امریکہ چین تعلقات اور دنیا کا مستقبل

امریکہ چین تعلقات اور دنیا کا مستقبل

عالمی امور پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس صدی کے مستقبل کا فیصلہ تیزی سے ترقی کرتا ہوا چین اور اپنی طاقت کھوتا ہوا امریکہ کریں گے۔ چین کی اب تک کی ترقی پُرامن رہی ہے اور امریکہ کے برعکس چین نے دوسرے ممالک کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی کوشش نہیں کی۔ پچھلے 40سالوں کے دوران چین اور امریکہ نے ایک دوسرے پر معاشی انحصار بڑھاتے ہوئے ایک مستحکم سیاسی تعلق قائم کئے رکھا ہے۔ امریکی صدر اور چینی صدر کے درمیان ہونے والی دو ملاقاتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ممالک تھیوسی ڈائڈ کی اس تھیوری کو غلط ثابت کرنے پر آمادہ ہیں جس کے تحت پہلے سے موجود سپر پاور اور ایک ابھرتی ہوئی سپرپاور کے درمیان ٹکرائو ناگزیرہوتا ہے۔انیسویں سی پی سی کانگریس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ژی جن پیانگ نے چین کی میانہ روی کی پالیسی کااعلان کیا تھا جس کے تحت چین 2035ء تک ’’ایک درمیانہ ترقی یافتہ ملک ‘‘ اور ’’ ایک مکمل ماڈرن معیشت اور معاشرت ‘‘ اور 2050ء تک ’’ایک ایسا عالمی لیڈر ‘‘ بننا چاہتا ہے جو دنیا میں ہونے والے اہم فیصلوں پر اثر انداز ہوسکے۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کا ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘ کا نعرہ اس عزم کا اعادہ ہے کہ امریکہ اس سیاسی،معاشی اور سٹریٹجک طاقت کو ہاتھ سے نہیں جانے دے گا جو کہ پچھلے 70سالوں سے اس کے پاس ہے۔ ٹرمپ کے خاص عمائدین میں شامل سٹیو بینن کے مطابق چین امریکہ کے لئے ’’سب سے بڑا خطرہ ہے‘‘۔پوری دنیا اور عالمی امن کے لئے خوش آئند بات یہ ہے کہ امریکی صدرنے چین اور’’ون چائنہ‘‘ پالیسی کی مخالفت کی تحریک کو ختم کرتے ہوئے چین کے ساتھ تعاون بڑھانے اور امریکہ چین ’غیر متوازن‘ تجارت میں تواز ن لانے کی بات کی ہے تاکہ خطے میں شمالی کوریا کے خلاف چین کی مدد حاصل کی جاسکے۔اگر ٹرمپ اپنے موجودہ دورِ حکومت میں یہ اہداف نہ حاصل کرسکے تو انہیں انتہائی مایوسی ہوگی کیونکہ اگر ٹرمپ چین کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی نہیں لاسکتے تو دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی انتہائی خطرناک ہوگی خصوصاًاس صورت میں جب ٹرمپ کے سینئر مشیر، ڈیفنس سیکرٹری میٹس اور سیکرٹری آف سٹیٹ ریکس ٹلرسن ، چین کو امریکہ کا دوست کی بجائے سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں۔ معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو آج بھی امریکہ کو چین پر کافی برتری حاصل ہے ۔ امریکی ڈالر آج بھی دنیا کی سب سے بڑی ریزرو کرنسی ہے، امریکہ آج بھی پوری دنیا کے معیشت اور اداروں پر اثر انداز ہوتا ہے اور امریکہ آج بھی وہ ملک ہے جہاں دنیا میں سب سے زیادہ ٹیکنالوجیکل ترقی اور نئی نئی ایجادات ہوتی ہیں۔ چین کی معیشت کو سب سے زیادہ فائدہ اس کی اپنی 300 ملین آبادی سے ہے جوکہ اس وقت غربت سے نکل رہی ہے اور مڈل کلاس کا پھیلتا ہوا دائرہ چینی مصنوعات کی اپنے ملک کے اندر خریداری میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ اس کے علاہ چین کو سینٹرل ایشیاء سے جوڑنے کاکھربوں ڈالر کا ’’ون روڈ۔ون بیلٹ‘‘ منصوبہ بھی چینی معیشت کی روز افزوں ترقی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ چین ایک ایسا اقتصادی نظام بھی تشکیل دے رہا ہے جوکہ امریکی اقتصادی نظام کا متبادل ثابت ہوگا۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی چین اس وقت امریکہ کے مقابلے کی ایجادات کررہا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا کہ عنقریب اس میدان میں بھی چین امریکہ سے آگے نکل جائے گا۔عسکری لحاظ سے امریکہ کو آج بھی چین پر فوقیت حاصل ہے ۔ امریکہ کا 600 ارب ڈالر کا ملٹری بجٹ آج بھی چین کے بجٹ سے چار گنا زائد ہے۔ ہتھیاروں اور عسکری ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھی امریکہ چین سے بہت آگے دکھائی دیتا ہے اور ایشیاء میں جاپان اور بھارت جیسی بڑی عسکری طاقتوں کے ساتھ بھی امریکہ نے الائنس بنایا ہوا ہے۔ لیکن چین بھی خطے سمیت پوری دنیا میں امریکی عسکری فوقیت میں کمی لانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اگرچہ چین کا دفاعی بجٹ صرف 150 ارب ڈالر ہے لیکن امریکی مصنوعات اور چینی مصنوعات کی لاگت کے درمیان پائے جانے والے فرق کی وجہ سے چینی دفاعی بجٹ سے زیادہ فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں اور زیادہ کام سرانجام دیئے جاسکتے ہیں۔دوسرے نمبر پر صدر ژی جن پیانگ کی رہنمائی میں پی ایل اے کو ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ایک ایسی ایڈوانس فوج بنادیا گیا ہے جو کہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے بالکل تیار ہے۔اگرچہ امریکہ کے ایشیاء میں اتحادی انتہائی طاقت ور ہیں اور اتحادی کے نام پر اس خطے میں صرف پاکستان ہی وہ ملک ہے جس کو چین کا دوست کہا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ چین کے روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات خطے میں امریکی اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے میں چین کے لئے انتہائی معاون ثابت ہوں گے۔ان سب باتوں سے ہٹ کر امریکہ اور چین کے درمیان اصل مقابلہ گورننس کے میدان میں ہے ۔ جہاں چین اپنے ملک سے کرپشن کے مکمل خاتمے کے لئے انتہائی سخت اقدامات کرتا دکھائی دیتا ہے وہیں امریکی نظامِ میں کرپشن کا ناسور تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ اس صورتحال کے تناظر میں امریکہ کو چاہیے کہ وہ چینی صدر ژی جیانگ پنگ کی ’’ انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی‘‘ کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے پورے دنیا کے انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے چین کے ساتھ دشمنی کی بجائے دوستی کرلے ۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں