نواز دور کے منصوبوں کا ریکارڈ ہی کیوں جلتا ہے؟

نواز دور کے منصوبوں کا ریکارڈ ہی کیوں جلتا ہے؟

مشتاق سکھیرا کچھ ایسے '' سبز قدم'' ہیں۔ جون 2014ء میں پنجاب کے آئی جی پولیس مقرر ہوئے تو سانحہ ماڈل ٹائون لاہور ہوگیا۔ 14 مرد و زن کھیت ہوئے۔ پولیس کی وردیاں پہنے دہشت گردوں نے عفت ماب خواتین کے منہ میں سرکاری گولیاں اتاریں۔ ملازمت کے دوران انہوں نے جی بھر کے ریاست ہائے متحدہ جاتی امراء شریف کی خدمت کی۔ اس خدمت کے صلے میں پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر مقرر ہوئے اور اب وفاقی ٹیکس محتسب نامزد ۔ جونہی انہوں نے ٹیکس محتسب کا حلف اٹھا کر قدم رنجہ فرمایا وفاقی ٹیکس محتسب کے دفتر میں آگ لگ گئی۔ اس عمارت میں سی پیک منصوبے کا سول دفتر بھی تھا۔ 5منزلہ عمارت مکمل طور پر تباہ اور عمارت میں موجود ہر قسم کاریکارڈ جل گیا۔ کیسی عجیب بات ہے نا سندھ میں فقط خوبصورت ہندو لڑکیوں پر حق آشکار ہوتا ہے لڑکے حق سے دور بھاگتے ہیں۔ بچے فقط تھر میں مرتے ہیں۔ گندگی صرف کراچی میں ہے۔ پنجاب میں تو مقدس پانی سڑکوں گلیوں پر گشت میں مصروف ہے۔ چلیں اس بات کو یہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ جناب مشتاق سکھیرا کو مبارک ہو'نا 9من تیل ہوگا نارادھا ناچے گی۔ عوامی مرکز اسلام آباد میں بظاہر آگ سرکٹ شارٹ سے لگی۔ بالکل ویسے جیسے کبھی لاہور کے مال خانے میں لگی تھی۔ یا ایل ڈی اے پلازہ میں میٹرو بس منصوبے کے ریکارڈ کو۔ ایک بار ایجرٹن روڈ پر پی ٹی سی ایل کے دفتر کی بالائی منزل میں بھی جہاں کسی زمینی منصوبے کا ریکارڈ رکھا تھا۔ شارٹ سرکٹ آگ اور مسلم لیگ(ن) میں محبت کا کوئی دیرینہ رشتہ ہے۔ مسلم لیگ کے بانی ( یاد رہے کہ موجودہ مسلم لیگ(ن) اس مسلم لیگ کے بطن سے برآمد ہوئی تھی جس نے 1985ء کی غیر جماعتی اسمبلی میں جنم لیا تھا) جنرل ضیاء الحق نے ایک دن سائیکل پر دفتر جانے کا شوق پورا کیا تھا ملک کو یہ شوق 50کروڑ میں پڑا۔ کیونکہ اس دن بپھرے ہجوم نے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو آگ لگا دی تھی۔جناب نواز شریف اور ان کی حکومتوں پر وقت کی بالادست اشرافیہ اور آگ ہمیشہ مہربان رہے۔ بالادست اشرافیہ سے ان کی جب بھی بگڑی اپنی کوتاہی کی وجہ سے۔ مثلاً وہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے طے کرکے اقتدار میں آئے تھے کہ جنرل پرویز مشرف کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ خیر چھوڑیں یہ ایک الگ قصہ ہے ان کے پاس رانا ثناء اللہ' مشتاق سکھیرا' طلال و دانیال اور ماروی جیسے فدائی بہت ہیں۔ اب بھی حکومت ان کی ہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کہہ چکے کہ '' میرے وزیر اعظم نواز شریف ہیں'' عوامی مرکز کی عمارت میں آگ لگی ساری دنیا کے ذرائع ابلاغ کہہ رہی ہیں کہ درجنوں دفاتر کا ریکارڈ جل کر خاک ہوا۔ وفاقی وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال فرماتے ہیں ریکارڈ محفوظ ہے۔ لیکن سوال وہی ہے کہ مشتاق سکھیرا جہاں قدم رکھتے ہیں '' بھونچال'' کیوں آجاتا ہے؟ فقیر راحموں کہتے ہیں' سکھیرا صاحب بہت پہنچی ہوئی شخصیت ہیں۔ وہ سوچتے ہیں اور کام خود بخود ہو جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے بات ایسی ہی ہو لیکن سی پیک کے ریکارڈ کے جلنے کی خبر نے اس شک کو تقویت پہنچائی ہے کہ وہ جو کہا جا رہا تھا کہ سی پیک کے منصوبوں میں کچھ گھٹالہ ہے۔ اب اس کا پتہ صاف ہوا۔ ہوسکتا ہے کہ آگ واقعتاً شارٹ سرکٹ سے لگی ہو۔ پر اس طور تو اسلام آباد جیسے اہم شہر میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا پول کھول دیا ہے۔ معاف کیجئے گا بات اتنی سادہ نہیں۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کے مال خانے میں لگی آگ سے عوامی مرکز اسلام آباد تک میں لگنے والی آگ ہر بار نون لیگی سرکار کے دور میں ہی کیوں لگتی ہے اور شارٹ سرکٹ صرف وہی کیوں ہوتا ہے جہاں ریکارڈ ہوتا ہے اور ریکارڈ بھی وہ جس کا تعلق ان منصوبوں سے ہوتا ہے جو نون لیگ کے دور میں شروع ہوئے اور ان منصوبوں کے حوالوں سے کچھ قصے کہانیاں زبان زد عام ہوتی ہیں۔ہمارے ہاں تو لوگوں کی سادگی کا عالم یہ ہے کہ 2000ء میں جب میاں نواز شریف جنرل پرویز مشرف سے ایک عدد معافی نامے کے عوض 10سالہ معاہدہ جلا وطنی کرکے سعودی عرب چلے گئے تو یار لوگوں نے کہنا شروع کردیا '' دیکھو جی اللہ کو نجانے کونسی ادا پسند آئی اس نے نواز شریف کو سرزمین مقدس پہنچا دیا'' اب بھی کچھ عاقل و بالغ لوگ فرما رہے ہیں۔ جب سے نواز شریف کو نکالاہے آسمان رو رہا ہے۔ پنجاب میں تو سیوریج لائین ابل رہی ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ پھر سے شروع ہوچکی۔ مہنگائی بڑھ گئی ہے۔ یہاں تک کہ نواز شریف کی موجودگی میں 30روپے کلو فروخت ہونے والا پیاز 100روپے کلو اور 40روپے کلو کا ٹماٹر بھی 100 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ ایسے ہی ایک دوست کی خدمت میں عرض کیا حکومت تو اب بھی مسلم لیگ (ن) کی ہی ہے۔ پھر یہ مہنگائی اور مسائل کیوں؟ جواب میں بولے '' شاہ جی جو برکتیں نواز شریف کے دم قدم سے تھیں وہ روٹھ گئیں۔ ہورنکالو نواز شریف کو'' اب ان سادہ لوگوں کو کون سمجھائے کہ اگر برکتیں اس طرح اٹھتی ہیں تو اللہ بچائے ایسی برکتوں سے۔ ہمارے ایک دوست رگوپھٹے توڑ کہتے ہیں مشتاق سکھیرا بھی نواز شریف کی ''برکتوں'' میں شمار کئے جاسکتے ہیں۔ عوامی مرکز اسلام آباد میں لگنے والی آگ کا ایک دلخراش پہلو یہ بھی ہے کہ دونوجوان امدادی کارکنوں کی نا اہلی کی وجہ سے جان سے گئے۔ عذر طلب بات یہ ہے کہ جب عمارت کا ہنگامی راستہ محفوظ تھا تو ان نوجوانوں کو امدادی کارکنوں نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگانے کے لئے کیوں کہا؟ خصوصاً اس صورت میں جب چھلانگ لگانے والوں کو محفوظ کرنے کا ساز و سامان بھی موجود نہیں تھا؟ اس سوال پر غور کے ساتھ تحقیقات بہت ضروری ہے تاکہ اگر امدادی کارکنوں کی تربیت میں کوئی کمی رہ گئی ہے تو مستقبل میں اسے دور کیا جاسکے۔

متعلقہ خبریں