سیاست کے سینے کا مردہ دل

سیاست کے سینے کا مردہ دل

پاکستانی سیاست میں جھوٹ اور منافقت کا عنصر اس حد تک سرایت کر چکا ہے کہ اب کوئی سیاستدان سچ بھی بولے تو جھوٹ کا گمان ہوتا ہے۔دھوکہ،فریب اور ریاکاری کی اس سیاست کو عوام سمجھتے ہیں لیکن اس کا حصہ بھی بن جاتے ہیں جس کی دو وجوہ ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ ان کے پاس کوئی چوائس نہیں ہے اور دوم یہ چونکہ معاشرہ خود جھوٹ اور منافقت کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اس لئے اہل سیاست میں پائی جانے والی برائیا ں ان کے لئے اچنبھے کی بات نہیں۔الیکشن سے پہلے سیاستدان جو گوشوارے بھرتے اور حلف نامہ جمع کراتے ہیں ان میں غلط اعدادوشمار کا سہارا لیتے ہیں۔

آپ نے سیاست کے بارے میں پڑھا اور سنا ہوگا کہ اس کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔یہ سو فیصد ٹھیک بات ہے۔ابھی کچھ عرصہ پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک نواحی بستی میں ایک با اثر خاندان کے چند لوگوں نے ایک غریب گھرانے کی لڑکی کو سرعام برہنہ کیا اور اسی حالت میں گن پوائنٹ پر اسے پورا گائوں پھرایا اور قہقہے لگاتے رہے۔یہ اندوہناک واقعہ رپورٹ ہوا توپورے ملک کو اس کی خبر ہو گئی لیکن مرکزی حکومت نے اس کا نوٹس لیا اور نہ صوبائی حکومت ٹس سے مس ہوئی۔اعلیٰ عدلیہ نے بھی بروقت اس کا نوٹس نہیں لیا، یہ ایک انتظامی معاملہ تھا جس پر حکومت کو فوری ایکشن لینا چاہئے تھا لیکن چونکہ بے عزت کی جانے والی لڑکی کسی وزیر،مشیر ،ایم این اے یا سینیٹر کی بیٹی ،بھتیجی یا بھانجی نہیں تھی اس لئے کوئی اس کی دادرسی کو آگے نہ بڑھا۔صاف ظاہر ہے ظلم کرنے والے خاندان کو علاقے کے سیاسی عناصر کی پشت پناہی حاصل ہوگی اس لئے ’’صوبے کی غیر سیاسی‘‘ پولیس نے بھی نرم دفعات کے تحت ایف آئی آر کاٹی۔سو ثابت ہوا کہ اس سیاسی نظام میں اصلاحات کے جتنے مرضی پیوند لگا دئیے جائیں یہ اپنی ڈریکولائی ہیئت نہیں بدلے گا۔اس سیاسی نظام میں پولیس کو تحریری طور پر چند احکامات کا پابند تو کیا جا سکتا ہے لیکن یہ لوگ جس مزاج میں ڈھل گئے ہیں اسے بدلنا ممکن نہیں ہے۔طاقتور کی چاکری اور کمزور کی ٹھکائی پولیس کا وہ عمومی رویہ ہے جس کی جڑیں سماجی نظام میں پیوست ہیں۔اس نظام میں ہر طاقتور کمزور کے بخئے ادھیڑتاہے اور کامیابی کا تصور یہ ہے کہ جب تک کمزور کو لاتیں اور گھونسے مار کر نیچے نہیں گرائو گے اس وقت تک تمہاری طاقت کی دھاک نہیں بیٹھے گی سو پولیس کے پی کی ہو ،پنجاب،سندھ یا بلوچستان کی اس سے یہ امید رکھنا عبث ہے کہ وہ کسی مظلوم کا ساتھ دے گی۔