دہشت گردی کے واقعات

دہشت گردی کے واقعات

لاہور کی معروف شاہراہ مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس پر د وا ساز کمپنیوں اور میڈیکل سٹور مالکان کے احتجاج کے دوران خود کش حملہ' جنوبی وزیرستان میں ایف سی کو نشانہ بنانے اور کوئٹہ میں بم دھماکے میں تین پولیس اہلکاروں کی شہادت کے ایک ہی دن میں تین الگ الگ واقعات کے بارے میں یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ یہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ لیکن بہر حال اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک دشمن عناصر ایک مرتبہ پھر سر اٹھانے کی سعی میں ضرور ہیں۔ کسی بھی دہشت گردانہ حملے کے بعد اس امر پر اصرار کہ نیکٹا نے اس حوالے سے الرٹ پہلے ہی جاری کردیا تھا اور حملہ آورکے ایک ساتھی کو پہلے ہی گرفتار کرلیاگیا تھا لا حاصل اور تکلیف دہ ہے گوکہ اس وقت ملک میں امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب نہیں لیکن ملک میں دہشت گردی کے خطرات کی موجودگی کا ہر کسی کو اندازہ بھی ہے اور اس کا کھٹکا بھی لگا رہتا ہے۔ اولاً نیکٹا کی از خود ہیئت اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے اس کا قیام جس قانون سازی اور لوازمات کی متقاضی ہے اس کی ضرورت و اہمیت کااحساس ہونے کے باوجود لیت و لعل سے کام کیوں لیا جا رہا ہے اس گتھی کو سلجھانا مشکل کام ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کتنا ہوا وفاق اور صوبوں نے کس حد تک ذمہ داریاں نبھائیں۔ پاک فوج نے جو کردار ادا کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر وفاق اور صوبے اپنے حصے کی ذمہ داریاں نبھاتے تو شاید حالات اس قدر مستحکم اور تسلی بخش ہوتے کہ آئے روز دہشت گردی کے خطرات ہمارے اعصاب پر مسلط نہ رہ پاتے۔ سینٹ میں بار بار نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں حکومت کی ناکامی پر سوال اٹھتا ہے مگر حکومت حزب اختلاف کی بات پرکان دھرنے کو تیار نہیں۔ اس معاملے کو حکومت اور حزب اختلاف کا معاملہ بنانے کی بجائے اگر سنگین قومی مسئلہ کے طور پر دیکھا جائے اور من حیث المجموع عدم اطمینان کی کیفیت کا حوالہ دیاجائے تو غلط نہ ہوگا۔ لیکن بہر حال جو صاحب اختیار ہوں اور زمام اقتدار جن کے ہاتھ میں ہے یہ ذمہ داری انہی کی ہے کہ وہ اپنا فرض نبھائیں اور قوم کو اس مصیبت سے چھٹکارا دلانے کی سبیل نکالیں۔ مشکل امر یہ ہے کہ ہم دہشت گردوں کو دہشت گردوں کے طور پر دیکھنے کی بجائے ان کو اپنی اپنی عینک لگا کر دیکھتے ہیں۔ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مسجدوں اور مدارس سے جوڑ دیا جاتا ہے اور فرقہ واریت کی بھی آمیزش کی جاتی ہے۔ یہ جانتے بوجھتے بھی کہ چند ایک مساجد اور مدارس میں اگر دہشت گردوں کے ٹھہرنے سے ملک بھر کی مساجد و مدارس کو شک کی نظروں سے دیکھنا عقلمندی نہیں بلکہ تفریق اور تنگ نظری ہے۔ دہشت گردوں کا کوئی دین' مذہب اور مسلک نہیں ہوتا بلکہ دہشت گرد دہشت پھیلانے اور خونریزی پر تلے جنونی اور گمراہ افراد ہوتے ہیں جو کوئی بھی زبان بولتے ہوں وہ اس دین و مذہب' مسلک اور اس زبان بولنے والوں کے نمائندہ افراد نہیں بلکہ ان کے نام پر دھبہ اور دشمن ہیں ۔ ہمیں دشمنوں کو دشمن ہی گرداننا ہے ان کے نام پر باہم غلط فہمیوں کو ہوا دینا گویا ان کی مدد کرنا ہے۔ لاہور کے واقعے کو پی ایس ایل کے فائنل میچ کو لاہور میں کھیلنے سے رکوانے کی سازش قرار دینا قرائن سے امکانات میں سے معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ قبل ازیں سری لنکا کی ٹیم پر میچ کھیلنے جاتے ہوئے لاہور ہی میں حملہ کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اب یہ سوال ضرور اٹھ رہا ہے کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں منعقد کرایا جائے یا نہیں یہ صرف میچ کھیلنے ہی کا معاملہ نہیں کوئٹہ میں بھی دہشت گردی کی کوشش سامنے آئی ہے اور جنوبی وزیرستان میں بھی فورسز کو نشانہ بنایاگیا ہے۔ یہ ایک مربوط سازش ہے جس کا مقصد وطن عزیز پاکستان میں ایسے حالات پیدا کرنا ہے کہ ملک میں امن و امان کی فضا اتنی تسلی بخش قرار نہ پائے کہ دنیا بھر کے منتظر سرمایہ کار یہاں کا رخ کرنے لگیں۔ بھارت کی جانب سے اس موقع پر کنٹرول لائن پرایک مرتبہ پھر خلاف ورزی ' بلوچستان میں راء کی مداخلت اور کراچی میں اس نیٹ ورک کے حاملین اور ہمدردوں کی سرگرمیاں جیسے معاملات کو دیکھتے ہوئے اس امر کااندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کہ اس طرح کے واقعات کی منصوبہ بندی کہا ں ہوئی ہوگی۔ بہرحال دشمنوں سے تو دشمنی ہی کی توقع کی جا سکتی ہے اور ان کا مقابلہ کرنا اور خود کو اس کے لئے تیا رکرنا ہماری ذمہ داری ہے جس پر توجہ کی ضرور ت ہے ۔ اس واقعے کی ذمہ داری جس گروپ کی جانب سے قبول کی جائے اور وہ گروپ جس لبادے اور حلیے میں ہو وہ اپنی موجودگی اور مقاصد کو جو بھی مقام اور نام دے ہمیں صرف یہی سمجھنا چاہیے کہ یہ دشمن ہی کا روپ ہے جس کا ہم نے ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے۔ پنجاب میں دہشت گردوں کے خفیہ مراکز کی موجودگی اور ان کے تحرک کے واقعات بارے جوآوازیں اٹھتی ہیں اگر ان سے پورا اتفاق نہ بھی ہو لیکن ان عناصر کے خلاف آپریشن اور مشکوک مقامات اور علاقوں میں تطہیر کی کارروائیوں میں کوئی امر مانع نہیں بلکہ ضرورت ہیں ۔ حالیہ واقعات کے بعد صرف پنجاب ہی میں نہیں بلکہ بلوچستان خیبر پختونخوا ، سندھ اور گلگت بلتستان سبھی صوبوں میں قومی اور صوبائی سطح پر نگرانی کا عمل مزید بہتر بنانے اور مشکوک عناصر کے خلاف بھر پور آپریشن کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف مسلک و مدارس ہی کو دہشت گرد وں کے سہولت کار گرداننے کی غلطی کی بجائے جہاں جہاں بھی جس جس لبادے میں مشکوک قسم کی سرگرمیاں ہوں اور افراد کا علم ہو ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنا ہوگی ۔ حکمرانوں کو مذمت اور دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے عزم کے اظہار کو عملیت کے ساتھ ثابت کرنا ہوگا۔ عوام اور سیکورٹی اداروں میں روابط اور اعتماد کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ ہماری صفوں میں دہشت گردوں کو تو درکنارمشکوک افراد ہی کو گھسنے کی ہمت نہ ہو۔ اس طرح کی فضا ء اور اعتماد سازی ہی دہشت گردی کے انسداد کا مئو ثر طریقہ ہوگا اور یہی ہماری من حیث القوم ذمہ داری ہے ۔

متعلقہ خبریں