پی ٹی آئی دیرینہ کارکنوں کو اہمیت دے

پی ٹی آئی دیرینہ کارکنوں کو اہمیت دے

پاکستان تحریک انصاف کا آئندہ عام انتخابات میں اسی فیصد ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ نہ دینے پر غور ایک حقیقت پسندانہ انتخابی حکمت عملی اور اپنی کارکردگی کا حقیقی جائزہ بھی ہوگا۔ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی اکثریت گزشتہ انتخابات ہی کی پیداوار ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ان کی کامیابی کی وجہ ان کی ذاتی جدوجہد اور سیاسی کرداراور سیاسی پس منظر نہیں بلکہ ان کا تحریک انصاف کے ٹکٹ کا حامل ہونا تھا۔ معدودے چند افراد ہی اپنے بل بوتے پر اتنے مضبوط امیدوار تھے جن کی کامیابی میں جماعتی وابستگی ثانوی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی اگر عوامی سطح پر اپنے آپ کو نمائندگی کا اہل ثابت کرنے کے لئے سعی کرتے یا پھر صوبائی اسمبلی میں ان کی کارکردگی اس قابل ہوتی کہ ان کی جماعت ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت اس امر پر غور کرنے پر مجبور ہوتی کہ ان کے ناموں پر سنجیدگی سے غورکیاجائے۔ ہمارے تئیں یہ تحریک انصاف کے قائدین کی بھی کوتاہی ہے کہ وہ ایسی نمائندگی میں ناکام رہی جو متاثر کن ہوتی۔ خیبر پختونخوا میں چند ایک ہی ارکان اسمبلی میڈیا میں سنجیدگی' متانت اور مدلل طور پر اپنی جماعت کا موقف پیش کرنے میں کامیاب رہے۔ محولہ ارکان اسمبلی تحریک انصاف کی پالیسیوں پرکار بند رہنے اور پارٹی کے دفاع کی بناء پر پی ٹی آئی کی پہچان سمجھے جاتے ہیں جن کو نظر انداز کرنامشکل ہوگا۔ لیکن من حیث المجموع پارٹی کے ممبران اسمبلی کی ہر دو قسم کی کارکردگی مایوس کن رہی جن کو اگر ایک مرتبہ پھر عوام میں بھیجا گیا تو رد عمل اور نتیجہ غیر متوقع نہ ہوگا۔ تحریک انصاف گزشتہ انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم اور امیدواروں کے چنائو میں جس غلطی کی مرکتب ہوئی تھی اس کا اعادہ نہ ہو۔ تحریک انصاف کے پاس اپنے اولین اور دیرینہ کارکنوں کو نظر انداز کرنے کی غلطی کو دہرانے کی بالکل بھی گنجائش نہیں۔ بہتر ہوگا کہ پی ٹی آئی جلد سے جلد انٹرا پارٹی انتخابات کرا کے کارکنوں کی رائے معلوم کرے اور آئندہ انتخابات میں معروضی حقائق عوام کے موڈ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ با کردار اور با عزم افراد کو پارٹی ٹکٹ جاری کیاجائے۔ جیتنے والے گھوڑوں کی شمولیت اور ان کو پارٹی ٹکٹوں کے اجراء کی مصلحت کی بجائے مخلص کارکنوں کو آگے لایا جائے۔ تحریک انصاف کو چاہئے کہ وہ انتخابی نتائج کو اپنے حق میں کرنے کی بجائے بعد از انتخاب اپنے نمائندوں کے کردارو عامل کو مد نظر رکھے جس کااندازہ امیدواروں کے ماضی کے سیاسی کردار و عمل اور پارٹی سے وابستگی اور خدمات دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔
ٹریفک پولیس کچھ اپنی اصلاح پر بھی توجہ دے
پشاور کے قبضہ مافیا سے بچ جانے والے فٹ پاتھوں کے پارکنگ سٹینڈ ہونے اور خاص طور پر ٹریفک پولیس ہیڈکوارٹر اور ٹریفک پولیس لائنز کے اطراف میں خود ٹریفک پولیس کی جانب سے راہگیروں کو مشکلات کا شکار بنا دینا لمحہ فکریہ ہے۔ باچا خان چوک میں واقع ٹریفک لائنز کے ارد گرد سے ٹریفک پولیس کی قائم کردہ تجاوزات ہٹا دی جائیں تو لوگوں کو گزرنے کا راستہ ملے۔ سیکورٹی انتظامات اپنی جگہ ضروری ہیں مگر اس کی آڑ میں فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قبضہ کرنا از خود قانون کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ ٹریفک پولیس کے اہلکار جس طرح سڑکوں کے عین وسط میں گاڑیاں روک کر بحث و تکرار کرتے دکھائی دیتے ہیں اگر وہ ان کو سڑک کے کنارے کرکے بحث و تکرار کا شوق پورا کریں تو یہ بھی ٹریفک کے بہائو میں رکاوٹ ختم کرنے کا ایک ذریعہ ہوگا۔ بلا شبہ ٹریفک پولیس پہلے کی طرح سڑکوں پر گاڑیوں سے سر عام بھتہ وصولی میں مصرف نظر نہیں آتی اس کے باوجود بعض ایسے معاملات ہیں جن سے صرف نظر سے معاملہ مشکوک نظر آتا ہے۔ مسافر بسوں او ر ویگنوں میں سمگلنگ کامال لانے کی قانون میں گنجائش نہیں مگر ٹریفک پولیس کی اس سے صرف نظر کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ اگر توجہ دی جائے تو بغیر کسی کوشش کے ان کوتاہیوں کو دور کیاجاسکتا ہے۔ سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو پارکنگ بنا کر لوگوں کو سڑکوں کے عین وسط میں دھکیلنے والوں کے خلاف موثر مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں