پاکستان میں کرکٹ کی رونقوں کی بحالی

پاکستان میں کرکٹ کی رونقوں کی بحالی

پاکستان کا آزادی کپ کا پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ جیتنا اور ورلڈ الیون کا پاکستانیوں کا دل جیتنا ملکی کرکٹ کی تاریخ کا روشن باب ہے ۔ ہمارے تئیں پاکستانی ٹیم کی کامیابی سے ورلڈ الیون کی ٹیم کی کامیابی کہیںبڑھ کر اہم ہے ۔ ورلڈ الیون کی ٹیم کا تمام تر منفی پروپیگنڈے کے باوجود پاکستان کے دل لاہور میں آکر کھیلنا بجا طور پر پاکستان کے دل جیتنے کے مترادف ہے۔ اس موقع پر فول پروف حفاظتی اقدامات اور کھلاڑیوں کی شاندار مہمان نوازی پر تمام حلقے بجا طور پر خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔ امر واقع یہ ہے کہپاکستان بین الاقوامی کرکٹ سے اتنے عرصے سے محروم چلا آرہاتھا کہ اس کے نوجوانوں کو اپنی سرزمین پر فتح کا ذائقہ ہی بھول چکا ہے۔ اسٹیڈیم اب شاید ہی کبھی روشن ہوتے ہیں، اور وہ اسٹینڈز جو کبھی شائقین اور پرچموں سے بھرپور ہوتے تھے، اب خالی نظر آتے تھے ۔ لیکن لاہور میں سجے اس میلے نے پھر سے رونقیں بھردیں اور امنگوں کو بیدار کیا ۔ پاکستان آزادی کپ 2017 کی میزبانی کر رہا ہے۔ مکررافسوسناک بات ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور ممکنہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے پاکستان میں کرکٹ ایک طویل عرصے تک معطل رہا ہے۔ یہ خشکی 2015 میں زمبابوے کے دورہِ پاکستان کے ساتھ کچھ دیر کے لیے ختم تو ہوئی، مگر یہ دورہ مزید ہلچل مچانے میں اور دنیا کی دیگر ٹیموں کو پاکستان آنے پر قائل کرنے میں ناکام رہا۔اس دفعہ حالات سازگار رہے کیوں کہ آئی سی سی پہلے سے کہیں زیادہ دلچسپی لیتی دکھائی دے رہی ہے۔ویسے تو سیریز کو بین الاقوامی حیثیت حاصل ہے، مگر ایک پاکستانی شائق کے لیے اس سیریز کی اہمیت ہار جیت سے کہیں زیادہ ہے۔ آٹھ سال میں پہلی بار پاکستان ایک اہم بین الاقوامی سیریز کی میزبانی کر رہا ہے جو خود ایک بہت بڑی جیت ہے۔اس سیریز میں پی سی بی کے پاس مہمانوں پر ایک اچھا تاثر چھوڑنے کا موقع ہوگا جو ہمارے مستقبل کی کامیابی پر مہر ثبت کر سکتا ہے۔ اگر سب کچھ صحیح رہا، تو اگلے چند ماہ میں سری لنکا اور ویسٹ انڈیز ہمارے ملک کا دورہ کر سکتے ہیں۔ اس سیریز پر تمام نظریں جمی ہیں اور اس سے ہماری تمام امیدیں وابستہ ہیں۔یہ سیریز ملک میں مزید پی ایس ایل میچز کے انعقاد کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہیں۔ گزشتہ سیزن میں ہم نے دیکھا کہ اہم کھلاڑیوں نے لاہور میں لیگ کا فائنل کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ امید ہے کہ اگلے سیزن میں ملک میں مزید میچز کا انعقاد ہوگا اور زیادہ تعداد میں غیر ملکی کھلاڑی اس ٹورنامنٹ کا حصہ بنیں گے۔بین الاقوامی کرکٹ کی ملک واپسی کا مرحلہ تیز تر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ سیریز مقامی کھلاڑیوں کو اپنے میدانوں پر بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ حاصل کرنے میں بھی مدد دے گی۔
فاٹا کو بلا تاخیر قومی دھارے میں شامل کیا جائے
وفاقی کابینہ میں فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے فاٹا اصلاحات کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری فاٹا کے عوام کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل کیلئے ایک اہم سنگ میل ہے ۔ مجوزہ بل کے تحت سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرہ قبائلی علاقوں تک بڑھایا جائے گا، جبکہ ملک میں رائج قوانین پر فاٹا میں عملدرآمد ممکن ہو سکے گا۔بل کے پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد ایف سی آر قانون کا خاتمہ ہوجائے گا۔ فاٹا میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے اور صوبوں کے اتفاق رائے سے فاٹا کو قابل تقسیم محاصل سے اضافی وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے سیاسی، قانونی اور انتظامی معاملات کی مانیٹرنگ کے لیے وزیر اعظم کی سربراہی میں قومی عمل درآمد کمیٹی پہلے ہی قائم ہے۔فاٹا کے عوام گزشتہ سات دہائیوں سے ایک غیر منضبط نظام کے تحت زندگی گزار نے پر مجبور ہیں جس کے باعث ان میں اس احساس میں شدت فطری امر ہے کہ انہیں بھی ملک کے دیگر حصوں کے عوام کی طرح آئینی حقوق ملیں ۔ گو کہ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں اور خود قبائلی عوام کے درمیان اختلافات موجود ہیں کہ طریقہ کار کیا اختیار کیا جائے۔ اس پر بحث و مباحثہ اورتجویز یں دینی چاہئیں لیکن من حیث المجموع آئینی حقوق دینے کے حوالے سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں بنا بریں اس معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹا نے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیئے اس ضمن میں تاخیری حربے اختیار کرنے کی کوئی صورت نہیں ہونی چاہیئے۔ مقام اطمینان یہ ہے کہ حکومت نے اس ضمن میں چیف آپریٹنگ آفیسر کی تقرری کی صورت میں ایک پیشرفت کی ہے جس کے آنے کے بعد باقی انتظامی معاملات کو آگے بڑھا یا جاسکے گا جبکہ آئینی اداروں میں اس حوالے سے کوئی امر مانع نہیں ۔ ہمارے تئیں مزید تاخیرکے بغیر فاٹا کے عوام کے جمہوری حقوق کی پاسداری ہونی چاہیئے۔ ان کے مطالبات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ بہتر ہوگا کہ وفاقی حکومت 2018ء کے انتخابات سے قبل یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے طے کرے اورفاٹا کے عوام قومی دھارے میں آجائیں ۔

متعلقہ خبریں