نکاسی آب اتنا بڑا مسئلہ بھی تو نہیں !!!

نکاسی آب اتنا بڑا مسئلہ بھی تو نہیں !!!

مون سون کی پہلی بارش سے خیبر پختونخو ا کے طول و عرض میں تباہی پشاور میں بازاروں کا ڈوب جانا اور بجلی کے نظام کا درہم برہم ہونا جہاں قدرتی آفت کی تباہ کاریوں میں شمار ہوتا ہے وہاں ان آفات سے نمٹنے کی تیاری نہ ہونے کے باعث شہریوں کا شدید متاثر ہونا اور ان کے نقصانات میں کئی گنا اضافہ ہونا صرف اس سال کی بات نہیں بلکہ معمول بن چکا ہے۔ امسال صوبائی دارالحکومت پشاور میں بارشوں سے پیدا شدہ صورتحال اپنی جگہ اگلے روز سرکاری مشینری کی اولین ترجیح شہریوں کی داد رسی اور امداد کی بجائے ایک تقریب کو رونق بخشنے کا وتیرہ مضحکہ خیز ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پشاور کی سڑکوں سے لیکر بازاروں اور گھروں تک کیچڑ اور گندے پانی کا جو ہڑ بن چکے تھے مگر راگ ترقی اور تبدیلی کا الا پا گیا ۔ جس شہر میں شہری بارش سے پیدا شدہ صورتحال میں محصور بن جائیں اس شہر میں ترقی و تبدیلی کے دعوئو ں کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے ۔ پشاور میں بارشوں کے باعث مسائل کھڑا ہونا اچنبھے کی بات نہیں مگر پہلی مرتبہ شاہی کھٹہ ایسا بگڑا کہ دکانوں کی دکانیں غرقاب کردیں ۔ چوک یادگار کا کیا عالم تھا اس کی درست نشاندہی وہاں کے مکین ، دکاندار اور عینی شاہدین ہی کر سکتے ہیں ۔ پشاور میں جہاں جہاں بھی سڑکوں کی از سر نو تعمیر ہوئی ہے پل بنائے گئے ہیں وہاں پر نکاسی آب کے نظام کو بنانے والوں نے اس امر کی زحمت بھی گوارا نہیں کی ہوگی کہ ان پلوں سے بہنے والے پانی کے دریا کی گزرگاہ کتنی چوڑی اور گہری ہونی چاہیئے المیہ یہ ہے کہ جہاں اندازوں کے بر عکس بہائو کے نالے بنائے گئے ہیں کسی ایک نالے کی صفائی کی حالت کوئی جا کر دیکھے توپشاور کے سیلاب اور کیچڑ میں لت پت ہونے کی وجہ خود ہی سمجھ میں آجائے گی ۔ رحمن بابا سکوئیر سے باچاخان چوک تک اور دوسری جانب ملک سعد فلائی اوور کے سارے پانی کی جو گزرگاہ بنائی گئی ہے اس کی تعمیر سے لیکر اب تک اگر ایک با ربھی اس کی مکمل صفائی کا کوئی دعویدا ر سامنے آئے تو اسے عوام خدمت کا میڈل دیا جانا چاہیئے ۔ اگر ہم صوبائی اسمبلی اور سول سکریٹریٹ و دیگر اہم ترین سرکاری دفاتر اور عمارات سے چند گز کے فاصلے پر ایک چوک میں نکاسی آب کا معقول اور مستقل بند وبست تک نہیں کر سکتے اور ہر حکومت کی مشینری اس میں ناکام رہتی ہے تو کیا یہ بلند و بانگ دعوے ہمیں زیب دیتے ہیں ۔ جس طرح کی صورتحال خیبر پختونخوا اور صوبائی دارالحکومت پشاور میں ہے اس طرح کی صورتحال تو ملک میں کہیں بھی نہیں صوبہ پنجاب میں خیبر پختونخوا سے مون سون کی بارشیں زیادہ ہوتی ہیں وہاں مسائل پیدا ہوتے ہیں لیکن سرکاری عملہ ہی سڑکوں پر مقدور بھر سعی میں نہیں لگا ہوتا بلکہ معمر وزیر اعلیٰ بھی ساری مصروفیات چھوڑکر اس کام کو اولیت دے کر اسی میں جت جاتا ہے۔ بہر حال تقابل مطلوب نہیں تو جہ دلانا مقصود ہے کہ ناقص انتظامات کی بجائے مستقل حل تلاش کیا جائے اور کم از کم جو نیم قسم کے انتظامات او ربندوبست موجود ہے اسے تو کیچڑ اور کچرے سے صاف رکھا جائے ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے تقریباً چھ ماہ قبل صوبے میں پلاسٹک تھیلوں کی تیاری کرنے والے کارخانوں پر پابندی لگادی گئی تھی مگر عالم یہ ہے کہ کارخانے بھی چل رہے ہیں متبادل انتظام کیلئے دی گئی سہ ماہی مدت بھی گزر گئی مگر نالیوں کی بندش کا سبب بننے والی یہ سب سے بڑی وجہ دورنہ ہوسکی گوکہ صرف پلاسٹک کی تھیلیاں ہی مسئلہ نہیں لیکن بنیادی رکاوٹ اور فسادکی جڑ یہی قرار پاتی ہیں۔ اگر ابتدائی طور پر اس مسئلے کا حل اس پابندی کے اعلان کو عملی جامہ پہنا کر قرار دیا جائے نالیوں سے کچرا اور کیچڑ ہٹا کر مون سون کی اگلی بارش میں نتائج دیکھے جائیں تو حوصلہ افزاء نہ بھی ہوں مایوس کن تو نہیں ہوں گے ۔ مون سون کے موسم میں شدید بارشوں کے باعث مکانات گرنے اور خاص طور پر سیلابوں کا خطرہ ہر سال درپیش ہوتا ہے ۔ گزشتہ کئی سال سے اس موسم میں دریاؤں اور پہاڑی نالوں میں طغیانی آتی ہے۔ تیز آندھیاں چلتی ہیں جن سے بڑے بڑے ہورڈنگز زمین بوس ہو جاتے ہیں' درخت ٹوٹ جاتے ہیں ' بجلی کی سپلائی لائنوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس موسم میں شدید سیلاب بھی آتے ہیں جن کے باعث دریاؤں کے قریب آباد لوگوں کو منتقل کیا جاتا ہے اور ان کے لیے سایہ ' خوراک ' پانی اور دوائیاں ' ان کے مویشیوں کے لیے چارے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ جس کے پیش نظر حکومت اور بلدیاتی اداروں کے ارکان کو ابھی سے پیش بندی کر لینی ہوتی ہے حکام کو جائزہ لینا ہوتا ہے کہ شہریوں کو ابتلا سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا کیا اقدام کئے جائیں حالات کے تقاضوں کے تحت نکاسی آب کے لیے گندے پانی کی گزر گاہوں کو صاف اوربجلی کی سپلائی لائنوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر اقدامات پر نظر دوڑائی جاتی ہے۔ محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان مستقل رابطہ کا انتظام کیا جاتا ہے تاکہ موسم کی متوقع تباہ کاری اور اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے وسائل کا اندازہ بروقت لگایاجاسکے۔ مگر جب وقت آتا ہے تو عقدہ کھلتا ہے کہ صوبائی حکومت اس کے محکمے اور آفات سے نمٹنے کیلئے قائم کردہ سبھی ادارے کی کوئی تیاری نہیں تھی جس کے باعث شہرمیں ایک ہڑ بونگ مچتی ہے اور نتیجہ کچھ بھی نہیں آتا۔ اگر بروقت منصوبہ بندی کرنے کا رواج ہو اور صورتحال کا ادراک کے ساتھ تیاری رکھنے کا عمل ایک بار شروع کیا جائے تو اس کی افادیت خود بخود ثابت ہو جائے گی اور آئندہ بھی اس تجربے کو دہرایا جا سکتا ہے ۔ مگر یہا ں عالم یہ ہے کہ سار ا جگ ہی سویا پڑا ہوتا ہے ۔ آخر بنیادی مسئلے سے آگاہی کے باوجود بار بار ہم اس کے حل میں ناکام کیوں رہتے ہیں ۔ کیا نالیوں کی صفائی کو بھی سی پیک منصوبے میں شامل کر نے کا انتظار ہے ۔ اگر اس وقت حکومتی اقدامات اور بلدیاتی انتظامات اور منصوبہ بندی کا یہ عالم ہے تو صوبائی دارالحکومت پشاور میں جو ریپڈ بس سروس منصوبہ بنے گا اور میلوں طویل پلوں کا پانی اترے گا تو کیا یہ سیلاب بلا اس شہر کوہی بہا کر نہیں لے جائے گا ؟وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک وزیر آبپاشی وزیر بلدیات پی ڈی اے اور ڈبلیوایس ایس پی کے حکام اور متعلقہ عملہ اگر اس مسئلے پر ایک مشاورتی اجلاس منعقد کر کے تجویز کردہ اقدامات پر ایمانداری جا نفشانی اور تسلسل کے ساتھ عمل در آمد کرانے کی ذمہ داری نبھائیں تو آئے روز کی خجالت اور عوام کی مشکلات دونوں کی نوبت نہیں آئے گی ۔ کیا کسی صوبائی حکومت ، محکمہ اور ادارے کو اب یہ بھی بتانے کی ضرورت باقی ہے کہ وہ نالیوں کی صفائی کر ا کے شہریوں کی مشکلات میں بآسانی کمی لا سکتا ہے ۔ شہرکی سڑکوں پر گٹر کا جو کالا کیچڑ اب گاڑیوں کے ٹائروں اور سیلز وں سے نکلنے والے ہوا کے دبائو کے باعث اڑ کر پورے شہر پر غلاظت کی بو کی چادر لئے تن چکا ہے اس کا تو کوئی علاج نہیں لیکن سڑکوں کی صفائی پر تو کم از کم توجہ دی جائے ۔

متعلقہ خبریں