پاکستان میں سیاسی نظام کی ہیبت ناکی کو سمجھنا ہو تو تحریک انصاف اس کی بہترین مثال ہے۔یہی عمران خان تھے اور یہی سیاسی میدان لیکن یہ میدان اس وقت تک خالی رہا جب تک کپتان نے سیٹی بجا کر سیاست کے طاقتور کھلاڑیوںکو پاس نہیں بلایا۔وہ نظریاتی سیاست جس نے کپتان کو خارزار سیاست کی طرف دھکیلا تھا ڈیڑھ عشرے تک یتیم و یسیر حالت میں ننگے پائوں دوڑتی رہی لیکن عوام نے اس کے سر پر ہاتھ نہ رکھا لیکن جب اسے ارب پتیوں نے گود لے لیا تو یہ عوام کو بھی عزیز ہو گئی اور اسی عمران خان کے ریکارڈ توڑ جلسے اور دھرنے بھی ہوئے جس کو یہ شکوہ رہتا تھا کہ عوام اس کے انقلاب کا حصہ نہیں بن رہے۔مسلم لیگ مردہ گھوڑا تھا جس میں شریف خاندان نے اپنے پیسے اور طاقت سے جان ڈالی اورنواز شریف کو تین بار ملک کا وزیر اعظم بننے کا موقع ملا۔جماعت اسلامی پیسہ خرچ نہیں کرتی اس لئے پارلیمانی سیاست میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ جماعت کے لوگ اخلاقی اعتبار سے بہتر ہیں لیکن چونکہ ان لوگوں کے پاس الیکشن مہم کے دوران ’’دیگیں کھڑکانے‘‘ اور نوٹوں کے ذریعے دل گرمانے کا سامان نہیں ہوتا اس لئے لوگ ان کنگلوں کو مسترد کر کے ان لوگوں کو چنتے ہیں جو الیکشن پر پیسہ خرچ نہیں کرتے بلکہ لٹاتے ہیں۔ سو سروں پر نوٹ لٹانے والے عیاش ہوں یا ووٹروں کی دلجوئی کے لئے پیسہ پانی کی طرح بہانے والے چوہدری،خان،ملک یا میاں ، عوام انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے اور الیکشن میں کامیاب کراتے ہیں۔سال خوردہ اور بوسیدہ عمارت کو ستر سال بعد گرانا ہی پڑتا ہے ورنہ یہ کئی جانیں لے جاتی ہیں۔ہمارا یہ نظام جس کی سیاست کرپٹ،جس کی معاشرت باعث اذیت، اور جس کے ادارے کھوکھلے ہو چکے ہیں اب زمین بوس کر دینا چاہئے ورنہ یہ اپنے ساتھ معاشرے کو بھی تہ و بالا کر کے رکھ دے گا، اس معاشرے کو جو پہلے ہی آکسیجن ٹینٹ میں پڑاہے۔یہ دیوار دھکا دے کر نہ گرائی گئی تو اکیس کروڑ لوگوں کے اوپر آن گرے گی۔اگر پارلیمانی نظام ملک و ملت پر بوجھ بن چکا ہے تو صدارتی نظام کو موقع دیا جائے۔عدلیہ ہاتھ میں ڈنڈا پکڑ لے اور ملک کو تباہ کرنے والوں کے ساتھ وہ سلوک کرے کہ جب کرپٹ باپ کا آخری وقت آئے تو وہ اولاد کو نصیحت کر کے مرے کہ بھوک برداشت کر لینا مگر کرپشن نہ کرنا۔عبرتوں کی ایسی لازوال مثال قائم کی جائے کہ مورخ جہاں ہماری تباہی اور بربادی کا ذکر کرے تو ساتھ ہی یہ بھی لکھے کہ جب پاکستانی قوم تباہی کے دہانے پر تھی تواس وقت منصفوں نے ہمت کی اور کشتوں کے پشتے لگا کر ،پھانسی گھاٹ سجا کر اوربے رحم انصاف کے ساتھ ہجوم پاکستان کو ایک قوم بنا دیا۔

متعلقہ خبریں