وزیر اعظم کی پیشکش اور افغان سفیر کا اعتراف حقیقت

وزیر اعظم کی پیشکش اور افغان سفیر کا اعتراف حقیقت

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے افغانستان کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان غیر محفوظ سرحد پر مشترکہ فوجی گشت کی خواہش کا اظہاردونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں کومحفوظ اور باقاعدہ بنانے کے علاوہ غلط فہمیوں کی گنجائش کم سے کم کرنے کی سنجیدہ سعی ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم کا بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر نے پاکستان پر دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پیشکش کی ہے کہ ہم پاک افغان سرحد پر مشترکہ فوجی گشت اور مشترکہ فوجی پوسٹس بنانے کے لیے تیار ہیں۔وزیر اعظم نے پاکستان میں دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جن دہشت گردوں سے لڑ رہا ہے ان کی پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔امریکہ کی جانب سے نئی افغان پالیسی میں پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے مطالبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اب تک مخصوص مطالبات موصول نہیں ہوئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان امریکی حکام کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات پر کارروائی کرے گا۔دریںاثناء عمر زاخیلوال نے پاکستان افغانستان ٹریک ٹو مذاکرات کے موقع پر کہا ہے کہ پاکستان کی افغان پالیسی کامیاب ثابت نہیں ہو سکی ۔ ان کا کہنا تھاکہ افغانستان نے خراب تعلقات میں یوں کردار ادا کیا کہ اس نے انڈیا اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن نہیں رکھا جو غلط تھا۔رائل ڈینش ڈیفنس کالج اور ریجنل پِیس انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس اجلاس میں زاخیلوال نے کہا کہ افغانستان کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو یقین دلائے کہ اس کے بھارت کے ساتھ تعلقات پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دوسری جانب پاکستان میں ریاستی ادارے عوام سے عوام کے تعلقات، تجارت اور سرحد کی بندش وغیرہ میں مداخلت کر رہے ہیں۔وزیر اعظم پاکستان کی پیشکش اور افغان سفیر کے بیان کے تناظر میں دیکھیں تو افغانستان کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا نظر آتا ہے لیکن کیا وہ پاکستان کی پیشکش کو قبول کرنے پر آمادہ ہوگا تو یہ امر مشکل نظر آتا ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیوں کی بنیاد ڈیورنڈ لائن کو سرحد تسلیم کرنے اور نہ کرنے پر پڑی ہے ۔ پاکستان ڈیورنڈ لائن کو سرحد تسلیم کرتا ہے اور تاریخ و معاہدات سے پاکستانی موقف کی تائید و تصدیق ہوتی ہے جبکہ افغانستان کی حکومت یہاں تک کہ طالبان کے دور میں بھی پاکستان سے یہ اختلاف اپنی جگہ موجود رہا ۔ سرحد پر باڑ لگانے سے دہشت گردوں کی آمد ورفت کی روک تھام ہو سکے گی اور غیر قانونی آمد ورفت کا خاتمہ ہوگا لیکن اس پر اتفاق کر کے باڑ لگانے کا مطلب یہ ہوگا کہ افغانستان عملی طور پر حد بندی تسلیم کر کے اس پر باڑ لگانے پر تیار ہے جس کے بعد گویا یہ قدیم تنازعہ طے پایا جائے گا پاکستان افغانستان کو سرحدوں پر مشترکہ گشت کی بھی پیشکش کر چکا ہے جس کا مثبت جواب نہیں آیا ۔ بہر حال افغانستان اگر سرحد پر باڑ ھ لگانے کا متحمل نہیں ہو سکتا پاکستان کی جانب سے اپنی سرحدوں پرباڑ ھ لگانے اورخندقیں کھود کر محفوظ بنانے کا عمل بھی کار گر ثابت ہوگا ۔ پڑوسی ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات اچنھبے کی بات نہیں اس کی بہتر اور موزوں صورت تو ہو سکتی ہے کہ تاریخی دستاویزات اور نقشے کی مدد سے مل بیٹھ کر تصفیہ کر لیا جائے اور اگر ایسا کرنے پر کوئی فریق تیا رنہیں تو اپنے اصولی اختلاف کو کشید گی کا باعث نہ بننے دیا جائے ۔ افغان سفیر کی جانب سے کھل کر اعتراف حقیقت اور معاملے کا ادراک حوصلہ افزاء امر ہے۔ اگر افغانستان اس تسلیم شدہ حقیقت کو سمجھے اور پاکستان کی دشمنی کی قیمت پر بھارت سے دوستی اور ناقابل قبول تعاون کرنے کی بجائے مساویانہ تعلقات رکھے تو دونوں ممالک کے درمیان حالات بہتر ہونے میں دیر نہیں لگے گی اور اعتماد کی فضا پیدا ہونے سے دیگر مسائل و مشکلات اور شکوے شکایات کا خاتمہ ممکن ہوگا ۔ پاکستان کی افغان پالیسی اور افغانستان کی پاکستان کے بارے میں پالیسیوں کا باہم جائزہ لے کر اس امر کا تعین کرنے کی ضرورت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بد اعتمادی کی فضا اور اختلافات کا باعث بننے والے معاملات کو کیسے حل کیا جائے ۔ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کو اس امر کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں دونوں ممالک کے درمیان تجارت سے لیکر ثقافت تک اور خارجہ معاملات سے لیکر داخلی استحکام پر مبنی اقدامات تک ایک دوسرے سے منسلک معاملات کو مل بیٹھ کر اخلاص سے حل کرنے کی سعی کی جائے ۔ دونوں ممالک میں سے جس ملک میں بھی بے چینی ہوگی اس کے اثرات کوسرحد پار محسوس کیا جانا فطری امر ہوگا ۔ خطے میں قیام امن اور خاص طور پر افغانستان کی حکومت کو داخلی استحکام لانے میں پاکستان سے اعانت کا حصول اہم ہے جس کا افغان حکام کو احساس ہونا چاہیئے ۔ افغان حکمران اگر بھارت کی گود میں بیٹھنے اور بھارت کی زبان بولنے کو ترک کردیں تو یہ ایک اچھی ابتداء ہو سکتی ہے جس پر اعتماد سازی کی عمارت قائم ہوسکتی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں