مشرقیات

مشرقیات

حضرت شیخ معروف کرخی کنیت ابو محفوظ اور اسم گرامی آپ کے والد ماجد کا فیروز یا بقول دیگر معروف بن علی الکرخی ہے ۔ یہ اپنے آبائی دین آتش پرستی پر تھے ۔ بعد میں حضرت علی بن موسیٰ رضا کے ہاتھ مشرف بہ اسلام ہوئے اورخنفی مشرب و طریقہ اختیار کیا، حضرت علی بن موسیٰ کو آپ پر کمال شفقت و محبت تھی اور جو کچھ ان کو حاصل ہوا ہے ، وہ حضرت کی خدمت وصحبت کی برکت سے حاصل ہوا۔روایت ہے کہ ایک دن ان کا وضوٹوٹ گیا ، فوراًتیمم کیا ۔ لوگوں نے عرض کیا : حضرت ، دجلہ قریب ہے ،تیمم کی کیا حاجت ہے ؟ فرمایا جب تک میں وہاں پہنچوں گا ، اگر موت آجائے تو ناپاک حالت میں مروں گا ۔ نقل ہے ایک دن حضرت علی بن موسیٰ رضا کے آستانے پر لوگوں کا بڑا اژدھام تھا ۔ آپ کے ہاتھ تھک گئے ۔ یہاں تک کہ بیمار پڑ گئے ۔ حضرت سری سقطی نے فرمایا مجھے وصیت کیجئے ۔ کہا کہ میرے مرنے سے پہلے ہی میرے پیراہن کو صدقہ کردو ۔ میں چاہتا ہوں کہ دنیا سے بغیر لباس کے خدا کے پاس حاضر ہوں ، جیسا کہ پیدا ہوا ہوں ۔ بلاشبہ تجرید اور بے سر و سامانی میں آ پ کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ صاحب کشف المحجوب نے لکھا ہے کہ حضرت معروف کے مناقب و فضائل بے شمار ہیں اور علوم میں قوم کے مقتدی اور امام ہیں ۔
(امت کے عظیم اولیا)حضرت نعمان بن برزخ فرماتے ہیں اسود (عنسی کذاب ) نے جب نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا ، اس کے ساتھ دو شیطان ہوتے تھے ، ایک کا نام سحیق اور دوسرے کا نام شقیق تھا ، دونوں شیطان لوگوں کے درمیان کے واقعات کی اس کو اطلاع کر دیتے تھے (جن کے بل بوتے پر یہ لوگوں کو گمراہ کرتا اور جھوٹی نبوت چمکا تا تھا )
(سنن الکبر یٰ بیہقی )
امام مالک بن انس بیان کرتے ہیں کہ حضرت زید بن اسلم کو بنی سلیم کی کان کا ذمہ دار بنایا گیا ، یہ کان ایسی تھی ، جس میں جنات انسانوں کا شکار کر لیتے تھے ، جب حضرت زید اس کے والی ہوئے تو لوگوں نے آپ سے اس کی شکایت کی تو آپ نے ان کو اذان دینے کا حکم فرمایا کہ اونچی آوازوں سے اذانیں دو ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور یہ مصیبت ٹل گئی ۔ حضرت ابن مبارک کا واقعہ ہے کہ ان کا بچہ فوت ہوگیا، ایک مجوسی ان کے پاس تعزیت کے لیے آیا اور کہنے لگا کہ عاقل کو چاہیے کہ آج پہلے ہی دن وہ کام اختیار کر لے جسے جاہل پانچ دن کے بعد کرے گا ، حضرت ابن مبارک نے فرمایا کہ اس کی یہ بات لکھ لو ۔ مقصدیہ تھا کہ بچے کی جدائی پرہر شخص کو طبعی غم پہنچتا ہے ، لیکن اس پر بے صبری کا مظاہر ہ کرنے کے بجائے صبر کا دامن تھامے رکھنا چاہیے ، ویسے اگر انسان ابتدامیں صبر نہ بھی کرے تو آخر کار صبر کرنا ہی پڑے گا ، پہلے دن نہیں تو چند روز بعد صبر کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں تو عقل مند شخص عین مصیبت کے وقت کرتا ہے ،جاہل ابتدا میں بے صبری کا مظاہر ہ کرتا ہے ، پھر مجبوراًصبر کرنا ہی پڑتا ہے ۔ جس صبر پر انسان کو اجر ملتاہے ، وہ وہی ہے ، جو عین مصیبت کے وقت ہو۔

متعلقہ خبریں