عوام کے حالات کب بدلیںگے

عوام کے حالات کب بدلیںگے

ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی حالیہ رپورٹ جاری کی گئی جس کے مطابق پاکستان کرپشن میں کمی کے لحاظ سے ایشیاء میں چین کے بعد دوسرا ملک ہے۔ لوگوں کی رائے ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل اپنی رپورٹ بناتی ہے ۔ پاکستان پیپلز پا رٹی کے دور میں چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس ہوتے تھے اور وہ گائوں گائوں اور گلی گلی کے لیے ہوتے تھے ۔لہٰذااگر معمولی ہیر پھیر بھی ہوتی تھی تو لوگ جلدی پی پی پی کی حکومت کے بارے میں منفی رائے قائم کر لیتے اور ٹرانسپر نسی انٹر نیشنل اُسی رائے کو سالانہ رپورٹ کی آساس بناتی جب اسکے بر عکس مسلم لیگ نواز کے دور میںبڑے بڑے پرا جیکٹس ہیں وہ گائوں اور دیہاتوں کے بجائے بڑے بڑے شہروں میں اربوں روپے کے چند پراجیکٹس ہیںلہٰذا اس قسم کے پراجیکٹس کے عوا م میں منفی اثرات کا پتہ نہیں چلتا اور حکومت کے بارے میں منفی رائے قائم نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہی وجہ ہے کہ حالیہ سروے میں موجودہ حکومت کے بارے میں منفی تصور قائم نہیں ہو سکا حالانکہ کرپشن پہلے سے زیادہ ہے ۔ اور ایسے وقت میں ،جب کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے علم بلند کیا ہوا ہے اس قسم کی رپو رٹوں کا آنا۔ نیب کے دو سابق چیئرمینوں کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں روزانہ 12 ارب روپے اور سالانہ تقریبا ً 5 ہزار ارب روپے کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں۔ اور ایسے وقت میں جب ملک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لو ٹا جا رہا ہوایک پڑھے لکھے جوان کو روز گارنہیں ملتا ۔ وطن عزیز میں13 کروڑ لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کے 10 کروڑ لوگ دو وقت کی روٹی صحیح طریقے سے نہیں کھا سکتے۔ ہم کیسے مانیں کہ پاکستان میں کرپشن اور بد عنوانی میں کمی آئی ہوئی ہے۔

اگر روزانہ ہونے والی کرپشن کو روکا گیا توجماعت اسلامی کے امیر سراج ا لحق کے مطابق پاکستان میں توانائی سے متعلق منصوبوں جس میں بھا شا ڈیم، داسو ڈیم ، بُنائی ڈیم ،کالابا غ ڈیم ، پتن ڈیم اور تھاکوٹ ڈیم شامل ہیں اور ان سب کی مجمو عی لاگت 15289 ارب روپے ہے کو بنا کر ہزاروں میگا واٹ بجلی حا صل کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی سالانہ کرپشن پر قابو پاکر پاکستان کے 5 کروڑ جوانوں کو ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت دے کر اور انکو سمندر پاربھجوا کر اربوں ڈالرکا زردمبادلہ کما یا جاسکتا ہے۔ فی الوقت تقریباً 80 لاکھ پاکستانی سمندر پار خدمت انجام دیکر 20 ارب ڈالر وطن عزیز بھیج رہے ہیں۔اس طر ح پاکستان کی سالا نہ کرپشن کے پیسوں سے ہم 14 کروڑ لوگوں کو غُربت کی لکیر سے نکال کر آسودہ حال بنا سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی سالانہ کرپشن کے پیسوں سے چھوٹے بڑے تقریباً 4 ہزار ہسپتال بنائے جا سکتے ہیں ۔ اگر ہم نجکاری کے ما ضی پر نظر ڈالیں تو سال 1991ء سے سال 2013ء تک 167 اداروں کی نج کاری تقریباً 467 ارب روپے میں کی گئی ہے۔ ان میں(ن)لیگ کے دو ادوار میں 76 اداروں کی نجکاری 14.6 ارب روپے میں، پاکستان پیپلز پا رٹی کے دو ادوار میں 26 اداروں کی نجکاری 33 ارب روپے میں جبکہ پر ویز مشرف کے 10 سالہ دور میں 62 اداروں کی نج کاری 419 ارب روپے میں کی گئی ہے ۔
ما ہر اقتصادیات رئوف احمد کا کہنا ہے کہ تینوں ادوار اور بالخصوص میاں نواز شریف کے دور میں یہ ادارے 25فیصد کم قیمت پر بیچے گئے۔ پاکستان کی 69 سالہ تا ریخ میں پاکستان کے حکمران ملک میںبد عنوانی میں مصروف رہے۔ سال 2008 میں پاکستان کا فی کس بیرونی قرضہ37 ہزار روپے، سال2012ء میں 81ہزار روپے ، سال 2013ء میں فی کس قرضہ 91 ہزار روپے سال 2015 ء میں ایک لاکھ 5 ہزار روپے اور سال 2016ء میں پاکستان کا قرضہ ایک لاکھ35 ہزار روپے تک پہنچ گیا اور اس وقت پاکستان کا کُل قرضہ 75 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ اس وقت نیب١٧٧ میگا سکینڈل پڑے ہیں مگر نیب نے اس پر اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا اور سارے کیسز التوا کا شکار ہیں۔ آڈیٹر جنرل پاکستان نے مختلف اداروں پر مالی بے ضابطگیوں کے 4700ارب روپے کے اعترا ضات لگائے ہیں مگر بد قسمتی سے اس پر اب تک کوئی ایکشن نہیںلیا گیا اور سرد خانے میں پڑے ہیں۔پاکستان کے اس وقت 15 بڑے مسائل ہیں جس میں کرپشن، دہشت گردی ، غُربت اور تعلیم سر فہرست ہیں۔ پاکستان 124 ممالک کی فہرست میں سماجی اور اقتصادی اعشارئیوں کے لحا ظ سے 113 ویںنمبر پرہے ۔ اگر دیکھاجائے تو پڑھے لکھے نوجوانوں کی بے روز گاری، غُربت افلاس اور تمام تباہی اور بر بادی کے ذمہ دار ہمارے ارباب اختیار چاہے سیاستدان ہوں یا اسٹیبلشمنٹ سے ہوں وہ ہیں ۔پاکستان کے سماجی اقتصادی اعشاریئے بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، سری لنکا ،اوربھارت سے کئی درجے نیچے ہیں۔ ابھی ایشیاء اور عالمی بینک کے مطابق پاکستا ن میں 70 فی صد یعنی 13کروڑ لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبو ر ہیں۔اس وقت123 ممالک کی لسٹ میرے سامنے ہے اور یہ وہ ممالک ہیں جو پاکستان کے ساتھ یا پاکستان کے بعد آزاد ہوئے ہیں مگر ان ممالک میں نا گفتہ بہ حالت ہماری ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان اور اسٹیبلشمنٹ کب تک غریب اور پسے ہوئے طبقات کو لوٹتے رہیں گے؟ اُنکو کب 19 کروڑ عوام پر تر س آئے گا۔

متعلقہ خبریں