شہدائے پولیس کی یاد اور قیام امن

شہدائے پولیس کی یاد اور قیام امن

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا جناب صلاح الدین نے گزشتہ روز پشاور کے کالم نگاروں سے بعض مسائل پر گفتگو کا ڈول ڈالا۔ان کی نمائندگی ایڈیشنل آئی جی پی جناب محمد اشر ف نور نے کی اس ملاقات کا بنیادی مقصد دہشت گردی سے متاثر ہونے والے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہدائے پولیس کی یاد میں 4اگست سے منائے جانے والے ہفتہ شہداء کی تقریبات پر تبادلہ خیال تھا تاکہ شہدائے پولیس کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی تجاویز پر بحث کی جائے جن سے نہ صرف عوام اور پولیس کو ایک دوسرے سے قریب لایا جائے اور ان میں تعاون کی بہتر فضا قائم کی جائے بلکہ اس حوالے سے اگر عوامی سطح پر کچھ تحفظات ہوں تو انہیں بھی دور کیا جاسکے۔ ہمارے ایک ساتھی کالم نگار اور پولیس سروس کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر فصیح الدین اشرف جو ان دنوں پولیس ٹریننگ سکول کے سربراہ ہیں بھی اس موقع پر موجود تھے اور ضروری معلومات کی فراہمی میں تعاون کر رہے تھے۔ ایڈ یشنل آئی جی پی نے بتایا کہ ہفتہ شہداء کے آغاز کے لئے 4اگست کا دن اس لئے مقرر کیاگیا ہے کہ اس روز ایک سینئر پولیس افسر صفوت غیور شہید ہوئے تھے۔ اسی طرح ملک سعد شہید اور دیگر کئی پولیس افسر اور اہلکاروں نے جام شہادت نوش کرکے دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا اور پولیس سروس کے ساتھ وابستہ لوگوں میں ملک و قوم کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کا جذبہ مستحکم کیا۔ اس موقع پر ایک تجویز یہ سامنے آئی کہ سکولوں کے بچوں کو پولیس کے شہداء کے کارناموں سے با خبر رکھنے کے لئے ٹیکسٹ بک بورڈز کے تحت چھپنے والی درسی کتابوں میں اس حوالے سے اسباق شامل کرانے پر غور کیا جائے کیونکہ جس طرح افواج پاکستان کے شہدا کے تذکرے سے ان کی یادیں روشن کی جا رہی ہیں اسی طرح پولیس کے شہداء کی یاد بھی قوم کے بچوں کے سامنے لا کر ان کے تذکروں کو محفوظ کیا جائے اور نئی نسل کو یہ بات ذہن میں بٹھائی جائے کہ پولیس اہلکار بھی ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سر شار یہ بات ہر لمحہ پیش نظر رکھتے ہیں کہ

خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
اس موقع پر ڈاکٹر فصیح الدین اشرف نے بتایا کہ ہم نے وطن پر شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے بچوں کو براہ راست اے ایس آئی کے عہدوں پر بھرتی کرکے ان کی بہترین طور سے تربیت کا بندوبست کیا ہے اور اس وقت 260 جوان تربیت کے مراحل سے گزر رہے ہیں اور انشاء اللہ تربیت مکمل ہونے کے بعد یہ تمام جوان اپنی ذمہ داریاں سنبھال کر اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کریں گے۔ اس موقع پر ایک سوال سامنے آیا کہ شہدائے پولیس کے اہل خاندان اپنے حقوق کے حصول کے لئے پولیس لائن میں ٹھوکریں کھاتے دکھائی دیتے ہیں اور ان کے ساتھ حکومت کے کئے گئے وعدوں کے برعکس خود پولیس سے ہی تعلق رکھنے والے بعض لوگ انہیں کبھی ایک دفتر اور کبھی دوسرے دفتر کی راہ دکھاتے ہیں جبکہ متعلقہ پولیس ملازموں کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ کبھی وہ بھی ریٹائر ہوسکتے ہیں یا پھر اگر دنیا سے رخصت ہو جائیں تو ان کے اہل خاندان کے ساتھ بھی آنے والے دنوں میں ایسا ہی سلوک روا رکھا جاسکتاہے۔ اس پر آئی جی پی نے وعدہ کیا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے اور شہداء کے اہل خاندان کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے ضروری اقدام کریں گے۔ اس پر تو آئی جی پی سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ
باراں کی طرح لطف و کرم عام کئے جا
آیا ہے جو دنیا میں تو کچھ کام کئے جا
اس موقع پر بتایا گیا کہ اس سے پہلے یوم شہدائے پولیس کے حوالے سے مرکزی سطح پر تقریب منعقد کی جاتی تھی جس میں عدم شرکت کے حوالے سے صوبے کے دیگر علاقوں کے پولیس سروس کے لوگوں کو شکوے شکایتیں تھیں اس لئے اب یہ فیصلہ کیاگیا کہ یہ تقریبات صوبائی سطح پر ہر ریجن میں منعقد کی جائیں اورمختلف اضلاع میں وہاں کے کمشنر صاحبان کی سربراہی میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔ ان میں سکولوں کی سطح پر طلباء و طالبات کے مابین تقریری مقابلے اور دیگر تقریبات جن میں سیمینارز وغیرہ شامل ہیں منعقد کرائے جائیں۔ پشاور میں اس سلسلے میں اہم تقریبات انعقاد پذیر ہوں گی جن میں مشاعرہ بھی شامل ہوگا۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر فصیح الدین کو ایڈیشنل آئی جی پی نے پشاور کے اہل قلم سے رابطہ قائم کرنے کی ہدایت کی اور تقریبات کو بہترین انداز میں ترتیب دینے کو کہا۔ دوران گفتگو ایک جانب سے پولیس اہلکاروں کی قربانیوں اور خصوصاً جس طرح پولیس کے اہلکار سخت گرمی' شدید سردی اور دوسرے موسموں میں مختلف چوکوں' سڑکوں اور شاہراہوں پر موسمی شدائد سے بے پرواہ اپنی ڈیوٹی انجام دیتے اور ہر قسم کے حالات سے نبرد آزما رہتے ہیں ان پر پولیس سروس کی تحسین کی گئی۔ یہ لوگ اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے کمر بستہ رہ کر امن کے قیام میں دن رات مصروف رہتے ہیں اور انہی کی وجہ سے عوام چین کی نیند سوتے ہیں۔ تاہم اس بات پر بھی گفتگو کی گئی کہ اتنے اقدامات کے باوجود وارداتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ اس قسم کی ملاقاتوں سے صوبے میں امن و امان کے حوالے سے مثبت اقدامات کرنے پر مزید گفتگو کے بہترین نتائج برآمد ہوں گے۔
آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

متعلقہ خبریں