علم و دانش کے شعبے کو تو کرپشن سے محفوظ کرلیجئے

علم و دانش کے شعبے کو تو کرپشن سے محفوظ کرلیجئے

ہم کیمرج' آکسفورڈ اور ہاروڈ جیسے عظیم تعلیمی ادارے تو بنانے سے رہے' کم از کم جو بری بھلی یونیورسٹیاں کام کر رہی ہیں انہیں تو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھا جائے۔ ہم ایک بار پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ جس ملک میں علم و دانش بھی کرپٹ ہو جائے اس سے بڑا المیہ کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تین سال پورے کرچکی ہے۔ اس جماعت کا اہم ترین نعرہ تعلیمی ترقی اور میرٹ کو یقینی بنانا تھا۔ تعلیمی شعبے میں میرٹ کی ترجیحات کیا ہیں اس کا ایک نمونہ ہم گزشتہ دنوں صوبے کے سات تعلیمی بورڈز میں چیئرمینوں کی تقرری کے سلسلے میں دیکھ چکے ہیں۔ اس وقت صوبے کی دس جامعات مستقل وائس چانسلروں سے محروم ہیں۔ ان میں سے بعض تو دو سال سے بغیر سر براہوں کے چلائی جا رہی ہیں۔ اس اہم مسئلے کے بارے میں حکومت کا موقف یہ ہے کہ وہ وائس چانسلرز کے بروقت انتخاب اور تعیناتی کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ یہ آسامیاں راتوں رات پیدا نہیں ہوئیں حکومت کے ذمہ داروں کو بخوبی علم ہے کہ کسی بھی وائس چانسلر کے فارغ ہونے کی تاریخ اس کی تقرری کے حکم نامے میں درج ہوتی ہے۔ یہ عہدہ نئے اور پرانے ایکٹس اور قوانین کے مطابق تین سال کے لئے ہوتا ہے۔ اس کے باوجود صوبے کی بعض جامعات میں وائس چانسلر کی عدم تقرری کا راز سمجھ میں نہیں آتا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی یونیورسٹیز ایکٹ پرکام شروع کردیا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ترمیمی) ایکٹ 2015ء صحیح معنوں میں لاگو کردیا جاتا تو بالیقین صوبے کی جامعات کے انتظامی اور تعلیمی معیار میں مثبت تبدیلی نظر آتی۔ بد قسمتی سے جب ایکٹ پر عمل درآمد کرنے کاوقت آیا تو ذمہ دار اعلیٰ حکام اور جامعات پر روایتی قابضین نے یہ شوشہ چھوڑا کہ ایکٹ کے مطلوبہ کوائف کے مطابق امید وار دستیاب نہیں۔ جواز یہ سامنے آیا کہ کوائف پر پورا اترنے والوں کی تعداد کم ہے ۔ نتیجتاً ایکٹ کے مطابق وائس چانسلرز کی بھرتی کے بجائے ایکٹ میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا اور ایکٹ سے معیار کی ضامن شرائط نکال کر ترمیمی آرڈیننس اس وقت کے گورنر مہتاب عباسی کے سامنے رکھ دیا گیا۔ وہ ایک کہنہ مشق سیاستدان ہونے کے علاوہ ایک تجربہ کار بیوروکریٹ بھی رہ چکے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ایکٹ میں تبدیلی سے انکار کردیا۔ ان کے استعفیٰ کے بعد ایکٹنگ گورنر کے دور میں دو سال کی محنت سے تیار کردہ ایکٹ ایک آرڈیننس کے ذریعے ختم کردیاگیا اور فوری طور پر نئے آرڈیننس کے تحت نو جامعات میں وائس چانسلرز کی خالی آسامیوں کا اشتہار آگیا۔ جب نئے آرڈیننس کے مطابق خالی آسامیوں کے لئے انتخاب کا مرحلہ آیا تو پھر بھی تقرریوں کے وقت اس کی بعض اہم شقوں کو نظر انداز کردیاگیا۔ مثال کے طور پر آرڈیننس کے مطابق وائس چانسلر کے عہدے کے لئے امیدوار کے تعلیمی کوائف میں درج تھرڈ ڈویژن کا مداوا ایم فل یا پی ایچ ڈی کی ڈگری سے ہوسکتا ہے مگر موجودہ قوانین میں تھرڈ ڈویژن کا کوئی علاج نہیں بتایاگیا۔ حالانکہ اعلیٰ کمیشن کے ویب پیج پر اس کے لئے واضح تجاویز موجود ہیں۔ متذکرہ آرڈیننس میں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی جامعات کے لئے ان کے متعلقہ شعبوں میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لازمی تھی جبکہ ان اداروں کے لئے نامزد کردہ امیدوار اس اہلیت سے محروم تھے۔ اس ضمن میں یہ سوال بجا طور پر اٹھایا جاسکتا ہے کہ ان آسامیوں کے لئے موصولہ درخواستوں کی جانچ پڑتال بھی کی گئی تھی یا نہیں۔ دوسرا اہم قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ امیدواروں کے لئے لازمی تعلیمی کوائف میں یہ کمی ان ماہرین تعلیم کے علم میں کیوں نہیں آئی جنہیں وائس چانسلرز جیسی اہم آسامی پر امیدواروں کے انتخاب کا اختیار دیاگیا تھا۔ قواعد کے تحت جامعہ کی سربراہی کے لئے تین تین امیدواروں کی نامزدگی ضروری ہوتی ہے تاکہ پہلے نمبر پر نامزد امیدوار بوجوہ عہدہ لینے سے معذرت کردے تو دوسرے نمبر پر نامزد امیدوار کی تقرری کردی جائے۔ دوسرے کے انکار کی صورت میں تیسرے نمبر پر درج امیدوار کو یہ منصب دے دیا جاتا ہے۔ اسی طرح بار بار آسامیوں کو مشتہر کرنے کی ضرورت نہیں رہتی اور نہ اہم تعلیمی ادارے وائس چانسلر سے محروم ہوتے ہیں۔ موجودہ کیس میں جب جامعہ کوہاٹ کے لئے مقرر کردہ وائس چانسلر نے ذمہ داری قبول نہیں کی تو اس آسامی کو دوبارہ مشتہر کردیاگیا۔ اس طرح پشاور کی انجینئرنگ یونیورسٹی اور نوشہرہ کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے لئے مقرر کردہ امیدواروں کی ڈگریوں میں مسئلہ پیدا ہوا تو ان کے لئے از سر نو اشتہار دینا پڑا۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ان جامعات کے لئے دوسرے اور تیسرے نمبر پر نامزد امیدواروں کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔ ایک اہم نکتہ اب درمیان میں یہ آگیا ہے کہ خیبر پختونخوا یونیورسٹیز (ترمیمی) ایکٹ 2015ء جس آرڈیننس کے تحت ختم کیاگیا تھا اس کو بھی مقررہ وقت میں اسمبلی سے منظوری نہیں مل سکی۔ اسمبلی نے جو بل منظور کیا ہے اس پر تعلیمی اداروں کے تحفظات ہیں جن کو دور کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ لگتا ہے کہ موجودہ ایکٹ بھی حتمی نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوبے کی جامعات میں وائس چانسلرز کی خالی آسامیوں پر تقرریاں کس ایکٹ کے تحت ہوں گی ۔ اشتہار میں تو واضح طور پر درج ہے کہ مطلوبہ کوائف اور تجربے میں حالات کے مطابق ایکٹ میں تبدیلی ہوسکتی ہے جس سے یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ صوبائی حکومت جامعات کے ایکٹ کو تاحال کوئی حتمی شکل نہیں دے سکی ہے۔ گومگو کی اس صورتحال میں اگر جامعات کو اہل ' تجربہ کار اور ضروری تعلیمی کوائف کے حامل وائس چانسلر فراہم کردئیے گئے تو یہ موجودہ حکومت کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔ بہر حال ہمیں ایک بار پھر یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ اگر کسی ملک میں علم و دانش کے شعبے کو بھی کرپشن سے محفوظ نہ کیا جاسکے تو اس سے دوسرا بڑا المیہ کوئی نہیں ہوسکتا۔

متعلقہ خبریں