بھارت کا جنگی جنون اور خطے کی غربت

بھارت کا جنگی جنون اور خطے کی غربت

بھارتی آرمی چیف بپن راوت کی جانب سے بھارتی فوج کا ممکنہ طور پرپاکستان اور چین کے خلاف دو محاذوں پر لڑنے کا بیان کافی مایوس کُن ہے۔ بھارتی جنرل کے اس بیان کو سنجیدگی سے لینا کافی مشکل ہے کیونکہ انہوں نے اپنے بیان کی معاونت میں کوئی خاطر خواہ دلائل پیش نہیں کئے۔ یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ چین کی پوری توجہ اس وقت اپنی معیشت کو ترقی دینے پر مرکوز ہے اور کسی بھی جنگ کی صورت میں چین اپنے معاشی مفاد حاصل نہیں کرسکتا۔ جنرل راوت کے اس بیان کے بعد بہت سے حلقوں نے یہ سوال اٹھانا شروع کرد یا تھا کہ کیا جنرل راوت کا مذکورہ بیان ان کی ذاتی رائے ہے یا انہوں نے سیاسی حکومت کی اجازت سے یہ بیان جاری کیا ہے۔ چینی حکومت نے مذکورہ بیان کے بعد اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جنرل راوت کے بیان اور وزیرِ اعظم نریندرمودی کی چینی صدر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے درمیان واضح تضاد پایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے یہ سوال بھی اٹھا یا کہ کیا جنرل راوت کو یہ بیان جاری کرنے سے پہلے اپنی حکومت کی اجازت حاصل تھی۔ترجمان کے مطابق وزیرِ اعظم مودی اور صدر ژی جنگ پنگ نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے لئے خطرہ قرار دینے کی بجائے ایک دوسرے کا تجارتی پارٹنر قرار دیا ۔موجودہ دورِ حکومت میں ایسا لگ رہا ہے کہ ایک وقت پر' 'نان الائنڈ موومنٹ'' کا کٹر حمایتی بھارت ہندو دائیں بازو کے قائدین کے زیرِ اثر سامراجی طاقتوں کا آلہ کار بن چکا ہے۔لیکن دونوں ممالک دو الگ الگ نظریات رکھنے کے باوجود بھی کسی عسکری جارحیت کے متحمل نہیں ہوسکتے کیونکہ مذکورہ دونوں ممالک کی بے تحاشہ آبادی اور خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں کی شرح ان سے معاشی استحکام کا مطالبہ کرتی ہے۔جنرل راوت نے اپنے اس متنازعہ بیان میں پاکستان کو بھی گھسیٹ لیا ہے لیکن پاکستان نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس بیان پر اپنا ردِ عمل ظاہر نہیں کیا کیونکہ پاکستان جانتا ہے کہ خطے میں کسی بھی جنگ کی صورت میں پاکستا ن میں چینی سرمایہ کاری ختم ہوجائے گی۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی بھی ملک ایسی کسی جنگ کے بارے میں کیوں سوچے گا ؟ کیا پاکستان، جس کی 6 کروڑ آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، ایسی کسی محاذ آرائی کا متحمل ہوسکتا ہے ؟کیا بھارت، جس کی 27 کروڑ آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے ، ایسی کسی جنگ کا متحمل ہوسکتا ہے جو اس کی معاشی ترقی کی رفتار پر قدغن لگا دے ؟ کیا چین، جو ایک سپر پاور بننے کے خواب دیکھ رہا ہے، اپنی سرحد پر کوئی ایسی کشیدگی برداشت کرسکتا ہے جس سے اس کے معاشی حریفوں کو فائدہ پہنچے ؟ اس خطے میںجنگ کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔ بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کو دھمکیوں کی بجائے چین سے یہ سیکھنا چاہیے کہ اتنی بڑی آبادی کو غربت سے نکال کر ترقی کی راہ پر کیسے گامز ن ہوا جاسکتا ہے۔ اگرچہ اب بھی چین میں مسائل موجود ہیں لیکن اگر سماجی ترقی و خوشحالی کی بات کی جائے تو چین بھارت کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس کی درجہ بندی کے مطابق چین 90 ویں درجے پر موجود ہے جبکہ بھارت 131 ویں درجے پر ہے۔چین میںاس وقت اوسط عمر 76 سال جبکہ بھارت میں 68.3 سال ہے ۔ چین میں سکول میں گزارے گئے سالوں کی اوسط 7.6سال جبکہ بھارت میں صرف 6.3 سال ہے۔چند سال پہلے، بھارت کی نوبیل انعام یافتہ شخصیت امریتا سین نے عوام کی خدمت کے حوالے بھارتی حکومت کی ناکامی کے اعدادوشمار پیش کئے تھے جن کے مطابق بھارت میں ہر 1000 نوزائیدہ بچوں میں سے 50 بچے نوزائیدگی میں ہی مر جاتے ہیں جبکہ چین میں یہ شرح صرف 17 بچے ہیں۔ اسی طرح بھارت میں ہر ایک لاکھ میں سے 230 خواتین زچگی کے دوران زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں جبکہ چین میں یہ شرح صرف 38 خواتین ہے۔ چین کی شرحِ خواندگی 94 فیصد جبکہ بھارت کی شرحِ خواندگی صرف 74 فیصد ہے۔بھارت میں صرف 66 فیصد بچوںکو حفاظتی ویکسین لگائی جاتی ہے جبکہ چین میں یہ شرح 97 فیصد ہے۔ امریتا سین کے مطابق بھارت کے لئے سب سے زیادہ خطرے کی بات بچوں میں غذائیت کی کمی ہے کیونکہ بھارت کے بچوں کی کل آبادی کانصف غذائیت کی کمی کا شکار ہے جبکہ چین میں غذائیت کی کمی کے مسئلے سے دوچار بچوں کی تعداد انتہائی ہے۔ بھارت کو اپنی آبای کو درپیش ان مسائل پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے نہ کہ اپنے ہمسایوں کو دھمکیاں دینے اور سرحد پر کشیدگی پیدا کرنے کی ۔ چین کے ماڈل کو سامنے رکھتے ہو ئے پاکستان اور بھارت کو غربت کے خلاف جنگ کا آغاز کرنا چاہیے اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ اس حوالے سے سب پہلا قدم ہوگا کیونکہ بھارت میں دائیں بازو کی حکومت کے بعد مذہبی انتہاء پسندی میں اضافہ ہوا ہے اور یہ انتہا پسندی بھارت کو جنگ کی جانب دھکیل رہی ہے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں