مجھے مار دیجئے

مجھے مار دیجئے

ویلنٹائن ڈے منانے پر لگی پابندی کے حوالے سے لکھنا چاہتی تھی لیکن پھر لاہور میں بم دھماکہ ہو گیا ۔ ساری سوچ خاک و خون میںلٹھڑی گئی ۔ اب باقی قوم کی طرح میں بھی ٹی وی پر نظریں جمائے بیٹھی ہوں ۔اپنے جیسے لوگوں کی بے بسی دیکھ رہی ہوں اور سوچتی ہوں کہ زندگی اتنی ارزاں کیسے ہوئی جاتی ہے ۔ کیسے ہم منزلوں کے نشان کھوتے چلے جارہے ہیں ۔ ایک کمزور ملک میں بڑبولے سیاست دان حکمران ہیں ۔ ان کے لہجوں کی تلخی زندگیوں میں زہر گھولنے کو کیا کم ہے کہ کوئی ستم ظریف نہتے شہریوں پر ستم ڈھانے کو کسی معصوم احتجاج میں بھی چلا آتا ہے ۔ دل دُکھ اور افسوس سے بھر جاتا ہے ۔ ہماری زندگیوں کے فیصلے پہلے ہی بے وقعت ہیں اور اب ہماری زندگیاں بھی قیمتی نہیں ۔ جانے کن رویو ں کو مورد الزام ٹھہر ایا جا سکتا ہے جو جیتے جاگتے انسانوں کو گوشت کے چیتھڑوں میں تبدیل کرنے میںذرا بھی ہچکچا ہٹ محسوس نہیں کرتے ۔ خواہ وہ کہیں کی بھی سرحد عبور کر کے آتے ہوں ، خواہ ان کے کیسے بھی خیالات ہوں ، وہ ہمیں درست سمجھتے ہوں یا غلط گردانتے ہوں ان کے دل ہماری نفرت سے کیسے ہی زہر خندہوں لیکن وہ اتنا کیوں نہیں سوچتے کہ ایک عام آدمی کی جان لینے سے کسی ملک کی پالیسی کبھی نہیں بدلتی ۔ وہ عام آدمی جو کسی چور ا ہے پر احتجاج میں مشغول ہے ۔ جو اپنے ہی ملک کے حکمرانوں کے لیے اتنا اہم نہیں کہ اس کی بات سنی جائے ۔ جو اتنا غیر اہم ہے کہ جب تک وہ جتھوں کی صورت میں نکل کر کسی جگہ کٹھے نہ ہوجائیں حکمرانوں کے پا س انہیں نظر بھر کر دیکھنے کا وقت نہیں ہوتا ۔

جو اتنا غیر اہم ہے کہ اسکی موت کی خبر سے بھی کسی حکمران کے کانوں پر اتنی جوں نہیں رینگتی کہ کوئی صاحب اقتداران کا حال پوچھنے ہی چلا آئے ۔ انہی عام لوگوں میں پولیس کے وہ افسران بھی شامل تھے جو اپنی ڈیوٹی نبھا نے آئے تھے ۔ جو احتجاج کرنے والوں کو پر امن طور سے احتجاج کرنے کے بعد انہیں بحفاظت انکے گھروں تک پہنچا نے آئے تھے اور جنہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ آج انہی کے بچوں کو یتیم ہو جاناتھا ۔ ایک سرکاری ملازم کے گھر میں امید اور مستقبل کے خواہش کے نام پر خوابوں کے چند سکے ہی ہو ا کرتے ہیں ۔ وہ سرکاری ملازم یوں بیچ راستے جب اپنے گھروالوں کو حیران پریشان چھوڑ کرایک دوسری منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے تو ان گنتی کے چند سکو ں کا بھی کوئی مول نہیں رہتا ۔ کبھی الفاظ نہیں ملتے اور کبھی اتفاق کی فر ب سے الفاظ نشتر بن جاتے ہیں ۔ کیا عجیب بات ہے کہ وہ احمد مبین جو اس واقعے میں شہید ہوگئے نے تئیس جنوری کو اپنے فیس بک پر یہ نظم لکھی ۔ ایک صاحب نے یہ نظم مجھے اسی اطلاع کے ساتھ بھیجی ہے سو آپ کے سامنے رکھ رہی ہوں ۔
کافر ہوں ، سرپھرا ہوں ، مجھے مار دیجئے
میں سوچنے لگا ہوں ، مجھے مار دیجئے
ہے احترام حضرت انساں میرا دین
بے دین ہوگیا ہوں ، مجھے مار دیجئے
میں پوچھنے لگا ہوں سبب اپنے قتل کا
میں حد سے بڑھ گیا ہوں ، مجھے مار دیجئے
کرتا ہوں اہل ِ جبر و دستار سے سوال
گستاخ ہوگیا ہوں ، مجھے مارد یجئے
خوشبو سے میرا ربط ہے ، جگنو سے میرا کام
کتنا بھٹک گیا ہوں ، مجھے مار دیجئے
زاہد یہ زہد و تقویٰ و پرہیز کی روش
میں خوب جانتا ہوں ، مجھے ماردیجئے
معلوم ہے مجھے کہ بڑا جرم ہے یہ کام
میں خواب دیکھتا ہوں ، مجھے مار دیجئے
بے دین ہوں مگر ہیں زمانے میں جتنے دین
میں سب کو مانتا ہوں ، مجھے مار دیجئے
پھر اس کے بعد شہر میں ناچے گا ھُو کا شور
میںآخر ی صداہوں ، مجھے مار دیجئے
میں ٹھیک سوچتا ہوں ، کوئی حد میرے لیے ؟
میں صاف دیکھتا ہوں ، مجھے ماردیجئے
یہ ظلم ہے کہ ظلم کو کہتا ہوں صاف ظلم
کیا ظلم کر رہا ہوں ، مجھے ماردیجئے
میں عشق ہوں ، امن ہوں ، میں علم ہوں ، میں خواب ہوں
اک درد لا دوا ہوں ، مجھے مار دیجئے
زندہ رہاتو کرتا رہوں گا ہمیشہ پیار
میں صاف کہہ رہا ہو ں،مجھے ماردیجئے
جو زخم بانٹے ہیں انہیں زیست پہ ہے حق
میں پھول بانٹتا ہوں ، مجھے مار دیجئے
ہے امن شریعت تو محبت مرا جہاد
باغی بہت بڑا ہوں مجھے مار دیجئے
باردو کا نہیں مرا مسلک درود ہے
میں خیر مانگتا ہوں مجھے مار دیجئے
اور یہ قسمت کا کیسا طنز ہے کہ گیارہ بے گنا ہ لوگ مار دیئے گئے اور بے شمار زخمی ہیں ۔

متعلقہ خبریں