مشرقیات

مشرقیات

اورنگزیب کے زمانے میں ایک صوفی اور درویش شیخ محب اللہ الہ آبادی کے نام سے گزرے ہیں ۔ انہوں نے ایک کتاب تسویہ کے نام سے لکھی ، جس میں علاوہ اورامور کے جبرائیل اور وحی کی حقیقت کا اظہار کیا گیا جو بادشاہ کو پسند نہ آیا ، جب یہ رسالہ شاہ اورنگ زیب کی نظر سے گزرا تو شدید انکار کیا ۔ شیخ اس زمانے میں رحلت کر چکے تھے ، لیکن ان کے نامور مریدوں میں سے دو شخص پایہ تخت میں موجود تھے ۔ ایک میر سید محمد جو ملازم شاہی اور امرائے دربار میں سے تھے ۔ دوسرے شیخ محمد ی جو لباس درویشی وزہد میں تھے ۔
اول بادشاہ نے میر سید محمد سے تسو یہ کی اس عبارت کی شرح دریافت کی ۔ سید نے شیخ کی مریدی سے انکار کر کے اپنی جان و آبرو بچالی ۔ بعد ازاں بادشاہ نے شیخ محمد ی کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر تمہیں شیخ کی مریدی کا اقرار ہے تو احکام شرح شریف سے اس رسالہ کے مقد مات کو مطابق کر کے بتائو اور اگر مطابق نہیں کر سکتے تو ان کی مرید ی سے استغنا کرو اور کتاب کو آگ میں ڈال دو۔ شیخ محمدی نے جواب دیا ، مجھے نہ ان کی مریدی سے انکار ہے نہ استغنا کی ضرورت ، لیکن جس مقام سے کہ شیخ نے گفتگو کی ہے ، مجھے وہاں تک رسائی حاصل نہیں ہے جس وقت میں اس رتبہ کو پہنچ جائو ں گا تو آپ کی درخواست کے بمو جب اس کی شرح لکھ بھیجوں گا اور اگر بادشاہ نے اس کا جلانا ٹھان لیا ہے تو اس فقیر متوکل کے گھر سے کہیں زیادہ شاہی مطبخ میں آگ موجود ہے ۔ حکم دیا جائے کہ یہ رسالہ اور جس قدر اس کی نقلیں دستیاب ہوں، آگ میں جھونک دی جائیں ۔ بادشاہ اس جواب کو سن کر ساکت رہ گیا ۔ (ما ثر الکرام مصنفہ مولانا آزاد بلگرامی مرحوم ص 15) اس واقعہ سے معلوم ہو ا کہ بعض با خدا لوگ ایسے بھی موجود تھے کہ امر حق کے اظہارمیں وہ اور نگ زیب جیسے جلیل القدر شہنشاہ کی بھی پروا نہ کرتے تھے ۔
عیسیٰ بن ابان ایک مشہور محدث ہیں ، زیادہ تر درس حدیث میں مشغول ومنہمک رہا کرتے تھے ، ایک مرتبہ بغرض حج مکہ مکر مہ میں ذی الحجہ میں پہنچے اور ایک ماہ ااقامت کی نیت کر کے نماز قصر کے بجائے ممکل پڑھنے لگے ، امام ابو حنیفہ کے بعض شاگردوں نے ان کو متنبہ کیا کہ ابھی تو آپ مسافر ہیں اقامت کی نیت آپ کی صحیح نہیں ، کیو ں کہ ابھی تو آپ کو منیٰ اور عرفات جانا ہے چنانچہ یہ محدث اب قصر کرنے لگے ، لیکن جب منیٰ سے واپس لوٹے تو بھی قصر کرتے رہے حالا نکہ مکہ مکرمہ میں اب پندرہ یوم سے زائد ٹھہر نا تھا اس قصر کرنے پر بھی کسی نے ٹوکا تو بہت احساس ہوا اور فرمانے لگے کہ ایک مسئلہ میں مجھ سے دو غلطیاں ہوئیں۔ اس احساس کے بعد حضرت امام محمد کے درس اور مجلس میں شرکت کرنے لگے یہاں تک کہ فقہہ بن گئے ۔ (کتابوں کی درس گاہ میں )
انسان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں لیکن عظمت والا انسان وہ ہے کہ ان غلطیوں پر اکھڑنے کی بجائے اپنی غلطی تسلیم کر ے اور اس سے سبق حاصل کرے اور اپنی اصلاح کرے ۔

متعلقہ خبریں