائل اس سب سے موجود وقت میں درست طور عہدہ بر آء نہیں ہو سکتے ۔ مردم شماری کے نتیجے میں ، نئی حلقہ بندیوں کا ہونا بھی ضروری ہے اور صوبوں کی نمائندگی میں بھی تبدیلی آئیگی جس کا تعلق آئین کی شق 51کی تبدیلی سے براہ راست ہوگا لیکن یہ یقینا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک مردم شماری کے نتائج مکمل نہ ہو جائیں ۔ الیکشن کمیشن کو ہر صوبے میں نئے سرے سے حلقہ بندیاں کرنا ہونگی ، آبادی کی شرح کے تناسب سے صوبوں کی سیٹوں کا تعین بھی کرنا ہوگا ، لیکن اگر مردم شماری ہی مکمل نہ ہو ، اس کو اس طرح کیا گیا ہو جس کے نتیجے میں انتخابات کے اوقات کی حدود متاثر ہوتی ہوں ، یا حکمت عملی ہی اختیار نہ کی گئی ہو کہ مسائل پیدا ہی نہ ہو سکیں تو اس معاملے کا کیا حل ہونا چاہیئے ، کیسے ہونا چاہیئے ۔ یہ معاملہ بہت اہم ہے ۔ لیکن پوری قوم پانامالیکس ، نواز شریف کی نااہلی، سیاست دانوں کی بد عنوانیوں کے قصوں میں اُلجھی ہوئی ہے ۔ رہی سہی کسر کراچی میں متحدہ کے ٹوٹے ہوئے گروپ پوری کر رہے ہیں ۔ ہر ایک سیاسی پارٹی سے مائنس ون کے جس فارمولے کی کچھ عرصہ قبل بات ہوتی رہی ہے ، اس پر آج عملدر آمد بھی ہو رہا ہے لیکن ایسی دھول اڑرہی ہے کہ کچھ صاف دکھائی نہیںدیتا اور ہم کچھ بھی پورے طور سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ ہم اُلجھے ہوئے ہیں ۔ مزید بھی اُلجھ رہے ہیں ۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اصل تصویر ہے جوہماری نگاہوں کے سامنے ہے ۔ اور اگر یہ مکمل تصویر نہیں تو اسے ہمارے سامنے پوری طرح سے آشکار ہونے سے کون روک رہا ہے ۔

متعلقہ خبریں