فاٹا اصلاحات کا نیا مجوزہ بل

فاٹا اصلاحات کا نیا مجوزہ بل

دو ایک روز پہلے خبرآئی کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک تھے فیصلہ کیاگیا ہے کہ فاٹا میں اصلاحات جلد لائی جائیں گی۔ پھر خبرآئی کہ قومی اسمبلی کی وزارت سیفران سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان نے رواج ایکٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔ پھر خبرآئی کہ فاٹا میں اصلاحات پر عملدرآمدکے لئے ایک چیف آپریٹنگ آفیسر تعینات کیاجائے گا۔اس کے بعد خبر آئی کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے زیرِ صدارت کابینہ کے ایک اجلاس میں فیصلہ کیاگیاہے کہ فاٹا اصلاحات سے متعلق ایک بل جلد پارلیمنٹ میں پیش کیاجائے گا جس کے تحت فاٹا میں ایف سی آر کا نفاذ ختم کردیاجائے گااور اسلام آبادہائی کورٹ اورسپریم کورٹ کا دائرہ اختیار قبائلی علاقوں تک وسیع کر دیاجائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیاکہ قوانین کا مرحلہ وار نفاذ کیا جائے گا۔ یہ بھی فیصلہ کیاگیا کہ قابلِ تقسیم محاصل سے فاٹاکو اضافی وسائل مہیا کیے جائیں گے۔ لیکن اس سے چند ہفتے پہلے تک خبر تھی کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دورِ وزارت عظمیٰ میں حکمران مسلم لیگ ن ہی کی کابینہ میں فاٹا اصلاحات سے متعلق سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی گئی تھی اور ان سفارشات پر مبنی ایک بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ حکمران مسلم لیگ کے وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی کی کابینہ کے ارکان بہت کم ردوبدل کے ساتھ وہی ہیں جو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کابینہ میں تھے۔ لیکن فیصلے میں فرق یہ ہے کہ سابقہ کابینہ نے سرتاج عزیز کمیٹی کی جن سفارشات کی منظوری دی تھی ، ان کا مقصد یہ تھا کہ وفاق کے زیرِ اہتمام قبائلی علاقے (فاٹا) کو پانچ سال تک مختلف شعبوں میں اصلاحات نافذکرنے کے بعدایک ریفرنڈم کے ذریعے خیبر پختونخوا میں ضم کردیاجائے گا۔ جبکہ موجودہ کابینہ کے فیصلے میں فاٹا اور خیبر پختونخوا کے انضمام کاکوئی ذکر نہیں ہے۔سابقہ بل میں یہ تجویز بھی تھی کہ فاٹامیں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرائے جائیں گے تاکہ فاٹاکے عوام کو خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی میں نمائندگی حاصل ہو سکے اور وہ صوبائی سطح پر قانون سازی میں حصہ لے سکیں۔ لیکن اب جو بل پارلیمنٹ میں لانے کافیصلہ کیاگیاہے اگرچہ اس کامسودہ عوام کے مشاہدے کے لیے مشتہر نہیں کیاگیاتاہم فیصلے کے جو خدوخال سامنے آرہے ہیں ان میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کاذکرنہیںہے۔ اس سے ایک مطلب یہ اخذکیا جاسکتاہے کہ نئی مجوزہ فاٹا اصلاحات میں فاٹا کاخیبرپختونخوا میں انضمام مقصود نہیںہے۔ یہ بات قارئین کو یادہوگی کہ سرتاج عزیزکمیٹی کی سفارشات یعنی فاٹاکے خیبر پختونخوامیں انضمام کی فاٹامیںوسیع حمایت کااظہار ہوا تھا۔ اسلام آباد کے کنونشن ہال میں فاٹاکے ارکان قومی اسمبلی نے ایک اہم اجلاس منعقدکیا تھا اور مطالبہ کیاتھا کہ جلد ازجلدسرتاج عزیز سفارشات پر عملدرآمدکیا جائے جہاں تک یاد ہے ان سفارشات پر مبنی ایک بل قومی اسمبلی میں پیش بھی کردیاگیا تھا لیکن بوجوہ اس پر بحث شروع نہیںہوسکی تھی۔اب جو فیصلہ کیا گیاہے اسکے مطابق اسلام آبادہائی کورٹ کا دائرہ اختیار قبائلی علاقوں تک وسیع کرنے کا صاف مطلب ہے کہ فاٹا وفاق کے زیرِ انتظام رہے گا۔ اگر خیبرپختونخوا میں انضمام مقصود ہوتا تو پشاورہائی کورٹ کادائرہ اختیارفاٹا تک وسیع کرنے کی بات نہ ہوتی۔ ایک اشاعیہ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں رائج قوانین کافاٹا میں نفاذبتدریج ہوگا ۔ یہ تدریج کیا ہو گی اس کے بارے میں جب مجوزہ بل عام مشاہدے کے لیے مشتہر کیا جائے گا تبھی ہی پتہ چلے گا۔سرتاج عزیز سفارشات میں بھی فوری طور پر فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام تجویز نہیں کیاگیا تھا بلکہ کہاگیاتھاکہ مجوزہ اصلاحات کے نفاذ کے پانچ سال بعد فاٹا میں انضمام کے سوال پر ریفرنڈم کرایا جائے گا۔تاہم ان سفارشات کے باعث انضمام کے حق میں رائے عامہ ہموار ہوگئی تھی۔ اور فاٹاسے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ارکان نے بھی انضمام کا مطالبہ کر دیا تھا۔نئے مجوزہ بل میں اگرچہ انضمام کاذکر سامنے نہیں آیا تاہم یہ کہا جا رہاہے کہ وسیع پیمانے پر اصلاحات کی جائیں گی۔ انضمام ہویا انضمام کے بغیر اصلاحات ہوں جن کے ذریعے فاٹا کے عوام کو پاکستان کے دیگر علاقوں کے عوام کے برابر حیثیت مل جائے مقصد یہی ہونا چاہیے۔ تاہم ایک اصولی بات ہے کہ قانون وہی مفید ہوتا ہے جو عمومی طور پر پسندیدہ قانون ہو ۔ انگریزی میں اس کے لیے Good Lawاور Bad Lawکی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔وہی اچھا قانون ہوتاہے اور اسی کی پاسداری یقینی ہوتی ہے جو ان لوگوں کو پسند ہو جن پر یہ قانون لاگو ہوتاہے اور وہ اس میں اپنے مسائل کا حل دیکھ سکیں۔ یعنی قانون کو رائے عامہ کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر چوری کے خلاف قانون ہر معاشرے میں پسند کیا جاتا ہے اور تسلیم کیاجاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہوتا اگر حکومت فاٹا اصلاحات کے بارے میں جستہ جستہ خبر عام کرنے کی بجائے مجوزہ اصلاحات پر مبنی بل یکبارگی مشتہر کر دیتی اور اس پر سیاسی جماعتوں اور فاٹاکے رائے عامہ کے قائدین سے مشاورت کر لیتی۔ یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ نیا بل سرتاج عزیزسفارشات کوملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے بنایاگیا ہوگاجن کی تیاری کے لیے سرتاج عزیز کمیٹی نے وسیع پیمانے پر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ اصل مسئلہ انضمام نہیں بلکہ انضمام ایک آسان اور قابلِ فہم ذریعہ ہے ان اصلاحات کاجو فاٹا کے عوام کا مطالبہ ہیں۔ لیکن یہ بات عام معلومات کا حصہ ہونے کے لیے کہ نیا بل فاٹا کے عوام کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کرتاہے اور انہیں پاکستان کے برابرکے شہری کی حیثیت اور حقوق دیتاہے۔ ضروری ہے کہ نیا بل جلدازجلدعام مشاہدے کے لیے مشتہر کیا جائے تاکہ اسے عوام کی حمایت حاصل ہو جائے۔

متعلقہ خبریں