سکائی لیب لیڈ ر اور سیاسی غلام

سکائی لیب لیڈ ر اور سیاسی غلام

اس موضوع پر میں پہلے بھی مختلف مواقع پر لکھ چکا ہوں اور اب جبکہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے سینئر اینکر سیلم صافی کے ساتھ گزشتہ روز نشر ہونے والے دو حصوں پر مشتمل انٹر ویو میں اس موضو ع پر خامہ فرسائی کی ہے تو ایک اور سینئر کالم نگار ، حسن نثا ر نے بھی بعض تلخ جملوں سے مزین اپنے کالم میں اس جانب توجہ دلائی ہے ، تاہم اسے ہم ملکی سیاست میں ایک اور پنڈورا باکس سے تعبیر نہیں کر سکتے ، اگر چہ معاملہ نہ صرف اہم ہے بلکہ ملک کے سنجیدہ فکر حلقوں کی توجہ کا مستحق بھی ۔ چوہدری نثار علی خان نے سلیم صافی کے ایک سوال کے جواب میں بڑی صاف گوئی سے اور بر ملا اس بات کا اظہار کیا ہے کہ مریم نواز کو وہ اپنے دوست سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بیٹی ہونے کے ناتے خود اپنی بیٹی کا درجہ دینے کو تو تیار ہیں تاہم انہیں سیاسی لیڈر تسلیم کر نے کو ہر گز تیا رنہیں تاوقتیکہ وہ سیاست کے میدان میں خدمات بجا لا کر خود کو ایک سیاسی رہنماء یا نواز شریف کی جانشین ثابت نہ کردیں ، انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ موازنے کے حوالے سے بھی کہا کہ بے نظیر صاحبہ نے بھٹو کے بعد سیاسی میدان میں بہت مسائل او رمصائب جھیلے، عدالتوں میں ٹھوکر یں کھاتی رہیں ، جیل جانے اور جلاوطنی کی سزا کاٹی ، سیاست کے میدان میں جدو جہد کی تب کہیں جاکر خود کو سیاسی لیڈ ر کے طور پر منوایا ، گویا چوہدری نثار علی خان نے واضح کردیا ہے کہ رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پیس جانے کے بعد جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ بد قسمتی سے ہماری سیاست پر موروثیت کی چھاپ اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ تقریباً ہر سیاسی جماعت پر خاندانی قابضین براجمان ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ محترمہ بے نظیر نے خود کوا پنی سیاسی بصیرت ، قائد انہ صلاحیت اور ژرف نگاہی سے خود کو صف اول کی رہنماء کے طور پر تسلیم کراتے ہوئے ایک عالمی مدبر کے طور پر خود کو منوایا ، تاہم محترمہ کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے محترمہ کی وصیت (جس پر بعض لوگوں کے نزدیک شکوک کے گہرے اور دبیز سائے پڑے ہوئے ہیں )کے مطابق ایک نابالغ کو پارٹی پر بطور چیئر مین مسلط کیا اورخود ان کے سیانے ہونے تک نگران چیئر مین کے طور پر کردار سنبھال لیا ۔ حالانکہ یہی تو وہ اعتراض ہے جو حسن نثار نے بھی اپنے کالم میں اٹھا تے ہوئے لکھا ہے کہ ''یہ کل تک جن کی گود میں کھیل رہا تھا ۔ انہی کے سفید سروں پر بٹھا دیا گیا بلکہ چوہدری اعتزاز احسن کا تو میں نام لے لے کر احتجاج کرتا رہا کہ کچھ تو حیا کرو کہ اعتزاز کا علم ، عقل ، تجربہ ، دانش اور گہرائی ، کہاں بلاول کی کم سنی ، لیکن ہمارے لیڈر اتنے ڈھیٹ اور چکنے گھڑے ہیں کہ دکھاوے تک کا تکلف تردد نہیں کرتے یعنی ایک موروثیت اوپر سے وہ بھی مکروہ ترین ، چند سال بھی صبر نہیں کر تے کہ بیٹا یا بیٹی کچھ عرصہ کسی چھوٹے موٹے پراسیس سے ہی گزر لے ''۔ حسن نثار نے اور بھی بہت سخت جملے لکھے ہیں تاہم ان سے قطع نظر میں یاد دلادوں کہ خود میں نے بھی اس موروثی سیاست کے حوالے سے اپنے بعض کالموں میں انہی لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ حیرت ان دانشور قسم کے سیاسی رہنمائوں پر ہوتی ہے جو کل کے بچوں کے سامنے بھیگی بلی بن کر ایسے کھڑے ان کے '' خیالات عالیہ ''سنتے رہتے ہیں جیسے یہ ان کے غلام ہوں ، اب تو یہ کہنے میں بھی کوئی باک نہیں کہ یہ جو مختلف سیاسی جماعتوں پر قابض خانوادوں کے نونہال پارٹیوں کی وساطت سے عوام پر مسلط کئے جارہے ہیں یہ تو ایسے لگتا ہے کہ سیاسی سکائی لیب ہیں جو مختلف سیاسی جماعتوں پر آسمان سے گر کر سب کچھ تہس نہس کر رہے ہیں ۔ یعنی معاملہ صرف بلاول زرداری جیسے سیاسی نابالغ تک محدود نہیں ہے ۔ لیگ (ن) پر آجکل مریم نواز مسلط ہو رہی ہیں ، تو اے این پی پر بھی مستقبل کے حوالے سے مسلط کرنے کیلئے ایک سیاسی نابالغ کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دینے کی تیاری کی جارہی ہے ، حالانکہ اس سکائی لیب کے بارے میں یہاں تک اے این پی دور میں افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ موصوف وزیراعلیٰ ہائوس کی انیکسی میں بیٹھ کر فائلیں آگے سرکانے کیلئے '' ایزی لوڈ '' کی نگرانی کرتے رہے ہیں ، اس ''سکائی لیب '' کی بھی کوئی سیاسی خدمت نہیں ماسوائے اس کے کہ موصوف کا تعلق پارٹی کے حکمران خاندان کے ساتھ ہے اور ملک میں رائج سیاسی روایات کے مطابق آگے جا کر پارٹی کی قیادت سنبھالنی ہے جبکہ پارٹی ورکرز بلا چون وچرا آنکھیں بند کر کے ایک دن موصوف کی قیادت کو بھی بہ امر مجبوری تسلیم کرلیںگے ۔ اور ہر سیاسی جماعت کی طر ح یہ بھی فخر یہ طور پر جمہوریت کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے کہیں گے کہ ہم جمہوریت کو مضبوط کرنے کے داعی ہیں ، گویا ''چہ دلا ور است دزدے کہ بکف چراغ داری ''جن سیاسی جماعتوں کے اپنے وجود میں جمہوریت کانام و نشان نہ ہو اور موروثیت کی بنیاد پر ان کی سرگرمیاں جاری و ساری ہوں ، باپ کے الگ ہونے کے بعد بیٹا یا بیٹی گدی نشینی کا حق رکھتے ہوئے پارٹی پر قابض ہوں ، وہ کس اخلاق اور قانون سے جمہوریت کا راگ الاپنے کی حقدار قراردی جا سکتی ہیں ؟ تاہم اصل مسئلہ ان نام نہاد سیاسی رہنمائوں کی سوچ کا ہے جو پارٹی کے موروثی '' حقدار '' سے کہیں زیادہ عقلمند ، زیر ک اور سمجھدار ہیں مگر پارٹی پر قابض نابالغوں کے سامنے غلاموں کی طرح کھڑے رہنے پر تیار رہتے ہیں ۔

گویا کہہ رہے ہوں
پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگنا
خرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے

متعلقہ خبریں