کابل سے بھارتی گجرات براستہ چاہ بہار

کابل سے بھارتی گجرات براستہ چاہ بہار

بھارت نے 50کروڑ ڈالر کی لاگت سے ایران میں چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر اور تو سیع کا کام مکمل کرنے کے بعد چاہ بہار روٹ پر15 ہزار ٹن گندم کی پہلی کھیپ افغانستان پہنچا دی ہے۔یہ بحری جہاز بھارت سے روانہ ہو کر دو دن میں ایران کی بندرگاہ چاہ بہار پر لنگر انداز ہوا اور ایک ہفتے میں گندم کی کھیپ ٹرکوں کے ذریعے افغانستان کے علاقہ میں نمروز پہنچا دی گئی۔ بھارت نے یہ روٹ گوادر کی بندرگاہ کے متبادل کے طور پر ایران کی مدد سے پایہ تکمیل تک پہنچا یا ہے۔گوادر ایران کی بندرگاہ چاہ بہار سے120کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ بھارت سے پہلے بحری جہاز کے لنگر انداز ہونے اور افغانستان میں گندم کی کھیپ پہنچا کر اس تجارتی راہداری کا آغاز ہو گیا ہے ۔جبکہ دوسرا بحری جہاز تیار کھڑا ہے اور اس سال کے آخر تک بھارت نے ایک لاکھ ٹن گندم افغانستان تک پہنچا نے کے انتظامات کئے ہیں ۔ بھارت نے یہ روٹ افغانستان اور وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تجارت کیلئے متباد ل کے طور پرتعمیر کیا ہے۔چونکہ بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا کے ممالک تک رسائی کیلئے ایک ٹرانزٹ روٹ کی ضرور ت تھی۔پاکستان نے براستہ کراچی ٹرانزٹ روٹ کی سہولت بھارت کو مہیا کی ہوئی ہے لیکن افغا نستا ن کا اسرار ہے کہ بھارت سے مزید تجارتی روابط بڑھانے کیلئے پاکستان براستہ واہگہ بھی افغانستان کو اجازت دے تاکہ افغان ٹرک اس راستے سے بھارت جاسکیں۔لیکن پاکستان بذریعہ خشکی واہگہ کے راستے افغان ٹرکوں کو اجازت نہیں دے رہا ہے۔جس کے رد عمل میں افغانستان نے بھی پاکستان کے ٹرکوں کو وسطی ایشیا تک مال لانے اور لے جانے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے ۔چاہ بہار بندر گاہ کی تعمیر و ترقی میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کر کے بھارت کا استدلال یہ ہے کہ چونکہ گجرات ( بھا ر ت ) اور دیگر علاقے کراچی اور گوادر کے مقابلے میں چاہ بہار سے زیادہ قریب ہیں ۔ اس لئے چاہ بہار کو منتخب کیا گیا ہے۔لیکن بھارت کے عزائم ہر گز ایسے نہیں ہیں۔وہ براستہ کراچی وسطی ایشیائی ممالک کو مال بھیجنے سے کتراتا ہے۔کیونکہ پاکستان کے ساتھ وہ دیر پا تعلقا ت رکھنے کا حامی نہیں ہے۔یا حالات دونوں ممالک کو قریب نہیں آنے دیتے۔ ماضی قریب میں ایسا محسوس کیا گیا ہے کہ جب بھی پاکستان اور افغانستان کے مابین روابط بہتری کی جانب گامزن ہوتے ہیں تو کوئی نہ کوئی حادثہ ایسا رونما ہو جاتا ہے جو دونوں ملکوں کے تعلقات کو متاثر کردیتا ہے۔واہگہ بارڈر کے بارے میں افغانستان کا مطالبہ ہے کہ اپنی مصنوعات پھل اور ڈرائی فروٹ ’’ دہلی ‘‘ کی مارکیٹوں تک پہنچانے کیلئے واہگہ قریب ترین اور سدا بہار روٹ ہے۔جو سال کے ہر سیزن کھلا رہتا ہے۔لیکن پاکستان اور افغانستان کے مابین سیاسی اختلافات اور آئے دن مسئلے مسائل کی وجہ سے یہ روٹ کامیابی کے باوجود تحفظات کا شکار ہے۔پاکستان کا امریکہ کے بعد سب سے بڑا تجارتی پارٹنر افغانستان ہے ۔پاکستان کی مصنوعات کی افغانستان میں بڑی مانگ بھی ہے اورافغان عوام پاکستا ن کی پراڈکٹس کو پسند کرتے ہیں۔اتنی بڑی کثیر تعداد میں افغان مہاجرین کے پاکستان میں اتنے طویل قیام کے بعد پاکستان کی اشیاء کو پہچان گئے ہیں۔سمجھ گئے ہیں اور استعمال کرتے ہیں۔گو کہ گزشتہ تین سالوں سے پاکستان کی افغانستان کو برآمدات میں کمی آرہی ہے۔ 2014 ء میں پاکستان نے افغانستان کو1.32بلین ڈالر ، 2015 ء میں1.34بلین ڈالر جبکہ 2016 ء میں1.19 بلین ڈالر کی اشیاء برآمد کیں۔ اگر طویل مدت کے ریکارڈ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سال 2006 ء میں پاکستان نے افغانستان کو0.63ملین ڈالر کی اشیاء برآمد کیں۔جبکہ سال 2013 ء میں پاکستان کے برآمدات میں اضافہ ہو کر یہ اعداد وشمار 2.1بلین ڈالر تک پہنچ گئیں ۔ سال 2013 ء میں افغانستان کو سب سے زیادہ مقدار میں اشیاء برآمد کی گئیں۔ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو وسعت دینے میں بھارت نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر کے یہ ثابت کردیا ہے کہ بھارت کے ایران کے ساتھ نہایت ہی قریبی تعلقات ہیں ۔بھارت تقریباً 80فی صد تیل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایران سے تیل درآمد کررہا ہے۔امریکی پابندیوں کے باوجود بھارت ایران سے تیل نہ خریدنے کی کسی بھی امریکی اقدام کے سامنے سرنگوں نہیں ہوا۔اُلٹا بھارت نے ایران میں سرمایہ کاری کی ۔جبکہ دوسری طرف امریکہ سے بھی اپنے تعلقات جاری رکھے۔جو بھارت کی کامیاب خارجہ پالیسی کی ایک دلیل ہے۔گوادر بندرگاہ کی تعمیر و ترقی میں چین سرمایہ کاری کررہا ہے۔لیکن سیاسی طور پر گوادر کو وہ بڑی اہمیت نہیں مل رہی ہے۔نہ گوادر کو خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔نہ پاکستان کے پڑوسی ایران اور افغانستان کی ۔اس لئے چاہ بہار پہلے فعال ہوا اور تجارتی قافلے اس پر چل پڑے ۔جبکہ گوادر کی تعمیر و ترقی میں اب بھی دیر ہے۔پاکستان اور افغانستان کے مابین بہتر تعلقات دونوں ممالک کے بہترین مفاد میں ہیں۔سیاسی حالات جیسے بھی ہوںتجارتی دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں۔اس لئے اگر ایک دفعہ پاکستان افغانستان کی مارکیٹ کو کھو دے گا۔تو دوبارہ مارکیٹ میں قدم جمانے کیلئے بہت تگ و دو کی ضرورت ہو گی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے کو زیادہ فعال بنایا جائے اور دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔

متعلقہ خبریں