سندھ دھرتی کی عاشق صادق۔۔ ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو

سندھ دھرتی کی عاشق صادق۔۔ ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو

معروف ماہر تعلیم' محقق' تاریخ دان' صاحب طرز ادیبہ اور سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ مرحوم ایوب کھوڑو کی صاحبزادی محترمہ حمیدہ کھوڑہ طویل علالت کے بعد اگلے روز کراچی میں انتقال کر گئیں۔ 13اگست 1923ء میں لاڑکانہ کے گائوں عاقل کے کھوڑو خاندان میں جنم لینے والی حمیدہ کھوڑو 93سال دنیا سرائے میں مقیم رہیں۔ پچھلے چند برسوں کی علالت نے انہیں دنیا سے الگ تھلگ کردیا ورنہ زندگی بھر متحرک رہیں۔ علم و ادب' تحقیق اور تاریخ انہیں محبوب رہے مگر سندھ دھرتی ان کے محبوب اول و آخرکا درجہ رکھتی تھی۔ ان کے والد متحدہ ہندوستان کے صوبے سندھ کے ممتاز سیاستدان اور ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے قیام پاکستان کے حق میں برملا رائے کا اظہار کیا۔ قیام پاکستان کے بعد بھی عملی سیاست میں متحرک رہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے مارشل لاء دور میں ایبڈو کے کالے قانون کے تحت سیاست کے لئے نا اہل قرار دئیے گئے۔ جنوبی ایشیاء کی تاریخ پر ممتاز برطانوی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والی حمیدہ کھوڑو نے نصف درجن کے قریب کتابیں لکھیں۔ ان میں ان کے والد ایوب کھوڑو کی سوانح حیات بھی شامل ہے۔ سیاسی فکر کے حوالے سے وہ سندھی قوم پرست دانشور و رہبر مرشد جی ایم سید کی ہم خیال رہیں۔ کچھ عرصہ جئے سندھ محاذ کی نظریاتی ضد مسلم لیگ میں رہیں۔ سندھ کی وزیر تعلیم کے طور پر خدمات بھی سر انجام دیں۔ ایک قوم پرست دانشور اور جی ایم سید کی با اعتماد ساتھی نے مسلم لیگ میں شمولیت کیوں اختیار کی؟ اس سوال کا مختصر جواب فقط یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کی مخالف تھیں۔ یہ مخالفت سر شاہنواز اور ایوب کھوڑو کے دور سے چلی آرہی تھی۔ د و خاندانوں کے ٹکراتے سیاسی مفادات نے سندھ دھرتی کی اس دانشور کو اپنا وزن پیپلز پارٹی کے شدید مخالفین کے پلڑے میں ڈالنے پر آماقدہ کرلیا۔ بہر طور پیپلز پارٹی کی مخالفت کوئی انکار اسلام نہیں کہ ان کی علمی حیثیت' سندھ سے محبت' قوم پرستی اور دانش سے انکار کردیا جائے۔سیاست و صحافت کے اس طالب علم کو پروفیسر حمیدہ کھوڑو کے متعدد انٹرویو کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ لگی لپٹی کے بغیر اپنی بات کرنے کا سلیقہ انہیں خوب آتا تھا۔ سندھ کی تاریخ انہیں از بر تھی' سامی' سجل اور شاہ لطیف کی شاعری کی مفسر قرار پائیں۔ شاہ لطیف بھٹائی کے سندھی کلام شاہ جو رسالہ کے اردو ترجمہ (یہ ترجمہ شیخ ایاز مرحوم نے کیا تھا۔ شیخ ایاز بھی سندھ دھرتی کے نامور سپوت اور بلند پایہ دانشور تھے) پر انہوں نے نقد تبصرہ لکھا اور کمال لکھا۔ جس زمانے میں ان کا شاہ جور سالہ کے اردو ترجمہ پر دو اقساط میں تبصرہ شائع ہوا شیخ ایاز سے ان کے مراسم سرد مہری کا شکار تھے۔ اتفاق سے ان ہی دنوں میں نے ان کا ایک انٹرویو کیا اور دیگر سوالات کے ساتھ ان سے دریافت کیا ''شاہ جو رسالہ'' کے اردو ترجمہ پر آپ کے تبصرے پر لوگ حیران ہیں؟ مسکراتے ہوئے کہنے لگیں کسی بھی شخص سے اختلافات کا مطلب اس کی علمی حیثیت سے انکار نہیں ہوتا۔ شیخ ایاز سندھ واسی ہیں۔ بڑے صاحب علم اور لطیف شناس ان کے علمی مقام سے انکار کیسے کردیا جائے۔ میں نے جھٹ سے دوسرا سوال دریافت کرلیا۔ یہی اصول آپ ذوالفقار علی بھٹو شہید اور ان کے خاندان بارے پیش نظر کیوں نہیں رکھتیں؟ ان کا جواب تھا ''صاحبزادے! بھٹو صاحب بڑے آدمی تھے میرے انکار سے ان کی بڑائی کم ہوگی نا اقرار سے اس میں اضافہ۔ وہ میرے والد کے مخالف کے صاحبزادے تھے ۔ انہوں نے میرے والد کے لئے بات کرتے وقت مناسب الفاظ کا انتخاب نہیں کیا تھا۔ ایک بیٹی کی اپنے باپ سے محبت کو امتحان میں نہ ڈالیں؟۔ سندھ کی سیاست میں ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو بھٹوز کے بڑے ناقد کے طور پر اپنی شناخت رکھتی تھیں۔ مگر انہوں نے سندھی سماج کی اقدار و روایات پر کبھی حرف نہیں آنے دیا۔ ڈاکٹر کھوڑو ہی وہ شخصیت تھیں جو جنرل ضیاء الحق اور مرشد جی ایم سید کے درمیان رابطہ بنیں۔ غالباً انہوں نے بھٹوز کے دو بڑے مخالفوں کو قریب لاتے ہوئے یہ سوچا ہوگا کہ اس طرح سندھ کی سیاست کے نئے دور کا آغاز ہوگا مگر جنرل ضیاء کی ہسپتال میں جی ایم سید سے ملاقات اور پھولوں کا گلدستہ پیش کرنے کے اظہار محبت نے سندھی سماج پر منفی اثرات مرتب کئے اور خود جئے سندھ محاذ کے اندر بھی اختلافات پیدا ہوئے یہی اختلافات آگے چل کر جئے سندھ محاذ کے مختلف حصوں میں تقسیم ہونے کا سبب بنے۔اپنے سیاسی نظریات کے حوالے سے قوم پرست اور دختر سندھ کہلانے والی ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کی علمی حیثیت مسلمہ ہے وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے سندھ کی تاریخ کو اپنا موضوع بنایا اور لگن سے کام کیا۔ سندھ کے قادر الکلام شعرائ' سامی' سجل اور شاہ کے انہیں سینکڑوں اشعار از بر تھے۔ تقریر یا عام مجلسی زندگی میں موقع کی مناسبت سے وہ اشعار پڑھ دیتیں۔ روایتی سندھی وضع دار' مہمان نواز' علم دوست' صوفی ازم کی گرویدہ سندھ کی ایک سچی عاشق صادق کا سفر حیات تمام ہوا۔ وہ اس سفر پر روانہ ہوئیں جہاں سے کوئی پلٹ کرنہیں آتا اور مسافر اپنے پچھلے جہان کے لوگوں کی آوازیں نہیں سن پاتا۔ ان کی علمی و ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ یاد رہنے والی شخصیت ہی ہیں۔ اپنے مخالفین کے لئے انہوں نے کبھی ان کی سطح پر اتر کر خیالات کا اظہار نہیں کیا۔ عملی سیاست میں شرکت کے تجربوں کو انہوں نے زندگی کے بد ترین تجربات قرار دیا۔ ان کے خیال میں سیاست نہیں بلکہ علم و ادب اور تحقیق ہی ان کے اصل میدان تھے۔ بلا شبہ ان میدانوں میں ان کی کامیابیاں دیدنی ہیں۔ صوفی منش ڈاکٹر کھوڑو کی اب یادیں رہ جائیں گی اور ان کا علمی و تحقیقی کام جو انہیں مستقبل میں زندہ رکھے گا۔ مسلم لیگ میں مختصر عرصہ کے لئے شمولیت اور جنرل ضیاء الحق و جی ایم سید میں تعلقات استوار کرانے کے سوا کوئی بات ایسی نہیں جسے لے کر ان کے نا قدین رائی کا پہاڑ بنا سکتے۔ حق تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ سندھ اپنی ایک با علم بیٹی سے محروم ہوگیا ہے۔

متعلقہ خبریں