مشرقیات

مشرقیات

لشکر اسلام اپنے قائد کاحکم پاکر دشمن سے نبرد آزما ہونے کے لئے میدان میں اترا۔ جرنیل قتیبہ بن مسلم نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے جب لشکر میں پھیلے ہوئے خوف و ہراس کا مشاہدہ کیا تو جوانوں کو حوصلہ دلانے کے لئے لشکر میں تیزی سے چکر لگانا شروع کیا ۔ ایک جگہ رک کر جرنیل نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور پوچھا: محمد بن واسع ازدی نظر نہیں آرہے وہ کہاں چلے گئے۔ مجاہدین نے بتایا:وہ لشکر کی دائیں جانب کھڑے ہیں۔پوچھا:وہ وہاں کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا وہ دنیا و مافیہا سے بے نیاز اپنے نیزے پر ٹیک لگائے نگاہیں اوپر اٹھائے آسمان کی طرف اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے ہیں۔ شام ڈھلے دشمن کے پائوں اکھڑ گئے۔
وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔ مجاہدین نے دور تک ان کا پیچھا کیا‘ بعض کو قیدی بنایا۔ قیدیوں میں ایک شرپسند شخص گرفتار ہو کر آیا جو اپنی قوم کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا کرتا تھا۔ اس نے جرنیل سے کہا‘ امیر لشکر میں اپنا فدیہ ادا کرکے قید سے آزادی چاہتا ہوں‘ جرنیل نے لشکر کے ارباب حل و عقد سے پوچھا تمہاری کیا رائے ہے: سب نے کہا: فدیہ وصول کرکے اسے چھوڑ دیا جائے۔ جرنیل نے محمد بن واسع ازدی سے رائے طلب کی انہوں نے فرمایا: مسلمانوں اپنے گھروں سے مال غنیمت اکٹھا کرنے کے لئے نہیں نکلے۔
وہ تو صرف اللہ کی رضا حاصل کرنے اور روئے زمین پر اس کا حکم نافذ کرنے کے لئے نکلے ہیں۔ میری رائے میں یہ شخص کسی وقت بھی مسلمانوں کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ جرنیل قتیبہ بن مسلم نے یہ بات سن کر کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے نزدیک مال و زر کا حصول کبھی مطمح نظر نہیں رہا تبھی ہر میدان میں کامیابی نے ان کے قدم چومے اور جب دولت کی محبت ان کے دلوں میںگھر کر گئی تو ان سب وسائل ہوتے ہوئے بھی غلاموں سے بدتر صورتحال ہے۔
حافظ ابن کثیر الد مشقی ؒ لکھتے ہیں کہ حضرت ابو نواس ؒ کوکسی شخص نے خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟حضرت ابو نواسؒ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان اشعار کی وجہ سے میری مغفرت فرما دی ، جو میں نے نرگس کے پھول کے بارے میں کہے تھے ۔ ان اشعار کا ترجمہ یہ ہے ۔زمین کی نباتات میں غور کرو اور اللہ تعالیٰ کے آثار صنعت کو دیکھو کہ آنکھوں سے نظر آنے والی چاندی (جیسے پانی)کے چشمے اور زمرد کی شاخوں پر پگھلا ہوا سونا، یہ سب چیزیں اس بات پر شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وحدہ لا شریک ہے۔ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوریؒ کوفہ میں بیمار ہوگئے انہوں نے ایک حکیم سے اپنا پیشاب کا معائنہ کروایا۔ طبیب نے معائنے کے بعد کہا کہ یہ ایسے شخص کا پیشاب ہے کہ خوف الٰہی اور غم کے وجہ سے اس کا جگر اور بطن خاکستر ہوچکا ہے۔

متعلقہ خبریں