دوران چھٹی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کا قتل

دوران چھٹی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کا قتل

آئے روز قبائلی علاقوں میں بالخصوص اور بعض بندوبستی و دیگر علاقوں میں بالعموم سیکورٹی فورسز کے مختلف اداروں کے چھٹی پر آئے ہوئے اہلکاروں کو باہر بلا کر یا باہر نکلنے پر پر اسرار طریقے سے نشانہ بنانے کا عمل تسلسل سے سامنے آیا ہے ۔ذاتی دشمنی یا کسی اور تنازعے کا امکان تو ہر جگہ رہتا ہے لیکن ایک تو اتر سے جاری اس عمل میں کسی منظم گروہ کا ہاتھ نظر آتا ہے جس کا مقصد سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کوایک ایسی جگہ اور صورتحال میں نشانہ بنائے کہ ان کو نشانہ بنائے جانے پر دہشت گردی کی واردات ہونے کا شبہ کم سے کم ہو۔ پر اسرار حالات میںنشانہ بنائے جانے پر فورسز کے جوان کو شہید پیکج اور ان کے اہل خانہ سرکاری مراعات سے بھی محروم رہے ۔ کسی اہلکار کو اس طرح نشانہ بنانے کا اقدام با سانی ممکن بھی ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس طرح کے اقدام کیلئے کسی مقامی شخص اور گھر کے بھیدی کی مدد درکار ہوتی ہے۔ کیا ایسا تو نہیں کہ دہشت گردوں کے سہولت کار اب بھی اس معاشرے میں چھپے بیٹھے ہیں اس صورتحال میں جہاں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو دوران چھٹی بھی حد دجہ احتیاط کی ضرورت ہے وہاں ان علاقوں میں خفیہ اداروں کی جانب سے ان معاملات پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے ۔ سیکورٹی کے فورسز کے جو اہلکار چھٹی پر جانے والے ہوں ان کو دوران تعطیل خاص طور پر احتیاط کی ہدایت کے ساتھ اُن کو عام میل جول سے خصوصی طور پر احتیاط برتنے کا مشورہ دیا جانا چاہیئے ۔علاوہ ازیں صورتحال پر غور کر کے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کر کے اُس پر عمل در آمد کرانے کی ضرورت ہے ۔سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو حالات کے پیش نظر خود حفاظتی اقدامات سے غافل نہیں ہونا چاہیئے اور اپنے تحفظ کے لئے اگر اُن کو ہر وقت مسلح رہنے کی ضرورت پڑے تو اس میں بھی مضائقہ نہیں ۔
لیڈی سمگلروں کی دیدہ دلیری
تھانہ حیات آباد کی حدود میں لیڈی سمگلروں کے کسٹم عملے پر حملے سے ان کی دیدہ دلیری اور بزور قوت سمگلنگ کا مال پہنچا نے کی سعی بخوبی واضح ہے ۔ حیات آباد کے شہری علاقے میں سڑکوں پرسمگلروں کی تیز رفتاری کے ساتھ دوڑتی گاڑیوں کے باعث ٹریفک حادثات اور لوگوں کے جان ومال کو خطرات لاحق ہونا فطری امر ہے مگر اس کے باوجود علاقہ پولیس کا ان سے تعرض نہ کرنا معنی خیز ہے ۔ تھانہ حیات آباد کو دبئی قرار دے کر ہر پولیس اہلکار یہاں تقرری کیلئے تگ ود و ہی شاید اس لئے کرتا ہے کہ یہاں مال بنانے کے مواقع کی کمی نہیں جس پولیس اہلکار کو مال حرام سے غرض نہ ہو اس کیلئے اس تھانے کی تقرری بھی عبث ہونا فطری امر ہوگا ۔ پولیس حکام تھانہ حیات آباد میں خواہش اور سفارش کی بجائے دیانتدارافراد کا میرٹ پر تقررکریں تو شاید صورتحال میں بہتری آئے ۔خیبر پختونخوا کے آئی جی صلاح الدین محسود اور پولیس کے دیگر حکام کو اس مسئلے پر غور کرنے اور حیات آباد کے عوام کو تحفظ کی فراہمی میں تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں