اسلامی فوجی اتحادکس کے خلاف لڑے گا؟

اسلامی فوجی اتحادکس کے خلاف لڑے گا؟

جنرل (ر) راحیل شریف پاکستان کے اُن آرمی چیفس میں سے ایک ہیں جنہیں ہر مکتب فکر میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ نیک نامی یونہی نہیں کمائی بلکہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ بالخصوص پاکستان کے داخلی شرپسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی اور سدباب سے کمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کی ریٹائر منٹ کا وقت آیا تو پاکستان کے عوام اُن کی توسیع کی بات کرتے دکھائے دیے۔ ان کی توسیع کے بینرز اسلام آباد سمیت پورے ملک کی سڑکوں پر کھلے عام دیکھے جا سکتے تھے جن میں لکھا گیا تھا کہ ''جانے کی باتیں جانے دو'' ۔ جنرل راحیل شریف جب اپنی متعین مدت پوری کر کے جانے لگے تو وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے اُنہیں ظہرانہ دیا گیا ۔ یوں وہ عزت و احترام کے ساتھ 29نومبر 2016ء کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔ آپریشن ضرب عضب ، کراچی آپریشن اور مختلف کامیابیاں سمیٹنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی شدید خواہش کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اور کراچی کے عوام کو مکمل طور پر جرائم سے چھٹکارا نہ دلا سکے۔ شہیدوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اور مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے والے اس جنرل سے امید کی جا رہی تھی کہ وہ اپنے تجربات کی روشنی میں عوام کو آگاہی فراہم کریں گے لیکن اب شاید ایسا ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ دسمبر 2015ء سعودی عرب نے اپنی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف اسلامی فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کیا تھا، اس اتحاد میں ابتدائی طور پر 34ممالک تھے تاہم بعدازاں ان کی تعداد 39ہو گئی۔ اس فوجی اتحاد میں پاکستان، ترکی، اردن، مصر قطر، متحدہ عرب امارات ، ملائشیااور افریقی ممالک شامل ہیں تاہم حیرت انگیز طور پر اس فوجی اتحاد میں ایران،شام اور عراق کا نام شامل نہیں۔ اسلامی فوجی اتحاد کا صدر دفتر سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہے ، جسے جوائنٹ کمانڈر سنٹر کہا جاتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ دور میں بیشتر اسلامی ممالک دہشت گردی کا شکار ہیں۔ شام اور عراق میں داعش، پاکستان اور افغانستان میں طالبان، ترکی میں کرد، یمن اور لیبیا میں القاعدہ، نائجیریا میں بوکو حرام جب کہ مصر اور مالی میں مختلف دہشت گرد تنظیمیں اپنی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مشترکہ اسلامی فوج کے قیام کے بعد عام خیال یہ کیا جا رہا تھا کہ یہ اتحاد دہشت گردی کا شکار ان اسلامی ممالک میں دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ لیکن اسلامی فوجی اتحاد کے بارے میں یہ تاثر زائل ہونا چاہیے کہ یہ کسی اسلامی ملک کے خلاف ہے۔ اگر واقعی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنانا ہے تو ایران ، عراق اور شام کو بھی اس اتحاد میں شامل کیا جائے۔ مذکورہ بالا پس منظر کے بعد یہ بات عیاں ہے کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ سے خائف ہے۔ اگرچہ ان دونوں ممالک کے اختلافات کی نوعیت سیاسی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے پر تسلط کا خواب دیکھتے ہیں، سعودی قیادت میں بننے والے اسلامی فوجی اتحاد میں ایران اوردیگر شیعہ مسلک کے حامل ممالک کا شامل نہ ہونا پاکستان کے لیے بھی کسی طور مناسب نہیں کیوں کہ پاکستان کی رائے عامہ بھی انہی عقائد کی بنیاد پر تقسیم ہے۔ 

سو اس تناظر میں یہ سوال ابھر کر سامنے آتا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والا اسلامی فوجی اتحاد کس کے خلاف لڑے گا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں؟ امریکہ کے وزیر خارجہ ایشئن کارنو نے انقرہ میں کہا تھا کہ ''یہ اتحاد امریکی حکمت عملی کے عین مطابق ہے جس کے تحت شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے مقابلے کے لیے سنی عرب ممالک کے کردارکو وسعت دینا ہے۔'' کیا امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان مسلم ممالک کی بربادی کے لیے کافی نہیں اور کیا یہ اتحاد امریکی حکمت عملی کے عین مطابق نہیں ہے۔ اگر خدانخواستہ مسلمان ایک بار پھر اغیار کے ہاتھوں استعمال ہونے جا رہے ہیں تو اس کی ذمہ داری سب سے پہلے ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو اسے کندھا فراہم کر رہے ہیں۔ اسلامی فوجی اتحاد اگر واقعی مسلمانوں کو دہشت گردی سے بچانے اور مسلمانوں کے دفاع کے لیے بنایا گیا ہے تو پھر امریکی صدر کی طرف سے سات اسلامی ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی کے خلاف اسلامی فوجی اتحاد کی طرف سے مسلمانوں کے حق میں کوئی بیان سامنے کیوں نہیں آیا ۔ وہائٹ ہاؤس کے سامنے امریکہ میں مقیم مسلمان اور کسی قدر امریکی شہری بھی امریکی صدر کے خلاف سراپا احتجاج دکھائی دیے ، وہائٹ ہاؤس کے سامنے نماز پڑھتے دکھائی دیے لیکن مسلمانوں کے اتحاد پر مشتمل فورس کی طرف سے کوئی توانا آواز سامنے کیوں نہ آئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے اسلامی فوجی اتحاد کے ساتھ ساتھ ایسے اتحاد کی بات بھی کی جانی چاہیے جس میںامت مسلمہ مختلف گروہوں میںبٹنے سے بچ جائے، جس سے امت مسلمہ آپس میں لڑنے سے بچ جائے۔ جس دن ہمیں یہ معلوم ہو گیا اور ہم نے اس حقیقت کو جان لیا کہ مسلمانوں کی کامیابی اجتماعیت میں ہے تو یقین کیجئے اس دن کے بعد مسلمانوں کے سامنے کوئی طاقت بھی نہیں ٹھہر سکے گی۔ اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد پر نظر ثانی کی جائے اور ایسے ہر اقدام سے گریز کیا جائے جس سے مسلمان مزیدٹکڑوں میں بٹ جائیں۔

متعلقہ خبریں