اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہوشیار

اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہوشیار

آسمان سیاست پر ان دنوں رنگ برنگے اتحادوں کے غبارے اپنی بہار دکھا بھی رہے ہیں اور دو دن بہار جانفزا دکھلانے کے بعد ان کی ہوا خارج بھی ہو جاتی ہے۔ ساتھ ہی مختلف سیاسی جماعتوں کی پتنگیں بھی اڑ رہی ہیں یا اڑائی جا رہی ہیں اور جن اتحادوں کی بات ہم نے کی ہے ان کے حوالے سے تو شاعر بہت پہلے کہہ چکا ہے کہ

پھول تو دو دن بہار جانفزا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھاگئے
ایک جانب کراچی میں ایک اتحادی ڈرامہ رچایاگیا اور بڑے طمطراق سے آملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک۔ اپنے سارے اختلافات ایک طرف رکھ کر اتفاق و اتحاد کے اڑن کھٹولے پر سوار ہو کر ایسے ہاتھ ہلا رہے تھے گویا انہوں نے بس کراچی کو فتح کرلیا ہے۔ مگر صرف ایک دن ہی میں اس اتحاد کے غبارے میں نہ جانے کہاں سے سوئی چبھودی گئی کہ ایک زور دار آواز سے فضا میں ارتعاش پیدا ہوگیا اور پھر ایک دوسرے پر اتحاد کی شکستگی کے الزامات سے فضا میں ایسا سموگ اڑا یاگیا کہ ان دنوں ملک کے مختلف حصوں میں جس سموگ سے دھند کی جو چادر تنی ہوئی ہے اس کی بھی بھلا کیا حیثیت ہوگی۔ادھر سابق آمر جنرل(ر) پرویز مشرف کی قیادت میں کئی جماعتوں کے اتحاد کا جو اعلان تین چار روز پہلے سامنے آیا تھا تازہ اطلاعات کے مطابق اس اتحاد کا غبارہ بھی دو جگہ سے پنکچر ہوگیا ہے اور شنید ہے کہ اتحاد میں جن جماعتوں کی شمولیت کا اعلان کیاگیا تھا ان میں سے دو جماعتوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ وہ پرویز مشرف کی سربراہی میں بننے والے سیاسی اتحاد کا حصہ ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے بعد مجلس وحدت المسلمین ( ایم ڈبلیو ایم) نے بھی اس اتحاد سے لا تعلقی کا اظہار کردیا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پرویز مشرف کی سربراہی میں جس عوامی اتحاد کی تشکیل کا اعلان کیاگیا اس میں جن 23جماعتوں کی شمولیت کا دعویٰ کیا گیا ان میں سے ایک درجن سے زیادہ جماعتیں برائے نام اور طویل عرصے سے غیر فعال ہیں جبکہ کئی جماعتوں کی سرگرمیاں انتہائی محدود ہیں۔ اسی طرح سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئر مین صاحبزادہ حامد رضا نے بھی اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ عوامی اتحاد کے ساتھ سنی اتحاد کونسل کا الائنس غیر انتخابی ہے‘ انتخابی سیاست اہل سنت جماعتوں کے گرینڈ الائنس ’’نظام مصطفی متحدہ محاذ‘‘ کے پلیٹ فارم سے کی جائے گی۔ ان حقائق کے بعد لے دے کر آخر کتنی جماعتیں رہ جاتی ہیں جو جنرل مشرف کے سیاسی اتحاد کا حصہ ہیں اور آئندہ انتخابات میں جب بھی ہوں ان کا کتنا اثر و رسوخ ہوسکتا ہے؟ گویا اس اتحاد کے کتنے لوگ انتخابات میں کامیاب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچ سکتے ہیں۔ اکا دکا امیدوار اگر اپنے ہی بل بوتے پر انتخاب جیت بھی جائے تو وہ ملکی سیاست پر کس حد تک اثر انداز ہوسکے گا یعنی گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا‘ اس لئے اس اتحاد کا حشر کیا ہونے والا ہے اس کا اندازہ اگلے چند ہفتوں یا مہینوں میں ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اتحاد بننے سے پہلے ہی بکھرتا دکھائی دے رہا ہے۔
عمر بھر کون ساتھ چلتا ہے
کیوں نہ ہم آج ہی جداہوجائیں
تیسرا اتحاد ایم ایم اے ہے جس کو بکھرے ہوئے ایک عرصہ بیت چکا ہے اور اب اس مردہ تن خاکی میں ایک بار پھر جان ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جمعیت اور جماعت کے علاوہ دیگر کئی مذہبی جماعتوں کے ایک اجلاس میں جو گزشتہ روز منصورہ میں منعقد ہوا اصولی طور پر ایم ایم اے کی بحالی کا فیصلہ کیاگیا ہے اور اب تمام متعلقہ جماعتیں سر جوڑ کر بکھرے ہوئے شیرازے کو کسی ایسے Adhessive سے جوڑنے کے لئے تفصیلات طے کریں گی کہ اب کی بار یہ اتحاد سابقہ حالات سے دو چار ہوکر کہیں تاریخ سیاست کا گمشدہ باب بن کر نہ رہ جائے کیونکہ پچھلی بار خیبر پختونخوا میں اقتدار ہاتھ میں آنے کے بعد وزارتوں کی ناراضگی کا برملا اظہار بھی تاریخ کا حصہ ہے جبکہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر اسمبلیوں میں جس طرح بعض جماعتوں نے لیڈروں کی بہو بیٹیوں اور قریبی رشتہ داروں کو منتخب کروایا وہ بھی ’’ اسلامی عدل و انصاف‘‘ کی منہ بولتی تصویر تھی۔ یہی نہیں سینٹ کی ایک نشست پر خیبر پختونخوا کے باشندے کی جگہ متعلقہ جماعت نے جس طرح صوبے سے باہر کے ایک پروفیسر صاحب کو منتخب کروا کر پختونوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے جبکہ اس دور میں اسلامی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو کن قوتوں نے لانچ کیا تھا اور اسے کس مقصد سے اقتدار دلوایا تھا یہ بھی کوئی سربستہ راز نہیں ہے۔ اقتدار دلوا کر ایم ایم اے سے اس دور میں جو کام لیا گیا اور جس طرح صوبے کے بالائی علاقوں میں انتہا پسندی کو فروغ ملا جبکہ انتہا پسندوں سے کوئی تعرض نہیں رکھا گیااس کا خمیازہ اگلے انتخابات کے بعد کی حکومتوں کو بھگتنا پڑا ‘ یہ بھی صوبے کا بچہ بچہ خصوصاً اور ملک کے عوام عموماً بخوبی جانتے ہیں۔ یہ تو خیر چند جملہ ہائے معترضہ تھے جو مقطع میں سخن گسترانہ بات کی مانند در آئے ہیں جبکہ ایک بار پھر ایم ایم اے کی بحالی پر ان دنوں ملک کے چیدہ چیدہ تجزیہ کار جس طرح کے تبصرے کر رہے ہیں ان کے مطابق تو ایک سیاسی رہنما پر اس اتحاد کو اپنے مفادات کے لئے سیڑھی کے طور پر استعمال کرنے کے دعوے کئے جا رہے ہیں اور د وسری جماعتوں کو تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ وہ ہوشیار رہیں کہیں ایک شخص انہیں ’’بیچ نہ کھائے‘‘ یعنی
اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہوشیار
ایک شخص آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت

متعلقہ خبریں